بھارتی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ایوا گروور نے اپنی ناکام ازدواجی زندگی سے متعلق کئی نئے اور دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عامر خان کے سوتیلے بھائی حیدر علی خان کے ساتھ شادی ان کی زندگی کا ایسا فیصلہ ثابت ہوئی جس پر انہیں بعد میں شدید پچھتاوا ہوا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ کم عمری ہی سے ان کے ذہن میں شا
بھارتی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ایوا گروور نے اپنی ناکام ازدواجی زندگی سے متعلق کئی نئے اور دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عامر خان کے سوتیلے بھائی حیدر علی خان کے ساتھ شادی ان کی زندگی کا ایسا فیصلہ ثابت ہوئی جس پر انہیں بعد میں شدید پچھتاوا ہوا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ کم عمری ہی سے ان کے ذہن میں شا
In a development that has caught the attention of many, بھارتی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ایوا گروور نے اپنی ناکام ازدواجی زندگی سے متعلق کئی نئے اور دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عامر خان کے سوتیلے بھائی حیدر علی خان کے ساتھ شادی ان کی زندگی کا ایسا فیصلہ ثابت ہوئی جس پر انہیں بعد میں شدید پچھتاوا ہوا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ کم عمری ہی سے ان کے ذہن میں شادی اور ایک خوشحال خاندان کا خواب موجود تھا۔ ان کے مطابق وہ نوعمری سے ہی ایک ایسی زندگی کا تصور کرتی تھیں جو کسی رومانوی کہانی کی طرح ہو، مگر عملی زندگی میں حالات اس کے برعکس نکلے۔ ایوا گروور نے بتایا کہ انہوں نے حیدر علی خان کو محض 18 دن جاننے کے بعد شادی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان کے بقول آج جب وہ ماضی پر نظر ڈالتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اتنے کم وقت میں کسی شخص کی اصل شخصیت کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شاید اس فیصلے میں جلد بازی ان کی اپنی غلطی بھی تھی۔ اداکارہ نے انکشاف کیا کہ خاندان کی مخالفت کے باوجود انہوں نے گھر چھوڑ کر حیدر علی خان سے شادی کی۔ اس وقت ان کا کیریئر عروج پر تھا اور دونوں مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، تاہم انہوں نے تمام اعتراضات نظر انداز کرتے ہوئے شادی کر لی۔ ایوا کے مطابق شادی کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں احساس ہو گیا کہ ان کے شوہر وہ شخص نہیں تھے جس کا انہوں نے تصور کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑا مسئلہ ان کا شدید غصہ تھا، جس نے ازدواجی زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی اتنا جارحانہ رویہ نہیں دیکھا تھا۔ جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ کیا ان پر جسمانی تشدد بھی کیا جاتا تھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر پرتشدد مزاج رکھتے تھے اور وہ کئی مواقع پر جسمانی تشدد کا شکار ہوئیں۔ تاہم انہوں نے کسی ایک مخصوص واقعے کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔ اداکارہ نے کہا کہ وہ برسوں تک اس رشتے میں صرف اس لیے رہیں کیونکہ وہ اپنے شوہر سے محبت کرتی تھیں اور انہیں مسلسل یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ ہر خرابی کی ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ان کے مطابق انہیں بار بار بتایا جاتا تھا کہ وہ نااہل ہیں اور معاملات کو صحیح طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات نہیں کی جاتی تھی، جس کے باعث مدد حاصل کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ ایوا گروور کے مطابق شادی کے چار سال بعد انہوں نے اس امید پر ماں بننے کا فیصلہ کیا کہ شاید بچے کی آمد سے تعلقات میں بہتری آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں اکثر یہ تصور دیا جاتا ہے کہ بچہ ایک خراب شادی کو بچا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اداکارہ نے بتایا کہ حمل کے دوران بھی انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض جاری رکھے، مگر ازدواجی مسائل میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول ان کی بیٹی کی پیدائش ان کی زندگی کا اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بیٹی کی پیدائش کے صرف ایک ماہ بعد انہیں احساس ہو گیا کہ وہ مزید اس ماحول میں نہیں رہ سکتیں۔ اسی دوران ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھی فنکاروں اور عملے نے ان کی ذہنی کیفیت کو محسوس کیا اور مدد کے لیے آگے آئے۔ ایوا کے مطابق ڈرامے کی پوری ٹیم ایک دن ان کے گھر پہنچی، ان کی والدہ سے بات کی اور انہیں اس مشکل صورتحال سے نکلنے کا حوصلہ دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے انہیں دوبارہ اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔ اداکارہ نے اس موقع پر عامر خان کے والد مرحوم طاہر حسین کا بھی ذکر کیا اور انہیں ایک نہایت مہربان اور ہمدرد انسان قرار دیا۔ ان کے مطابق طاہر حسین اکثر ان کی حالت دیکھ کر دکھی ہو جاتے تھے اور کئی مرتبہ جذباتی بھی ہو جاتے تھے۔ ایوا گروور نے اپنی سابقہ ساس شہناز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں انہیں بعض قریبی افراد کی حمایت حاصل رہی، جس کی بدولت وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ اداکارہ نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں اس تکلیف دہ رشتے سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کی۔
What Comes Next
As the full scope of these developments becomes clear, questions about what comes next remain at the forefront. Officials and analysts agree that the situation warrants continued close attention.
In a development that has caught the attention of many, بھارتی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ایوا گروور نے اپنی ناکام ازدواجی زندگی سے متعلق کئی نئے اور دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عامر خان کے سوتیلے بھائی حیدر علی خان کے ساتھ شادی ان کی زندگی کا ایسا فیصلہ ثابت ہوئی جس پر انہیں بعد میں شدید پچھتاوا ہوا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ کم عمری ہی سے ان کے ذہن میں شادی اور ایک خوشحال خاندان کا خواب موجود تھا۔ ان کے مطابق وہ نوعمری سے ہی ایک ایسی زندگی کا تصور کرتی تھیں جو کسی رومانوی کہانی کی طرح ہو، مگر عملی زندگی میں حالات اس کے برعکس نکلے۔ ایوا گروور نے بتایا کہ انہوں نے حیدر علی خان کو محض 18 دن جاننے کے بعد شادی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان کے بقول آج جب وہ ماضی پر نظر ڈالتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اتنے کم وقت میں کسی شخص کی اصل شخصیت کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شاید اس فیصلے میں جلد بازی ان کی اپنی غلطی بھی تھی۔ اداکارہ نے انکشاف کیا کہ خاندان کی مخالفت کے باوجود انہوں نے گھر چھوڑ کر حیدر علی خان سے شادی کی۔ اس وقت ان کا کیریئر عروج پر تھا اور دونوں مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، تاہم انہوں نے تمام اعتراضات نظر انداز کرتے ہوئے شادی کر لی۔ ایوا کے مطابق شادی کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں احساس ہو گیا کہ ان کے شوہر وہ شخص نہیں تھے جس کا انہوں نے تصور کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑا مسئلہ ان کا شدید غصہ تھا، جس نے ازدواجی زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی اتنا جارحانہ رویہ نہیں دیکھا تھا۔ جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ کیا ان پر جسمانی تشدد بھی کیا جاتا تھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر پرتشدد مزاج رکھتے تھے اور وہ کئی مواقع پر جسمانی تشدد کا شکار ہوئیں۔ تاہم انہوں نے کسی ایک مخصوص واقعے کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔ اداکارہ نے کہا کہ وہ برسوں تک اس رشتے میں صرف اس لیے رہیں کیونکہ وہ اپنے شوہر سے محبت کرتی تھیں اور انہیں مسلسل یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ ہر خرابی کی ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ان کے مطابق انہیں بار بار بتایا جاتا تھا کہ وہ نااہل ہیں اور معاملات کو صحیح طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات نہیں کی جاتی تھی، جس کے باعث مدد حاصل کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ ایوا گروور کے مطابق شادی کے چار سال بعد انہوں نے اس امید پر ماں بننے کا فیصلہ کیا کہ شاید بچے کی آمد سے تعلقات میں بہتری آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں اکثر یہ تصور دیا جاتا ہے کہ بچہ ایک خراب شادی کو بچا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اداکارہ نے بتایا کہ حمل کے دوران بھی انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض جاری رکھے، مگر ازدواجی مسائل میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول ان کی بیٹی کی پیدائش ان کی زندگی کا اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بیٹی کی پیدائش کے صرف ایک ماہ بعد انہیں احساس ہو گیا کہ وہ مزید اس ماحول میں نہیں رہ سکتیں۔ اسی دوران ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھی فنکاروں اور عملے نے ان کی ذہنی کیفیت کو محسوس کیا اور مدد کے لیے آگے آئے۔ ایوا کے مطابق ڈرامے کی پوری ٹیم ایک دن ان کے گھر پہنچی، ان کی والدہ سے بات کی اور انہیں اس مشکل صورتحال سے نکلنے کا حوصلہ دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے انہیں دوبارہ اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔ اداکارہ نے اس موقع پر عامر خان کے والد مرحوم طاہر حسین کا بھی ذکر کیا اور انہیں ایک نہایت مہربان اور ہمدرد انسان قرار دیا۔ ان کے مطابق طاہر حسین اکثر ان کی حالت دیکھ کر دکھی ہو جاتے تھے اور کئی مرتبہ جذباتی بھی ہو جاتے تھے۔ ایوا گروور نے اپنی سابقہ ساس شہناز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں انہیں بعض قریبی افراد کی حمایت حاصل رہی، جس کی بدولت وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ اداکارہ نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں اس تکلیف دہ رشتے سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کی۔
آگے کیا آتا ہے۔
جیسے جیسے ان پیشرفتوں کا مکمل دائرہ واضح ہو جاتا ہے، آگے کیا ہوتا ہے اس کے بارے میں سوالات سرفہرست رہتے ہیں۔ حکام اور تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صورتحال پر گہری توجہ جاری رکھی گئی۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment