اسلام آباد: رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے کہا ہے کہ گھر کا سونا بیچنے پر بھی 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نئے ٹیکسز کے نفاذ، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے متعلق مختلف پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں پر بحث و مباحثے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تجزی
اسلام آباد: رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے کہا ہے کہ گھر کا سونا بیچنے پر بھی 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نئے ٹیکسز کے نفاذ، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے متعلق مختلف پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں پر بحث و مباحثے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تجزی
A major development emerged this week as اسلام آباد: رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے کہا ہے کہ گھر کا سونا بیچنے پر بھی 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نئے ٹیکسز کے نفاذ، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے متعلق مختلف پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں پر بحث و مباحثے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے اس مسئلے پر اپنا مفصل تجزیہ پیش کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔ سونے پر کیپٹل گین ٹیکس انہوں نے سونے کی فروخت پر عائد 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس پر بھی سوالات اٹھائے، ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاندان کے پاس کئی سال پہلے خریدا گیا یا وراثت میں ملا سونا موجود ہے اور وہ اسے فروخت کرنا چاہتا ہے تو اتنی بلند شرح سے ٹیکس عائد کرنا سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔ زیادہ ٹیکس، کم ٹرانزیکشنز اور کم ریونیو ٹیکس سے متعلق کیے گئے ایک سوال پر ایس ملک نے جائیداد کے شعبے میں عائد مختلف ٹیکسوں، خصوصاً سیکشن 236 سی اور 236 کے کے اثرات کے بارے میں کہا کہ ٹیکسوں میں اضافے کے باعث جائیداد کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف لین دین ہی کم نہیں ہوا بلکہ حکومت کی آمدنی بھی متاثر ہوئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے حاصل ہونے والا سرکاری ریونیو تقریباً 29 سے 35 فیصد تک کم ہوا ہے، جس کے بعد ہی حکومت کو اس شعبے کی اہمیت کا احساس ہوا۔ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر کو ’ غیر پیداواری شعبہ ‘ قرار دے کر نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں سست روی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جب کاروباری حلقے اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد مسلسل حکومت کو اس شعبے کی اہمیت سے آگاہ کر رہے تھے، اس وقت بیورو کریسی، ایف بی آر اور بعض حکومتی حلقے اسے غیر پیداواری شعبہ قرار دے رہے تھے، تاہم اب حکومت نے ہاؤسنگ فنانس اور دیگر پالیسیوں میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو ملک میں موجود سرمایہ مختلف شعبوں، بشمول سونا، کرپٹو کرنسی اور دیگر سرمایہ کاری ذرائع سے نکل کر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر میں منتقل ہوسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار نے تجویز دی کہ پرانے اور پہلے سے ظاہر شدہ اثاثوں پر ٹیکس کی شرح کم کی جائے تاکہ لوگ اپنے اثاثے فروخت کرکے سرمایہ معیشت کے پیداواری شعبوں میں لگا سکیں۔ رئیل اسٹیٹ ماہر نے کہا کہ دنیا بھر میں تعمیراتی شعبے کو معاشی ترقی کا اہم محرک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے درجنوں دیگر صنعتیں وابستہ ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق تعمیرات کے شعبے کی ترقی سے سیمنٹ، سریا، ٹائلز، الیکٹرک کا سامان، پینٹ، لکڑی، فرنیچر اور ٹرانسپورٹ سمیت تقریباً 45 سے 55 صنعتوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہاؤسنگ فنانس، قرضوں کی فراہمی اور ٹیکسوں میں حقیقی ریلیف دیتی ہے تو 4 فیصد معاشی شرح نمو کے حصول میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر پالیسی ایس ملک نے خبردار کیا کہ اگر ایک طرف کچھ ٹیکس ختم کیے جائیں اور دوسری طرف نئے ٹیکس نافذ کر دیے جائیں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو واضح اور مستقل پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کو مکمل اور مؤثر ریلیف دیا گیا تو ملک میں ویسی ہی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے جیسی 2019 اور 2020 کے دوران دیکھی گئی تھی، جس سے روزگار، سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبہ پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بجٹ میں دی جانے والی مراعات اگر مؤثر انداز میں نافذ کی گئیں تو نہ صرف حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہوگا۔
What Comes Next
What this development ultimately means remains to be seen. But its significance — both in the immediate term and over the longer horizon — is already being felt by those involved and those watching from the outside.
A major development emerged this week as اسلام آباد: رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے کہا ہے کہ گھر کا سونا بیچنے پر بھی 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نئے ٹیکسز کے نفاذ، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے متعلق مختلف پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں پر بحث و مباحثے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے اس مسئلے پر اپنا مفصل تجزیہ پیش کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔ سونے پر کیپٹل گین ٹیکس انہوں نے سونے کی فروخت پر عائد 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس پر بھی سوالات اٹھائے، ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاندان کے پاس کئی سال پہلے خریدا گیا یا وراثت میں ملا سونا موجود ہے اور وہ اسے فروخت کرنا چاہتا ہے تو اتنی بلند شرح سے ٹیکس عائد کرنا سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔ زیادہ ٹیکس، کم ٹرانزیکشنز اور کم ریونیو ٹیکس سے متعلق کیے گئے ایک سوال پر ایس ملک نے جائیداد کے شعبے میں عائد مختلف ٹیکسوں، خصوصاً سیکشن 236 سی اور 236 کے کے اثرات کے بارے میں کہا کہ ٹیکسوں میں اضافے کے باعث جائیداد کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف لین دین ہی کم نہیں ہوا بلکہ حکومت کی آمدنی بھی متاثر ہوئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے حاصل ہونے والا سرکاری ریونیو تقریباً 29 سے 35 فیصد تک کم ہوا ہے، جس کے بعد ہی حکومت کو اس شعبے کی اہمیت کا احساس ہوا۔ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر کو ’ غیر پیداواری شعبہ ‘ قرار دے کر نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں سست روی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جب کاروباری حلقے اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد مسلسل حکومت کو اس شعبے کی اہمیت سے آگاہ کر رہے تھے، اس وقت بیورو کریسی، ایف بی آر اور بعض حکومتی حلقے اسے غیر پیداواری شعبہ قرار دے رہے تھے، تاہم اب حکومت نے ہاؤسنگ فنانس اور دیگر پالیسیوں میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو ملک میں موجود سرمایہ مختلف شعبوں، بشمول سونا، کرپٹو کرنسی اور دیگر سرمایہ کاری ذرائع سے نکل کر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر میں منتقل ہوسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار نے تجویز دی کہ پرانے اور پہلے سے ظاہر شدہ اثاثوں پر ٹیکس کی شرح کم کی جائے تاکہ لوگ اپنے اثاثے فروخت کرکے سرمایہ معیشت کے پیداواری شعبوں میں لگا سکیں۔ رئیل اسٹیٹ ماہر نے کہا کہ دنیا بھر میں تعمیراتی شعبے کو معاشی ترقی کا اہم محرک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے درجنوں دیگر صنعتیں وابستہ ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق تعمیرات کے شعبے کی ترقی سے سیمنٹ، سریا، ٹائلز، الیکٹرک کا سامان، پینٹ، لکڑی، فرنیچر اور ٹرانسپورٹ سمیت تقریباً 45 سے 55 صنعتوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہاؤسنگ فنانس، قرضوں کی فراہمی اور ٹیکسوں میں حقیقی ریلیف دیتی ہے تو 4 فیصد معاشی شرح نمو کے حصول میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر پالیسی ایس ملک نے خبردار کیا کہ اگر ایک طرف کچھ ٹیکس ختم کیے جائیں اور دوسری طرف نئے ٹیکس نافذ کر دیے جائیں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو واضح اور مستقل پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کو مکمل اور مؤثر ریلیف دیا گیا تو ملک میں ویسی ہی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے جیسی 2019 اور 2020 کے دوران دیکھی گئی تھی، جس سے روزگار، سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبہ پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بجٹ میں دی جانے والی مراعات اگر مؤثر انداز میں نافذ کی گئیں تو نہ صرف حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہوگا۔
آگے کیا آتا ہے۔
اس ترقی کا آخر کار کیا مطلب ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔ لیکن اس کی اہمیت - فوری طور پر اور طویل افق دونوں میں - اس میں ملوث افراد اور باہر سے دیکھنے والوں کی طرف سے پہلے ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment