اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 69 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگز نے ریلوے کنٹرول سینٹر کے فیصلوں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہسپانوی ذرائع ابلاغ میں جاری ہونے والی ریکارڈنگز میں دونوں ٹرین کے ڈرائیوروں اور میڈرڈ میں قائم کنٹرول سینٹر کے درمیان حادثے سے پہلے ہونے والی گفتگو سنی جاسک
اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 69 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگز نے ریلوے کنٹرول سینٹر کے فیصلوں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہسپانوی ذرائع ابلاغ میں جاری ہونے والی ریکارڈنگز میں دونوں ٹرین کے ڈرائیوروں اور میڈرڈ میں قائم کنٹرول سینٹر کے درمیان حادثے سے پہلے ہونے والی گفتگو سنی جاسک
اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 69 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگز نے ریلوے کنٹرول سینٹر کے فیصلوں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہسپانوی ذرائع ابلاغ میں جاری ہونے والی ریکارڈنگز میں دونوں ٹرین کے ڈرائیوروں اور میڈرڈ میں قائم کنٹرول سینٹر کے درمیان حادثے سے پہلے ہونے والی گفتگو سنی جاسکتی ہے۔ ریکارڈنگز کے مطابق خودکار سگنلنگ نظام میں خرابی کے باعث ٹرینوں کو روک دیا گیا تھا۔ اس دوران نجی کمپنی ایریو کی ایک ٹرین پٹری پر کھڑی تھی جبکہ اس کے پیچھے آنے والی سرکاری کمپنی رینفے کی ٹرین کو دوبارہ سفر شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ آڈیو میں رینفے ٹرین کا ڈرائیور معمول کی رفتار سے آگے بڑھنے کی ہدایت کی تصدیق کرتا سنائی دیتا ہے۔ دوسری جانب ایریو ٹرین کا ڈرائیور کنٹرول سینٹر کو بتاتا ہے کہ ٹرین کا حفاظتی نظام کام نہیں کر رہا اور گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ریکارڈنگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ رینفے ٹرین کے قریب پہنچنے سے پہلے کنٹرول سینٹر کو دوسری ٹرین کے رکے رہنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ حادثے کی اصل وجہ اور ذمہ داری کا تعین تفتیش کے بعد ہوگا۔ ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے پہلے ہی ٹرین کو رفتار کی پابندی کے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو ناقابلِ فہم قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں حادثے پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ ٹرین ڈرائیوروں نے ریلوے تحفظ کے لیے ہڑتال بھی کی ہے۔ The development underscores the growing complexity of the situation.
What Happens Next
The events outlined in this report highlight the complexity and significance of the broader issue at hand. Stakeholders, policymakers, and the public are expected to closely monitor what comes next.
اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 69 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگز نے ریلوے کنٹرول سینٹر کے فیصلوں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہسپانوی ذرائع ابلاغ میں جاری ہونے والی ریکارڈنگز میں دونوں ٹرین کے ڈرائیوروں اور میڈرڈ میں قائم کنٹرول سینٹر کے درمیان حادثے سے پہلے ہونے والی گفتگو سنی جاسکتی ہے۔ ریکارڈنگز کے مطابق خودکار سگنلنگ نظام میں خرابی کے باعث ٹرینوں کو روک دیا گیا تھا۔ اس دوران نجی کمپنی ایریو کی ایک ٹرین پٹری پر کھڑی تھی جبکہ اس کے پیچھے آنے والی سرکاری کمپنی رینفے کی ٹرین کو دوبارہ سفر شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ آڈیو میں رینفے ٹرین کا ڈرائیور معمول کی رفتار سے آگے بڑھنے کی ہدایت کی تصدیق کرتا سنائی دیتا ہے۔ دوسری جانب ایریو ٹرین کا ڈرائیور کنٹرول سینٹر کو بتاتا ہے کہ ٹرین کا حفاظتی نظام کام نہیں کر رہا اور گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ریکارڈنگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ رینفے ٹرین کے قریب پہنچنے سے پہلے کنٹرول سینٹر کو دوسری ٹرین کے رکے رہنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ حادثے کی اصل وجہ اور ذمہ داری کا تعین تفتیش کے بعد ہوگا۔ ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے پہلے ہی ٹرین کو رفتار کی پابندی کے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو ناقابلِ فہم قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں حادثے پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ ٹرین ڈرائیوروں نے ریلوے تحفظ کے لیے ہڑتال بھی کی ہے۔ The development underscores the growing complexity of the situation.
What Happens Next
The events outlined in this report highlight the complexity and significance of the broader issue at hand. Stakeholders, policymakers, and the public are expected to closely monitor what comes next.
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment