ہفتہ، 13 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

Federal budget

وفاقی بجٹ

Federal budget

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اگلے روز آیندہ مالی سال2026-27ء کے لیے18ہزار771ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ وفاقی بجٹ میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد، افراط زرکی اوسط شرح 8.2 فیصد مقررکی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ مزدور کی کم از کم اُجرت و تنخواہ میں

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اگلے روز آیندہ مالی سال2026-27ء کے لیے18ہزار771ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ وفاقی بجٹ میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد، افراط زرکی اوسط شرح 8.2 فیصد مقررکی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ مزدور کی کم از کم اُجرت و تنخواہ میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے چارسلیبز پرٹیکس میں کمی اور سرچارج ختم کردیا گیا ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس2.5فیصد سے کم کرکے 1.25فیصد کردیا گیا ہے فائلرز کے لیے جائیداد فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس 5.5سے کم کرکے2.75فیصد کردیا گیا ہے ۔ 5کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 5کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر بھی ٹیکس 5فیصد سے کم کرکے2.75فیصد کر دیا گیا ہے۔ 5کروڑ روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5فیصد سے کم کرکے 1.25فیصد کر دیا گیا ہے۔ 5 کروڑ سے 10کروڑ مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2فیصد سے کم کرکے 1.25فیصد کر دیا گیا ہے۔ 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس 1.5فیصد سے کم کرکے 1.25فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تمام بڑی کیٹیگریز میں سرمایہ کاروں کو یکساں ریلیف ملے گا۔بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی پر عائد ایک فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ پیش ہونے سے چند روز قبل تک ملک کی سیاسی فضا میں بجٹ کے حوالے سے مختلف قسم کی باتیں کی جا رہی تھیں۔ تجزیہ نگار بھی اپنی اپنی آراء دے رہے تھے۔ کچھ کا خیال تھا کہ شاید بجٹ میں این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور برسراقتدار مسلم لیگ ( ن) کے درمیان اختلافات ہیں۔ کوئی اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں کر رہا تھا لیکن بالآخر بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ حکومت نے بجٹ پیش کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے بھی بجٹ اجلاس میں شرکت کر کے جمہوریت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ بجٹ میں حکومت نے رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن انڈسٹری کے حوالے سے بھی بہتر اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور وطن کے ساتھ ان کے معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اوورسیز پاکستانی سب سے زیادہ سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ میں کرتے ہیں۔ اس سے کنسٹرکشن انڈسٹری میں تیزی آتی ہے جس کے باعث روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ وفاقی بجٹ میں شپنگ انڈسٹری کے فروغ کے لیے اس شعبے پر عائد 18فیصد سیلز ٹیکس ختم کرکے صفر فیصد کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے لاجسٹکس اور میری ٹائم سیکٹر کو فروغ ملے گا اور کاروباری لاگت میں کمی آئے گی ۔ بران فیلڈ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور متعلقہ درآمدات پر عائد 18فیصد سیلز ٹیکس ختم کرکے صفر فیصد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یقینی طور پر اس فیصلے سے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور منیمم ٹیکس، جو پہلے مجموعی طور پر2فیصد تھا، کم کرکے 1.25فیصد کر دیا گیا ہے۔50 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے زیادہ کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس 10فیصد سے کم کرکے8فیصد کر دیا گیا ہے۔ سپر ٹیکس کے حوالے سے بھی خاصی بحث جاری تھی۔ اس پر مختلف قانونی پہلوؤں سے بھی جائزہ لیا جا رہا تھا۔ بہرحال کاروباری طبقے کا یہ مطالبہ مان لیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے درآمدی لگژری گاڑیوں، بڑی ایس یو ویز اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔درآمد کی جانے والی کاروں اور دو ہزار سی سی سے بڑی اور تین ہزار سی سی تک کی ایس یو وی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے۔ تین ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی بڑھائی جا رہی ہے ۔ اس ٹیکس کا اطلاق دوکروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑی پر بھی ہوگا۔الیکٹرک موٹر سائیکل، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا۔ اس سلسلے میں درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ جہاں تک مہنگی گاڑیوں کا تعلق ہے تو اس کی خریداری طبقہ اشرافیہ کرتی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں جس رفتار سے موٹروہیکلز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے ایک متوازن پالیسی اختیار کرنی چاہیے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔ سائیکل کلچر کے فروغ کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں اس پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ موٹرسائیکلوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔ وفاقی بجٹ میں خواتین اور عوامی صحت کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ خواتین کی صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق اہم اشیاء جن میں ٹیمپونز، سینیٹری پیڈز، کنڈومز اور مانع حمل ادویات شامل ہیں پر عائد 18فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس کی موجودہ 0.25فیصد رعایتی شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے پاکستان سے کی جانے والی آن لائن ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے 0.5فیصد کر دی گئی ہے ۔ غیرملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا بھی خاتمہ کردیا ہے۔ وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے ان کی باہمی مشاورت سے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ایک تاریخی فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس نظام میں The announcement is expected to have broad implications in the days ahead.

What Comes Next

A clearer picture is expected to emerge as more information comes to light in the days ahead. Until then, this development remains a pivotal point in an ongoing story with significant national implications.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.