وہ خوش رو اور خوش پوش نوجوان، جو ایک سیاسی پارٹی کے مرکزی دفتر میں بیٹھا نیند سے بوجھل مگر پُرعزم آنکھوں سے کونسلر بننے کے خواب بن رہا تھا، سیاست کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس کے ماتھے پر سچی عوامی خدمت کی چمک تھی اور دل میں معاشرے کو بدلنے کا ایک والہانہ جذبہ۔ وہ گھنٹوں پارٹی کے جھنڈے لگاتا، نعرے گنجاتا اور گلی محلوں میں جا کر لوگوں کو ایک نئے اور شفاف
وہ خوش رو اور خوش پوش نوجوان، جو ایک سیاسی پارٹی کے مرکزی دفتر میں بیٹھا نیند سے بوجھل مگر پُرعزم آنکھوں سے کونسلر بننے کے خواب بن رہا تھا، سیاست کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس کے ماتھے پر سچی عوامی خدمت کی چمک تھی اور دل میں معاشرے کو بدلنے کا ایک والہانہ جذبہ۔ وہ گھنٹوں پارٹی کے جھنڈے لگاتا، نعرے گنجاتا اور گلی محلوں میں جا کر لوگوں کو ایک نئے اور شفاف
وہ خوش رو اور خوش پوش نوجوان، جو ایک سیاسی پارٹی کے مرکزی دفتر میں بیٹھا نیند سے بوجھل مگر پُرعزم آنکھوں سے کونسلر بننے کے خواب بن رہا تھا، سیاست کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس کے ماتھے پر سچی عوامی خدمت کی چمک تھی اور دل میں معاشرے کو بدلنے کا ایک والہانہ جذبہ۔ وہ گھنٹوں پارٹی کے جھنڈے لگاتا، نعرے گنجاتا اور گلی محلوں میں جا کر لوگوں کو ایک نئے اور شفاف کل کی نوید دیتا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس کی بے غرض راتوں کا جاگنا اور گلیوں کی خاک چھاننا ایک دن رنگ لائے گا اور جمہوری نظام اس کے خلوص کو شرفِ قبولیت بخشے گا، لیکن یہ طلسم کدہ اس وقت یکسر پاش پاش ہوا جب بلدیاتی انتخابات کے ٹکٹ کی تقسیم کا مرحلہ آیا۔ پارٹی کے عالی شان بند کمرے میں، جہاں مہنگی خوشبوؤں اور سرمائے کی مہک رچی بسی تھی، اس مخلص نوجوان کو پتا چلا کہ عوامی خدمت کے اس پورے جمہوری کھیل میں اس کے خلوص، قابلیت اور برسوں کی قربانی کی قیمت صفر ہے۔ کونسلر کا وہ ٹکٹ، جس پر اس کا آئینی اور اخلاقی حق تھا، محلے کے ایک ایسے بدنام جواری اور ٹھیکیدار کو کروڑوں روپے کے پارٹی فنڈ کے عوض بیچ دیا گیا جو چند ماہ پہلے ہی دوسری پارٹی چھوڑ کر آیا تھا۔ اس رات اس نوجوان کی آنکھوں کے سپنے ہی نہیں ٹوٹے، بلکہ اس جدید سیاسی بت کا فریب بھی ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا جسے دنیا جمہوریت کہتی ہے۔ یہ کہانی صرف اس ایک اسد کی نہیں ہے، یہ دنیا بھر میں پھیلے اس جمہوری سراب کی اصل حقیقت ہے جہاں اقتدار کا راستہ عوامی تائید سے نہیں، بلکہ سرمائے کی طاقت سے طے ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جمہوریت اور بدعنوانی کا یہ گٹھ جوڑ صرف تیسری دنیا یا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ ہے، جہاں اخلاقی قدریں پامال اور ادارے کم زور قرار دیے جاتے ہیں۔ روایتی دانشور اور کالم نگار اکثر یہ راگ الاپتے نظر آتے ہیں کہ اگر عوام باشعور ہو جائیں اور ادارے مضبوط ہوں تو جمہوریت دودھ کی طرح دھل جاتی ہے، لیکن اگر ہم حالیہ عالمی سیاسی اور معاشی اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو یہ مغالطہ برف کی طرح پگھل جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ جمہوریت جتنی ترقی یافتہ ہوتی ہے، سرمائے اور بدعنوانی کا تعلق وہاں اتنا ہی زیادہ گہرا، باریک اور قانونی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ وہاں کی بدعنوانی کسی تھانے یا پٹوار خانے کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ وہ براہِ راست پارلیمنٹ کے ایوانوں میں جنم لیتی ہے۔ مثال کے طور پر، دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکا میں صدارتی اور کانگریس کے انتخابات کے دوران تقریباً سولہ ارب ڈالر کی خطیر رقم پانی کی طرح بہائی گئی، جس نے اسے تاریخ کا مہنگا ترین انتخابی معرکہ بنا دیا۔ وہاں کا تلخ سچ یہ ہے کہ نوے فی صد سے زائد نشستیں صرف وہی امیدوار جیت پاتے ہیں جن کے انتخابی فنڈز کا حجم سب سے زیادہ ہوتا ہے، یعنی عوام کا انتخاب پہلے ہی سرمائے کی چھلنی سے چھن کر آتا ہے۔ دوسری طرف، اگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت یعنی ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے عام انتخابات پر نظر ڈالیں، تو وہاں کے مجموعی معاشی اخراجات ایک لاکھ پینتیس ہزار کروڑ روپے تک جا پہنچے، جو سولہ ارب ڈالر سے بھی زائد کی رقم بنتی ہے۔ یہ دنیا کی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات تھے، جہاں کارپوریٹ سیکٹر پس پردہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرتا ہے تاکہ اقتدار میں آنے والی جماعتیں بعد میں ان کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے موم کی ناک بن جائیں۔ یہ تو صرف انتخابات کا احوال ہے، اگر نظام کو چلانے کے روزمرہ ڈھانچے کو دیکھا جائے تو صرف امریکا میں سالانہ سطح پر ہونے والی کارپوریٹ لابیئنگ کا حجم چار ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتا ہے۔ وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار، اسلحہ ساز کمپنیاں اور بڑی فارماسیوٹیکل کارپوریشنز اسی سرمائے کے بل بوتے پر اراکین پارلیمنٹ کو قانونی طور پر اپنے حق میں رام کرتی ہیں اور ایسے قوانین بنواتی ہیں جو براہِ راست عوام کا خون چوستے ہیں۔ یہ بدعنوانی کی وہ مہذب شکل ہے جسے جمہوریت کا آئینی حسن کہہ کر دنیا کو بیچا جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ جمہوریت میں ایک انسان, ایک ووٹ کا تصور محض ایک خوبصورت فریب اور بچوں کو بہلانے والا کھلونا ہے۔ اصل حقیقت ایک ڈالر، ایک ووٹ یا یک روپیہ، ایک ووٹ ہے۔ جب تک کوئی امیدوار یا جماعت اربوں روپے کے سرمائے کی منڈی سے نہیں گزرتی، وہ جمہوری نظام کے ایوانوں میں داخل ہی نہیں ہو سکتی۔ اس مروجہ بدعنوانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں سطحی سیاسی نعروں سے بلند ہو کر گہرائی میں اترنا ہوگا۔ جمہوریت کوئی غیر جانب دار، مقدس یا آزاد سیاسی نظام نہیں ہے، بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا لازمی اور نامیاتی سیاسی بازو ہے۔ سرمایہ داری کا بنیادی ہدف'سرمائے کا لامتناہی پھیلاؤ اور اس کا ارتکاز ہے۔ اس پھیلاؤ کے لیے ایک ایسے معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے جو قانونی طور پر سرمائے کے تحفظ کو یقینی بنائے اور عوام کو یہ احساس دلائے کہ وہ خود اس نظام کے فیصلے کر رہے ہیں۔ جمہوریت یہی کام سرانجام دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت فی نفسہ ایک ساختیاتی کرپشن ہے، کیوں کہ اس نظام کی بنیاد ہی الہامی ہدایت اور اللہ کی حاکمیت کو پس پشت ڈال کر انسانی خواہشات یعنی خواہشاتِ نفس اور اکثریتی رائے کو قانون سازی کا منبع تسلیم کرنے پر ہے۔ جب نظام کی بنیاد ہی الہیاتی طور پر فاسد ہو، تو اس سے جنم لینے والی سیاست او ریاست پاکیزہ کیسے ہو سکتی ہے؟ یہیں سے اس نظام کا وہ بھیانک ترین چہرہ سامنے آتا ہے جس کے تحت سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بدولت دنیا بھر کی دولت اور وسائل مرتکز ہو کر چند خاندانوں، بینکوں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے ہاتھوں میں سمٹ گئے ہیں۔ یہ عالمی معاشی استحصال اور دولت کا ہولناک غیر مساوی ارتکاز اس جمہوری نظام کے بغیر ممکن ہی نہ تھا کیونکہ جمہوریت سرمائے کے اس ڈاکے کو مقننہ کے ذریعے قانونی تحفظ اور سماجی قبولیت فراہم کرتی ہے۔ جب قوانین بنانے والے خود سرمائے کی بیساکھیوں پر ایوان میں پہنچتے ہیں، تو وہ The matter has quickly moved to the forefront of national discussion.
The Road Ahead
The situation is far from resolved, and additional details are expected to emerge as the story develops. Officials have indicated that further statements may be forthcoming, and observers will be watching closely.
وہ خوش رو اور خوش پوش نوجوان، جو ایک سیاسی پارٹی کے مرکزی دفتر میں بیٹھا نیند سے بوجھل مگر پُرعزم آنکھوں سے کونسلر بننے کے خواب بن رہا تھا، سیاست کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس کے ماتھے پر سچی عوامی خدمت کی چمک تھی اور دل میں معاشرے کو بدلنے کا ایک والہانہ جذبہ۔ وہ گھنٹوں پارٹی کے جھنڈے لگاتا، نعرے گنجاتا اور گلی محلوں میں جا کر لوگوں کو ایک نئے اور شفاف کل کی نوید دیتا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس کی بے غرض راتوں کا جاگنا اور گلیوں کی خاک چھاننا ایک دن رنگ لائے گا اور جمہوری نظام اس کے خلوص کو شرفِ قبولیت بخشے گا، لیکن یہ طلسم کدہ اس وقت یکسر پاش پاش ہوا جب بلدیاتی انتخابات کے ٹکٹ کی تقسیم کا مرحلہ آیا۔ پارٹی کے عالی شان بند کمرے میں، جہاں مہنگی خوشبوؤں اور سرمائے کی مہک رچی بسی تھی، اس مخلص نوجوان کو پتا چلا کہ عوامی خدمت کے اس پورے جمہوری کھیل میں اس کے خلوص، قابلیت اور برسوں کی قربانی کی قیمت صفر ہے۔ کونسلر کا وہ ٹکٹ، جس پر اس کا آئینی اور اخلاقی حق تھا، محلے کے ایک ایسے بدنام جواری اور ٹھیکیدار کو کروڑوں روپے کے پارٹی فنڈ کے عوض بیچ دیا گیا جو چند ماہ پہلے ہی دوسری پارٹی چھوڑ کر آیا تھا۔ اس رات اس نوجوان کی آنکھوں کے سپنے ہی نہیں ٹوٹے، بلکہ اس جدید سیاسی بت کا فریب بھی ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا جسے دنیا جمہوریت کہتی ہے۔ یہ کہانی صرف اس ایک اسد کی نہیں ہے، یہ دنیا بھر میں پھیلے اس جمہوری سراب کی اصل حقیقت ہے جہاں اقتدار کا راستہ عوامی تائید سے نہیں، بلکہ سرمائے کی طاقت سے طے ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جمہوریت اور بدعنوانی کا یہ گٹھ جوڑ صرف تیسری دنیا یا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ ہے، جہاں اخلاقی قدریں پامال اور ادارے کم زور قرار دیے جاتے ہیں۔ روایتی دانشور اور کالم نگار اکثر یہ راگ الاپتے نظر آتے ہیں کہ اگر عوام باشعور ہو جائیں اور ادارے مضبوط ہوں تو جمہوریت دودھ کی طرح دھل جاتی ہے، لیکن اگر ہم حالیہ عالمی سیاسی اور معاشی اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو یہ مغالطہ برف کی طرح پگھل جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ جمہوریت جتنی ترقی یافتہ ہوتی ہے، سرمائے اور بدعنوانی کا تعلق وہاں اتنا ہی زیادہ گہرا، باریک اور قانونی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ وہاں کی بدعنوانی کسی تھانے یا پٹوار خانے کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ وہ براہِ راست پارلیمنٹ کے ایوانوں میں جنم لیتی ہے۔ مثال کے طور پر، دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکا میں صدارتی اور کانگریس کے انتخابات کے دوران تقریباً سولہ ارب ڈالر کی خطیر رقم پانی کی طرح بہائی گئی، جس نے اسے تاریخ کا مہنگا ترین انتخابی معرکہ بنا دیا۔ وہاں کا تلخ سچ یہ ہے کہ نوے فی صد سے زائد نشستیں صرف وہی امیدوار جیت پاتے ہیں جن کے انتخابی فنڈز کا حجم سب سے زیادہ ہوتا ہے، یعنی عوام کا انتخاب پہلے ہی سرمائے کی چھلنی سے چھن کر آتا ہے۔ دوسری طرف، اگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت یعنی ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے عام انتخابات پر نظر ڈالیں، تو وہاں کے مجموعی معاشی اخراجات ایک لاکھ پینتیس ہزار کروڑ روپے تک جا پہنچے، جو سولہ ارب ڈالر سے بھی زائد کی رقم بنتی ہے۔ یہ دنیا کی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات تھے، جہاں کارپوریٹ سیکٹر پس پردہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرتا ہے تاکہ اقتدار میں آنے والی جماعتیں بعد میں ان کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے موم کی ناک بن جائیں۔ یہ تو صرف انتخابات کا احوال ہے، اگر نظام کو چلانے کے روزمرہ ڈھانچے کو دیکھا جائے تو صرف امریکا میں سالانہ سطح پر ہونے والی کارپوریٹ لابیئنگ کا حجم چار ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتا ہے۔ وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار، اسلحہ ساز کمپنیاں اور بڑی فارماسیوٹیکل کارپوریشنز اسی سرمائے کے بل بوتے پر اراکین پارلیمنٹ کو قانونی طور پر اپنے حق میں رام کرتی ہیں اور ایسے قوانین بنواتی ہیں جو براہِ راست عوام کا خون چوستے ہیں۔ یہ بدعنوانی کی وہ مہذب شکل ہے جسے جمہوریت کا آئینی حسن کہہ کر دنیا کو بیچا جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ جمہوریت میں ایک انسان, ایک ووٹ کا تصور محض ایک خوبصورت فریب اور بچوں کو بہلانے والا کھلونا ہے۔ اصل حقیقت ایک ڈالر، ایک ووٹ یا یک روپیہ، ایک ووٹ ہے۔ جب تک کوئی امیدوار یا جماعت اربوں روپے کے سرمائے کی منڈی سے نہیں گزرتی، وہ جمہوری نظام کے ایوانوں میں داخل ہی نہیں ہو سکتی۔ اس مروجہ بدعنوانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں سطحی سیاسی نعروں سے بلند ہو کر گہرائی میں اترنا ہوگا۔ جمہوریت کوئی غیر جانب دار، مقدس یا آزاد سیاسی نظام نہیں ہے، بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا لازمی اور نامیاتی سیاسی بازو ہے۔ سرمایہ داری کا بنیادی ہدف'سرمائے کا لامتناہی پھیلاؤ اور اس کا ارتکاز ہے۔ اس پھیلاؤ کے لیے ایک ایسے معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے جو قانونی طور پر سرمائے کے تحفظ کو یقینی بنائے اور عوام کو یہ احساس دلائے کہ وہ خود اس نظام کے فیصلے کر رہے ہیں۔ جمہوریت یہی کام سرانجام دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت فی نفسہ ایک ساختیاتی کرپشن ہے، کیوں کہ اس نظام کی بنیاد ہی الہامی ہدایت اور اللہ کی حاکمیت کو پس پشت ڈال کر انسانی خواہشات یعنی خواہشاتِ نفس اور اکثریتی رائے کو قانون سازی کا منبع تسلیم کرنے پر ہے۔ جب نظام کی بنیاد ہی الہیاتی طور پر فاسد ہو، تو اس سے جنم لینے والی سیاست او ریاست پاکیزہ کیسے ہو سکتی ہے؟ یہیں سے اس نظام کا وہ بھیانک ترین چہرہ سامنے آتا ہے جس کے تحت سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بدولت دنیا بھر کی دولت اور وسائل مرتکز ہو کر چند خاندانوں، بینکوں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے ہاتھوں میں سمٹ گئے ہیں۔ یہ عالمی معاشی استحصال اور دولت کا ہولناک غیر مساوی ارتکاز اس جمہوری نظام کے بغیر ممکن ہی نہ تھا کیونکہ جمہوریت سرمائے کے اس ڈاکے کو مقننہ کے ذریعے قانونی تحفظ اور سماجی قبولیت فراہم کرتی ہے۔ جب قوانین بنانے والے خود سرمائے کی بیساکھیوں پر ایوان میں پہنچتے ہیں، تو وہ The matter has quickly moved to the forefront of national discussion.
آگے کی سڑک
صورتحال حل ہونے سے بہت دور ہے، اور کہانی کی ترقی کے ساتھ ساتھ مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ مزید بیانات آنے والے ہیں، اور مبصرین قریب سے دیکھ رہے ہوں گے۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment