ریاض: سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قوانین کی خلاف ورزیوں پر 13 ہزار 357 افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ 8 ہزار 875 غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کردیا گیا۔ سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 22 سے 28 اکتوبر 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 6 ہزار 880 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 500 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزا
ریاض: سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قوانین کی خلاف ورزیوں پر 13 ہزار 357 افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ 8 ہزار 875 غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کردیا گیا۔ سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 22 سے 28 اکتوبر 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 6 ہزار 880 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 500 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزا
In what many are calling a critical development, ریاض: سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قوانین کی خلاف ورزیوں پر 13 ہزار 357 افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ 8 ہزار 875 غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کردیا گیا۔ سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 22 سے 28 اکتوبر 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 6 ہزار 880 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 500 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار977 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ’ غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 446 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ مزید 37 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 12 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی عرب میں حملوں کا خدشہ، امریکی مشن کا اہم اقدام سعودی وزارت داخلہ کے مطابق ’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ‘ Stakeholders across the nation are closely monitoring the situation.
What Happens Next
The events outlined in this report highlight the complexity and significance of the broader issue at hand. Stakeholders, policymakers, and the public are expected to closely monitor what comes next.
In what many are calling a critical development, ریاض: سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قوانین کی خلاف ورزیوں پر 13 ہزار 357 افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ 8 ہزار 875 غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کردیا گیا۔ سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 22 سے 28 اکتوبر 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 6 ہزار 880 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 500 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار977 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ’ غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 446 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ مزید 37 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 12 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی عرب میں حملوں کا خدشہ، امریکی مشن کا اہم اقدام سعودی وزارت داخلہ کے مطابق ’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ‘ Stakeholders across the nation are closely monitoring the situation.
What Happens Next
The events outlined in this report highlight the complexity and significance of the broader issue at hand. Stakeholders, policymakers, and the public are expected to closely monitor what comes next.
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment