جمعرات، 11 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

Gilgit-Baltistan elections

گلگت بلتستان انتخابات

Gilgit-Baltistan elections

گلگت بلتستان الیکشن میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا ہے۔ آزاد ارکان دوسرے نمبر پر رہے جب کہ ( ن) لیگ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 میں سے 22 حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے دس نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ( ن) صرف چار نشستیں جیت سکی۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور اپوز

In what many are calling a critical development, گلگت بلتستان الیکشن میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا ہے۔ آزاد ارکان دوسرے نمبر پر رہے جب کہ ( ن) لیگ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 میں سے 22 حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے دس نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ( ن) صرف چار نشستیں جیت سکی۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور اپوزیشن اتحاد کے دیگر سات ارکان نے اپنی نشستیں جیتیں۔ اگرچہ پیپلز پارٹی 10 نشستیں جیت کر واحد بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن گلگت بلتستان اسمبلی میں اسے سادہ اکثریت حاصل ہے جب کہ حکومت سازی کے لیے 17 نشستوں کی ضرورت ہے۔ اغلب یہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) کی مخلوط حکومت بنے گی، چونکہ پی پی اکثریتی پارٹی ہے لہٰذا گلگت بلتستان کا اگلا وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی سے ہوگا جب مسلم لیگ ( ن) کو گورنری کا منصب مل سکتا ہے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) تو الیکشن میں کامیابی پر شاداں ہیں لیکن پی ٹی آئی نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگا کر نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی والوں نے دلیل یہ دی ہے کہ اول انھیں انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی نہیں دی گئی جس طرح پی پی پی اور مسلم لیگ ( ن) کے بڑے رہنماؤں نے گلگت بلتستان میں بڑے جلسے کیے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ( ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے ازخود انتخابی مہم کی کمان سنبھالی ہوئی تھی۔ ایسی انتخابی مہم کی آزادی پی ٹی آئی کے لیے نہیں تھی نتیجتاً وہ کھل کر اپنی انتخابی مہم نہیں چلا سکے۔ پی ٹی آئی کے رہنما حسب عادت الزامات لگا رہے ہیں کہ انتخابی عمل میں دھاندلی کی گئی ہے اور نتائج کو تبدیل کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی امیدواروں کی فتح کو مبینہ طور پر ان کی شکست میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا کہ ہارنے والا دھاندلی کا الزام لگا دیتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) نے انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرکے اگلے مرحلے میں حکومت سازی کے لیے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھرپور مہم چلائی ۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران انھیں مبارک باد دی۔صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوان بلاول نے مسلم لیگ ن سے بہتر انتخابی مہم چلائی۔ وزیر اعظم نے مسلم لیگ ( ن) کے امیدواروں کو بھی اچھا مقابلہ کرنے اور کامیابی پر شاباش دی۔ انھوں نے گلگت بلتستان الیکشن کو شفاف قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو بھی سراہا۔پاکستان میں الیکشن کی تاریخ پر نظر ڈالیں اور حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کے کردار کا مطالعہ کریں اور بعدازاں تشکیل پانے والی حکومتوں کی کارکردگی کا تجزیہ کریں تو صورت حال پر ہمیشہ سے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں۔ وطن عزیز میں منعقد ہونے والے گزشتہ تمام انتخابات کی شفافیت و غیر جانبداری پر ہمیشہ سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بالخصوص شکست خوردہ جماعتوں نے انتخابی نتائج کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ اپوزیشن میں رہ کر احتجاج کا راستہ اختیار کیا ۔ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں جو انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات لگاتی ہیں۔ اقتدار کی لالچ میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر باہم شیر و شکر بھی ہو جاتی ہیں، کوئی سیاسی نظریہ، اصول اور کردار ان کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔ کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں اور قومی وسائل کی من مانی بندربانٹ کر لیتے ہیں۔ گلگت بلتستان الیکشن کی مہم کے دوران پی پی پی اور مسلم لیگ ( ن) کے نہ صرف امیدواروں بلکہ بڑے رہنماؤں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات میں کچھ ایسی ہی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، 2009 میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے اسے نیم صوبائی حیثیت دے کر پہلی مرتبہ عام انتخابات کرائے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے 2020 میں گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اسے پاکستانی پارلیمنٹ میں نمایندگی نہ ملی اور نہ ہی آئینی صوبے کا درجہ ملا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں گلگت بلتستان کی کوئی نمایندگی نہیں ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ پیپلز پارٹی کی آئندہ مخلوط حکومت گلگت بلتستان کو عوام کی خواہش کے مطابق آئینی صوبے کا درجہ دلانے کا وعدہ پورا کرے گی تاکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی گلگت بلتستان کی نمایندگی کی راہ ہموار ہو سکے۔ Stakeholders across the nation are closely monitoring the situation.

The Road Ahead

As the full scope of these developments becomes clear, questions about what comes next remain at the forefront. Officials and analysts agree that the situation warrants continued close attention.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.