اتوار، 14 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

Faiz-ul-Hasan Darzi and "The Tomb of Abu"

فیض الحسن درزی اور "ابو کا مقبرہ”

Faiz-ul-Hasan Darzi and "The Tomb of Abu"

یہ قصّہ شاعرِ مزدور احسان دانش کی کتاب جہانِ دگر میں شامل ہے اور یہ کتاب ان کی زندگی کی کٹھنائیوں، ان کی ادبی سرگرمیوں کی روداد ہی نہیں، بلکہ مختلف علمی و ادبی شخصیات اور شناساؤں کے تذکرے اور ان سے جڑے واقعات بھی سناتی ہے۔ یہ واقعہ فیض الحسن نامی ایک درزی کا ہے جو میرٹھ شہر کا تھا۔ ملاحظہ کیجیے۔ میرٹھ شہر سے باہر کی طرف ایک محلّہ ابو کا مقبرہ ہے۔ ی

یہ قصّہ شاعرِ مزدور احسان دانش کی کتاب جہانِ دگر میں شامل ہے اور یہ کتاب ان کی زندگی کی کٹھنائیوں، ان کی ادبی سرگرمیوں کی روداد ہی نہیں، بلکہ مختلف علمی و ادبی شخصیات اور شناساؤں کے تذکرے اور ان سے جڑے واقعات بھی سناتی ہے۔ یہ واقعہ فیض الحسن نامی ایک درزی کا ہے جو میرٹھ شہر کا تھا۔ ملاحظہ کیجیے۔ میرٹھ شہر سے باہر کی طرف ایک محلّہ ابو کا مقبرہ ہے۔ یہ مقبرہ کبھی تو جنگل کے پہلو میں قبرستان کا جزو ہوگا لیکن اب آبادی نے بڑھ کے اسے ساتھ لگا لیا ہے اور وہ میرٹھ کا اچھا گنجان حصّہ ہے جیسے عموماً آبادیاں قبرستان کی طرف بڑھ جاتی ہیں۔ اس محلّے میں ایک بڑا ہی نیک سیرت درزی رہتا تھا۔ اگرچہ درزی کے ساتھ نیک سیرت کا لفظ بڑا ہی انمل، بے جوڑ قسم کا پیوند ہے لیکن میں نے اپنی عمر میں بعض بعض درزیوں کو بڑا ہی متقی و پرہیزگار اور سر بسر اخلاق پایا ہے۔ جن میں ماسٹر عبدالغفور جس کا ذکر میں اپنی اس کتاب کی پہلی جلد میں کر چکا ہوں، اس کے علاوہ ماسٹر محمد ظفر جو آج کل راولپنڈی میں ہیں اور آزادی ملک سے پہلے گورداسپور میں تھے اور ان کے پاس امرتسر تک کے گاہک جاتے تھے۔ راولپنڈی ہی میں ایک صاحب آغا نور الدین درانی ہیں، ان کی تعریف بھی میں نے اکثر لوگوں سے سنی ہے اور دیکھنے کے لیے ان کے ایک دوست سید ہمایوں شفیق کے ساتھ راولپنڈی بھی گیا ہوں اور مجھے لوگوں کی بات سچ سی معلوم ہوئی۔ اسی طرح میرٹھ والا درزی بھی بھلا آدمی تھا۔ روزہ و نماز کے علاوہ اس کے دن مزدوری اور راتیں عبادت میں گزرتی تھیں۔ شہر میں جہاں قوالی یا میلاد شریف ہوتا اس میں یہ ضرور شریک ہوتا اور ساری ساری رات حق ہو کے ہنگامے میں گزار دیتا۔ آخر آخر میں تو وہ باقاعدہ صوفی ہو گیا تھا اور محفلِ سماع میں اس پر صوفیا جیسی کیفیت بھی طاری ہو جاتی تھی، وہ گھنٹوں حال کی کیفیت میں رہتا اور اس کے حال کے لیے عام صوفیوں کی طرح ہارمونیم اور ڈھولک ضروری نہیں تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسے میلاد کی محفل میں نعت خوانی سے بھی یہ کیفیت طاری ہو جاتی تھی، وہ پہروں روتا رہتا اور پھر بے ہوش ہو جاتا تھا۔ اس بات پر اس کے جاننے والے سب لوگ اس کا احترام کرتے تھے۔ ایک دفعہ رات کے دو بجے محفلِ میلاد ختم ہوئی اور وہ وہاں سے ایک عجیب و غریب کیفیت میں سرشار گھر کی طرف آرہا تھا جب وہ کمبوہ دروازے آیا تو اس نے دیکھا کہ ایک جنازہ آرہا ہے مگر اسے تین آدمی اٹھائے ہوئے ہیں، دو آگے کے دو پایوں پر اور ایک پیچھے۔ یہ دیکھ کر اس پر تو ایک دوسرا ہی عالم طاری ہو گیا۔ اس نے از راہِ ہمدردی لپک کر پچھلے ایک پائے کو کندھے پر لے لیا اور چلنے لگا۔ قبرستان وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا۔ چنانچہ دس پندرہ منٹ میں قبرستان پہنچ گئے۔ ساری رات کی چاندنی تھی اور اتنی رات کا سناٹا جہاں اتقا کے جذبے کو تسکین دے رہا تھا، وہیں جنگل کی سفید خاموشی ایک خوف سا بھی پیدا کر رہی تھی۔ انہوں نے جنازہ ایک نئی کھدی ہوئی قبر پر جا کے رکھ دیا اور درزی سے بصد منّت کہا کہ براہِ کرم اسے قبر میں بھی آپ ہی اتار دیں، یہ فرد خلوص میں قبر میں اتر گیا اور ان تینوں نے مردے کو اس کے ہاتھوں قبر کی تہ تک پہنچا دیا۔ وہ مردے کو قبر کے سپرد کر کے باہر آنے لگا تو انہوں نے کہا بھائی میت کے بند بھی تو کھول دو۔ وہ بند کھولنے کے لیے جھکا تو اس نے دیکھا کہ مردہ غائب اور قبر خالی! یہ گھبرا کے باہر آیا تو وہ تینوں بھی غائب تھے۔ اس نے چاندنی میں بڑی دور تک نظر دوڑائی، کہیں کسی کا دور دور تک پتہ نہ لگا۔ اس نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو گیا اور پھر صبح تک وہیں سر راہ پڑ رہا۔ جب دن چڑھا اور راستے چلنے لگے تو لوگوں نے اسے بے ہوش دیکھ کر اسپتال پہنچا دیا۔ وہ ایک ماہ اسی طرح بے ہوش رہا۔ ایک ماہ کے بعد اسے ہوش آیا تو اس نے واقعہ بیان کیا۔ سننے والے حیران رہ گئے۔ فیض الحسن اسی طرح کام پر جانے لگا اور اس کا قوالی و میلاد کا شوق پھر ہرا ہو گیا، لیکن اب یہ عشاء کی نماز کے بعد فوراً گھر آجایا کرتا تھا۔ دن گزرتے گئے، تین چار ماہ کے بعد محلّے میں ایک میّت ہوگئی اور ہمسائیگی کے خیال سے اسے بھی ہمراہ قبرستان جانا پڑا۔ لوگوں نے میت کھدی ہوئی قبر کی مٹی پر رکھ دی اور یہ وہیں قبر کے پاس کچھ پڑھنے کے لیے بیٹھ گیا۔ اسے پڑھتے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور میت کی چادر اڑ کر اس کے سر پر آ پڑی۔ چادر کا اوپر آنا تھا کہ اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور پھر بے ہوش ہو گیا۔ حاضرین میں سے کسی نے کسی مرض کا دورہ سمجھا، کسی نے اتفاق بتایا، غرض کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ سب نے مل جل کر اسے اسپتال میں داخل کردیا۔ پندرہ دن میں اسے ہوش آیا اور آنکھ کھولتے ہی اس نے پانی مانگا۔ پانی کا حلق میں اترنا تھا کہ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور دم دے دیا۔ میری آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کوئی مرض تھا یا انہیں تینوں کا کام تھا جو میّت اٹھائے لا رہے تھے یا خوف تھا جو برداشت نہ ہو سکا۔ The latest findings add a new dimension to an already closely watched situation.

Looking Ahead

The developments detailed here represent only the latest chapter in an ongoing story. As more information becomes available, the full picture is expected to come into sharper focus for those following the situation.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.