والدین کا تجویز کردہ نام شیر محمد خان ولد منشی خان، ذات راجپوت۔ اسی باعث نام کے ساتھ خان بھی لگایا جاتا۔ جی ہاں، ہم ذکر خیر کر رہے ہیں معروف شاعر، کالم نویس و ادیب ابن انشا کا جنھوں نے 15 جون 1927 کو ضلع جالندھر کے گاؤں پھلور میں جنم لیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور پھر مزید حصول تعلیم کے لیے لدھیانہ تشریف لے گئے اور میٹرک کا امتحان ل
والدین کا تجویز کردہ نام شیر محمد خان ولد منشی خان، ذات راجپوت۔ اسی باعث نام کے ساتھ خان بھی لگایا جاتا۔ جی ہاں، ہم ذکر خیر کر رہے ہیں معروف شاعر، کالم نویس و ادیب ابن انشا کا جنھوں نے 15 جون 1927 کو ضلع جالندھر کے گاؤں پھلور میں جنم لیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور پھر مزید حصول تعلیم کے لیے لدھیانہ تشریف لے گئے اور میٹرک کا امتحان ل
Attention has turned to a developing story after والدین کا تجویز کردہ نام شیر محمد خان ولد منشی خان، ذات راجپوت۔ اسی باعث نام کے ساتھ خان بھی لگایا جاتا۔ جی ہاں، ہم ذکر خیر کر رہے ہیں معروف شاعر، کالم نویس و ادیب ابن انشا کا جنھوں نے 15 جون 1927 کو ضلع جالندھر کے گاؤں پھلور میں جنم لیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور پھر مزید حصول تعلیم کے لیے لدھیانہ تشریف لے گئے اور میٹرک کا امتحان لدھیانہ میں پاس کیا جب کہ پنجاب یونیورسٹی سے B.A کا امتحان پاس کیا۔ یہ ذکر خیر ہے 1946 کا۔ 1942 میں ان کی میٹرک کی سند میں ان کی عمر تین برس زائد تحریر کر دی گئی، ان کی عمر 18 برس لکھی گئی جب کہ ان کی حقیقی عمر اس وقت 15 برس تھی اس بات کا ابن انشا کو تمام عمر افسوس رہا۔ سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہونے کے باعث ان کی شادی فقط 14 برس کی عمر میں کر دی گئی۔ یہ ابن انشا جی کی والدہ کی اپنے بیٹے سے محبت کا اظہار تھا جوکہ ایک بیٹے کے لیے وبال جان بن گیا۔ ان کی شریک حیات عزیزہ بیگم ان سے چند برس بڑی تھیں۔ عزیزہ بیگم سے ان کی شادی دس سال قائم رہی اور بعدازاں ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ عزیزہ بیگم سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ ابن انشا نے 1953 میں اردو کالج کراچی سے M.A کی سند حاصل کی۔ ابن انشا نے ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ انھوں نے مختلف اخبارات میں کالم نگاری کی۔ ان کے کالم حقیقت پسندی پر مبنی ہوتے تھے یا یوں کہہ لیں کہ سماج کی پوری پوری عکاسی کرتے تھے۔ ان کی تحریریں عام فہم ہوا کرتی تھیں، لوگ ان کی تحریروں کو ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ ضرور تھا کہ وہ اپنی مرضی کے آپ مالک تھے، جب موڈ ہوا لکھ دیا۔ اگر موڈ نہیں تو لکھنا بھی نہیں۔ سادگی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے سینما چلے گئے، جب فلم شروع ہوئی تو صبیحہ خانم، صاحبہ کو اسکرین پر دیکھا تو بولے، یہ تو کاکی مختاری ہے، کیونکہ صبیحہ خانم کا حقیقی نام مختار بیگم ہی تھا۔ انشا جی نے 1960 میں چینی زبان کی نظموں کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ یوں بھی انشا جی کو دوسری زبانوں کا ادب پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ بالخصوص روسی ادب ان کے اکثر زیر مطالعہ رہتا۔ ایسا اس لیے بھی تھا کہ وہ ترقی پسند نظریات رکھتے تھے اور روس میں ترقی پسند ادب کثرت کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے روسی ادب کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ ان کی تحریروں میں مزاح کا عنصر کثرت سے پایا جاتا، اسی لیے انشا جی کی تحریریں پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوتا اور پوری توجہ و دلچسپی کے ساتھ ان کی تحریر پڑھتا۔ انشا جی نے نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور وہ ٹوکیو بک ڈویلپمنٹ کے وائس چیئرمین بھی رہے جب کہ وہ پاکستان یونیسف کے نمایندے کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ انشا جی کو سیاحت کا بے حد شوق تھا بلکہ جنون تھا ۔ وہ ملکوں ملکوں گھومتے وہاں کے سماج کا مشاہدہ کرتے اور سفرنامے قلم بند کرتے۔ انھوں نے جن ممالک کے سفر اختیار کیے ان ممالک میں جاپان، چین، فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا، آئرلینڈ، بھارت، ایران، افغانستان، ہانگ کانگ، ترکیہ، امریکا، برطانیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اپنے ادبی سفر کے آغاز میں انھوں نے اپنا تخلص درویش بھی رکھا لیکن بعدازاں تمام عمر ابن انشا کے نام سے معروف ہوئے اور ابن انشا کے نام سے ہی اپنا ادبی سفر جاری رکھا۔ صداقت تو یہ ہے کہ پھر ان کا حقیقی نام پس پردہ جا چکا تھا۔ انھوں نے جو ادبی شہ پارے تخلیق کیے ان کے نام یہ ہیں، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، چلتے ہو تو چین کو چلیے، چاند نگر، بلو کا بستہ، اردو کی آخری کتاب، خمار گندم، نگری نگری پھرا مسافر، قصہ ایک کنوارے کا، باتیں انشا جی کی۔ اب اگر پھر ذکر کیا جائے ان کی ذاتی زندگی کا تو یہ کیفیت سامنے آتی ہے کہ عزیزہ بیگم سے علیحدگی کے بعد اگلے 18 برس وہ تنہا رہے۔ 1951 سے 1969 تک۔ البتہ 1959 میں انھوں نے ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی کرلی البتہ اس خاتون سے شادی سے قبل ایک خاندان میں ان کے رشتے کی بات چلی، مگر انشا جی کی زیادہ عمر کو جواز بنا کر اس رشتے سے منع کر دیا گیا مگر حقیقت یہ تھی کہ انشا جی کی مالی حیثیت اس خاندان کے مساوی نہ تھی۔ اس موقع پر انھوں نے یہ نظم تخلیق کی کہ: سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے، سب مایا ہے جو تم نے کہا، جو فیض نے فرمایا سب مایا ہے بہر کیف سب کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے انشا جی نے 12 جنوری 1978 کو اس دنیا فانی سے کوچ کیا۔ ان کی موت کا باعث گلے کا کینسر تھا۔ وفات کے وقت ان کی عمر فقط 50 برس 7 ماہ تھی۔ اگر ان کی زندگی ساتھ دیتی تو وہ مزید 25 سے 30 سالوں تک ادب تخلیق کر سکتے تھے۔ 15 جون کو انشا جی کی 99 ویں سالگرہ ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان کے مداح آج بھی ان کا کلام پڑھتے، سنتے اور انھیں یاد رکھے ہوئے ہیں۔
Looking Ahead
This story will continue to develop. Observers, policymakers, and citizens will all be watching what happens next in a situation that has already proven to be significant in multiple respects.
Attention has turned to a developing story after والدین کا تجویز کردہ نام شیر محمد خان ولد منشی خان، ذات راجپوت۔ اسی باعث نام کے ساتھ خان بھی لگایا جاتا۔ جی ہاں، ہم ذکر خیر کر رہے ہیں معروف شاعر، کالم نویس و ادیب ابن انشا کا جنھوں نے 15 جون 1927 کو ضلع جالندھر کے گاؤں پھلور میں جنم لیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور پھر مزید حصول تعلیم کے لیے لدھیانہ تشریف لے گئے اور میٹرک کا امتحان لدھیانہ میں پاس کیا جب کہ پنجاب یونیورسٹی سے B.A کا امتحان پاس کیا۔ یہ ذکر خیر ہے 1946 کا۔ 1942 میں ان کی میٹرک کی سند میں ان کی عمر تین برس زائد تحریر کر دی گئی، ان کی عمر 18 برس لکھی گئی جب کہ ان کی حقیقی عمر اس وقت 15 برس تھی اس بات کا ابن انشا کو تمام عمر افسوس رہا۔ سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہونے کے باعث ان کی شادی فقط 14 برس کی عمر میں کر دی گئی۔ یہ ابن انشا جی کی والدہ کی اپنے بیٹے سے محبت کا اظہار تھا جوکہ ایک بیٹے کے لیے وبال جان بن گیا۔ ان کی شریک حیات عزیزہ بیگم ان سے چند برس بڑی تھیں۔ عزیزہ بیگم سے ان کی شادی دس سال قائم رہی اور بعدازاں ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ عزیزہ بیگم سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ ابن انشا نے 1953 میں اردو کالج کراچی سے M.A کی سند حاصل کی۔ ابن انشا نے ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ انھوں نے مختلف اخبارات میں کالم نگاری کی۔ ان کے کالم حقیقت پسندی پر مبنی ہوتے تھے یا یوں کہہ لیں کہ سماج کی پوری پوری عکاسی کرتے تھے۔ ان کی تحریریں عام فہم ہوا کرتی تھیں، لوگ ان کی تحریروں کو ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ ضرور تھا کہ وہ اپنی مرضی کے آپ مالک تھے، جب موڈ ہوا لکھ دیا۔ اگر موڈ نہیں تو لکھنا بھی نہیں۔ سادگی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے سینما چلے گئے، جب فلم شروع ہوئی تو صبیحہ خانم، صاحبہ کو اسکرین پر دیکھا تو بولے، یہ تو کاکی مختاری ہے، کیونکہ صبیحہ خانم کا حقیقی نام مختار بیگم ہی تھا۔ انشا جی نے 1960 میں چینی زبان کی نظموں کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ یوں بھی انشا جی کو دوسری زبانوں کا ادب پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ بالخصوص روسی ادب ان کے اکثر زیر مطالعہ رہتا۔ ایسا اس لیے بھی تھا کہ وہ ترقی پسند نظریات رکھتے تھے اور روس میں ترقی پسند ادب کثرت کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے روسی ادب کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ ان کی تحریروں میں مزاح کا عنصر کثرت سے پایا جاتا، اسی لیے انشا جی کی تحریریں پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوتا اور پوری توجہ و دلچسپی کے ساتھ ان کی تحریر پڑھتا۔ انشا جی نے نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور وہ ٹوکیو بک ڈویلپمنٹ کے وائس چیئرمین بھی رہے جب کہ وہ پاکستان یونیسف کے نمایندے کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ انشا جی کو سیاحت کا بے حد شوق تھا بلکہ جنون تھا ۔ وہ ملکوں ملکوں گھومتے وہاں کے سماج کا مشاہدہ کرتے اور سفرنامے قلم بند کرتے۔ انھوں نے جن ممالک کے سفر اختیار کیے ان ممالک میں جاپان، چین، فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا، آئرلینڈ، بھارت، ایران، افغانستان، ہانگ کانگ، ترکیہ، امریکا، برطانیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اپنے ادبی سفر کے آغاز میں انھوں نے اپنا تخلص درویش بھی رکھا لیکن بعدازاں تمام عمر ابن انشا کے نام سے معروف ہوئے اور ابن انشا کے نام سے ہی اپنا ادبی سفر جاری رکھا۔ صداقت تو یہ ہے کہ پھر ان کا حقیقی نام پس پردہ جا چکا تھا۔ انھوں نے جو ادبی شہ پارے تخلیق کیے ان کے نام یہ ہیں، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، چلتے ہو تو چین کو چلیے، چاند نگر، بلو کا بستہ، اردو کی آخری کتاب، خمار گندم، نگری نگری پھرا مسافر، قصہ ایک کنوارے کا، باتیں انشا جی کی۔ اب اگر پھر ذکر کیا جائے ان کی ذاتی زندگی کا تو یہ کیفیت سامنے آتی ہے کہ عزیزہ بیگم سے علیحدگی کے بعد اگلے 18 برس وہ تنہا رہے۔ 1951 سے 1969 تک۔ البتہ 1959 میں انھوں نے ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی کرلی البتہ اس خاتون سے شادی سے قبل ایک خاندان میں ان کے رشتے کی بات چلی، مگر انشا جی کی زیادہ عمر کو جواز بنا کر اس رشتے سے منع کر دیا گیا مگر حقیقت یہ تھی کہ انشا جی کی مالی حیثیت اس خاندان کے مساوی نہ تھی۔ اس موقع پر انھوں نے یہ نظم تخلیق کی کہ: سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے، سب مایا ہے جو تم نے کہا، جو فیض نے فرمایا سب مایا ہے بہر کیف سب کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے انشا جی نے 12 جنوری 1978 کو اس دنیا فانی سے کوچ کیا۔ ان کی موت کا باعث گلے کا کینسر تھا۔ وفات کے وقت ان کی عمر فقط 50 برس 7 ماہ تھی۔ اگر ان کی زندگی ساتھ دیتی تو وہ مزید 25 سے 30 سالوں تک ادب تخلیق کر سکتے تھے۔ 15 جون کو انشا جی کی 99 ویں سالگرہ ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان کے مداح آج بھی ان کا کلام پڑھتے، سنتے اور انھیں یاد رکھے ہوئے ہیں۔
آگے دیکھ رہے ہیں۔
یہ کہانی ترقی کرتی رہے گی۔ مبصرین، پالیسی ساز، اور شہری سب دیکھ رہے ہوں گے کہ ایسی صورتحال میں آگے کیا ہوتا ہے جو پہلے ہی متعدد حوالوں سے اہم ثابت ہو چکی ہے۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment