تقریباً ساڑھے تین صدیاں قبل کئی برِ اعظموں پر پھیلی باجبروت عثمانی سلطنت کے عروج، دبدبے اور دہشت نے پھر واپسی اور زوال کا راستہ اختیار کیا ۔ بالیقین کہا جاتا ہے کہ1683ء میں اگر عثمانی بادشاہ ( سلطان محمد چہارم) تمنائے جہانگیری سے مغلوب ہو کر اپنے جرنیل ( قرہ مصطفیٰ پاشا) کی قیادت میں ویانا ( آسٹریا کے دارالحکومت) پر حملہ کرنے کا حکم نہ دیتا تو شائ
تقریباً ساڑھے تین صدیاں قبل کئی برِ اعظموں پر پھیلی باجبروت عثمانی سلطنت کے عروج، دبدبے اور دہشت نے پھر واپسی اور زوال کا راستہ اختیار کیا ۔ بالیقین کہا جاتا ہے کہ1683ء میں اگر عثمانی بادشاہ ( سلطان محمد چہارم) تمنائے جہانگیری سے مغلوب ہو کر اپنے جرنیل ( قرہ مصطفیٰ پاشا) کی قیادت میں ویانا ( آسٹریا کے دارالحکومت) پر حملہ کرنے کا حکم نہ دیتا تو شائ
In what many are calling a critical development, تقریباً ساڑھے تین صدیاں قبل کئی برِ اعظموں پر پھیلی باجبروت عثمانی سلطنت کے عروج، دبدبے اور دہشت نے پھر واپسی اور زوال کا راستہ اختیار کیا ۔ بالیقین کہا جاتا ہے کہ1683ء میں اگر عثمانی بادشاہ ( سلطان محمد چہارم) تمنائے جہانگیری سے مغلوب ہو کر اپنے جرنیل ( قرہ مصطفیٰ پاشا) کی قیادت میں ویانا ( آسٹریا کے دارالحکومت) پر حملہ کرنے کا حکم نہ دیتا تو شائد عثمانی سلطنت کبھی زوال کا شکار نہ ہوتی ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور مشیتیں کون جان سکتا ہے ؟ قرہ مصطفٰے پاشا نے ویانا پر ایک لشکرِ جرار سے ہلاکت خیز حملہ کیا ۔ ویانا کا کئی ہفتوں تک مہلک محاصرہ بھی کیے رکھا ۔ مگر عثمانی افواج اپنے اہداف حاصل نہ کر سکیں ۔ ویانا کے مسیحی بادشاہ ( لیو پولڈ اوّل) نے مغربی یورپ کے کئی مسیحی علاقائی حکمرانوں کو اتحادی بنا کر عثمانی حملہ آور جرنیل کا حملہ ناکام بنا دیا ۔ عثمانی لشکر تہس نہس ہو گیا ۔ نتیجے میں شکست خوردہ عثمانی جرنیل قرہ مصطفٰے کو ، عثمانی سلطان کے حکم پر ، پھانسی دے دی گئی ۔ اور یوں ویانا کی اِس عبرتناک شکست نے عثمانی سلطنت ( جس نے کبھی شکست کا منہ دیکھا ہی نہ تھا) کے زوال کی پہلی اینٹ رکھی ۔اِس تاریخی واقعہ بلکہ سانحہ کے پسِ منظر میں کہا جارہا ہے کہ 16مہینے قبل امریکہ نے ، صہیونی اسرائیل کی ایما پر، ایران پر جن ہلاکت خیز حملوں کا آغاز کیا تھا، اِن حملوں نے امریکی عروج ، دبدبے اور عالمی دہشت کے زوال کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے ۔ ساری معلوم دُنیا کے معلوم دانشور اور واقفانِ احوال متفقہ طور پر اعتراف و اعلان کررہے ہیں کہ امریکہ نے ایران سے شکست کھائی ہے ۔ اِسی لیے امریکہ نے شتابی سے ایران کے ساتھ ( محرّم کی تین تاریخ کو) امن ڈِیل پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں ۔ 47سال قبل ایک ہی سال میں ، آگے پیچھے ، عالمی سطح پر دو بڑے واقعات نے جنم لیا۔ جنوری 1979ء میں ایرانی ترقی پسند و مذہبی قوتوں نے مل کر اور سیکڑوں جانوں کی قربانیاں دے کر ایرانی بادشاہ، رضا شاہ پہلوی ، کا تختہ اُلٹ دیا ۔ دسمبر1979ء میں سوویت رُوس نے افغانستان میں فوجی مداخلت و جارحیت کا ظالمانہ ارتکاب کیا ۔ ایران سے شاہ ایران کا بوریا بستر لپٹا تو ایران میں امریکی سامراج کے گہرے اثرو رسوخ کا بستر بھی گول ہو گیا۔ ایرانی انقلابی نوجوان طلبا نے انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا اور امریکی سفارت کاروں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا۔ اِس اقدام نے اُس وقت کے امریکی صدر ( جمی کارٹر) کو امریکہ بھر میں سخت ندامت اور ذلّت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ امریکی سفارتخانے پر قبضہ اور امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنایا جانا ہی وہ لمحہ تھا جس سے امریکہ نے ایران کو اپنا اوّلین دشمن ڈیکلیئر کر دیا ۔ یہ دشمنی 47سال چلی ہے ۔ اور اِس کا ( بظاہر) اَنت اور اختتام اب جون2026ء کے وسط میں ہُوا ہے ، جب سوئٹزر لینڈ کے شہر ( برگن اسٹوک) میں ایران و امریکہ نے ایک امن ڈِیل یا مفاہمت کی یادداشت پرالیکٹرانک دستخط کیے ہیں ۔ اِس پر جناب شہباز شریف کے دستخط بھی بطورِ ثالث،موجود ہیں۔اِس معاہدے کے باوصف سینئر ایرانی قیادت کا یہ بیان قابلِ غور ہے: ( امن) معاہدے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ دشمن نے پچھلے 47برسوں کے دوران مملکتِ ایران اور ایرانی قوم پر جو مظالم ڈھائے ہیں، انہیں معاف کر دیا جائے ۔ سولہ ہفتے قبل ( 28فروری2026ء کو) مسیحی امریکہ اور صہیونی اسرائیل نے متحد ہو کر ، بیک وقت، ایران پر مہلک ترین حملہ کیا تھا۔ اِن حملوں میں سینئر ایرانی قیادت سمیت ہزاروں بے گناہ ایرانی شہری شہید کر دیے گئے ۔ مگر جارح اسرائیل و امریکہ کو ملا کیا؟ بوقتِ حملہ دونوں جارح ممالک نے اعلان کیا تھا کہ ( ۱) ہم ایرانی رجیم چینج کردیں گے ( ۲) ایران کا میزائل پروگرام مکمل تباہ کر دیں گے ( ۳) ایرانی جوہری مقاصد کا مکو ٹھپ دیں گے ( ۴) سیکڑوں کلو گرام ایرانی60فیصد افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لے لیں گے ۔ اور اب ، پاکستانی ثالثی میں،ایران و امریکہ کے درمیان سوئٹزر لینڈ میں جو 14نکاتی امن ڈِیل ہُوئی ہے، اِسے بغور پڑھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ اسرائیل کو کچھ ملا ہے نہ امریکہ کو ۔ سولہ ہفتے قبل آبنائے ہر مز عالمی تجارت کے لیے ہر ایک کے لیے فری کھلی تھی ۔ بعد از حملہ امریکہ نے یہ آبنائے بھی ایران کے قبضے میں دے دی ہے ۔بِلا شبہ ایران نے امریکہ سے حالیہ سفارتی مکالمہ کاری کے دوران آبنائے ہرمز کا ہتھیار خوب استعمال کیا ہے ۔بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت نے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی دہشت بھی مٹا ڈالی ہے اور دُنیا بھر میں امریکی رعب و دبدبہ بھی ختم کردیا ہے ۔ دولتمند عرب ریاستوں کا امریکہ پر اعتبار بھی اُٹھ گیا ہے ۔ سیدنا حضرت علی ؓ سے منسوب ایک معروف قول ہے: مَیں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رَبّ کو پہچانا۔ ضروری نہیں ہے کہ انسان ، مملکتیں اور طاقتور گروہ جو ارادہ کریں اور چاہیں، وہ پورے بھی ہو جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت اور مشیّت ہوتی ہے۔ 47سال قبل سوویت رُوس نے افغانستان پر حملہ کیا تو جنرل ضیاء الحق نے اپنی آمریت کو بچانے اور اپنے اقتدار کو طُول دینے کے لیے امریکی ایما پر پورے پاکستان کو ( سوویت رُوسی یلغار کو کاؤنٹر کرنے کے لیے) افغانستان میں جھونک دیا۔ پاکستانی عوام کو لولی پوپ دیا گیا کہ ( ۱) یہ اسلام دشمن ، ملحد ، خونخوار رُوسی ریچھ کے خلاف جہاد ہے ( ۲) افغانستان میں پاکستان کی کامیابی سے پاکستان کو تزویراتی گہرائی ( Strategic Depth) ملے گی ( ۳) جہادِ افغانستان کی کامیابی سے پاکستان کے لیے وسط ایشیا تک تجارتی راستے ہمیشہ کے لیے کھل جائیں گے! نام نہاد جہادِ افغانستان کو ختم ہُوئے برسوں گزر چکے ہیں، مگر شومئی قسمت سے پاکستان کے طے کردہ اہداف و مقاصد میں ایک بھی پاکستان کے حصے میں نہیں آیا ۔ اُلٹا افغانستان کے احسان فراموش مقتدر طالبان ( پاکستان کے دشمن بھارت کی گود میں بیٹھ کر) پاکستان کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ابھی19جون2026ء کو افغان طالبان نے اپنی پریس ریلیز کے ذریعے دُنیا کو Stakeholders across the nation are closely monitoring the situation.
What Comes Next
The developments detailed here represent only the latest chapter in an ongoing story. As more information becomes available, the full picture is expected to come into sharper focus for those following the situation.
In what many are calling a critical development, تقریباً ساڑھے تین صدیاں قبل کئی برِ اعظموں پر پھیلی باجبروت عثمانی سلطنت کے عروج، دبدبے اور دہشت نے پھر واپسی اور زوال کا راستہ اختیار کیا ۔ بالیقین کہا جاتا ہے کہ1683ء میں اگر عثمانی بادشاہ ( سلطان محمد چہارم) تمنائے جہانگیری سے مغلوب ہو کر اپنے جرنیل ( قرہ مصطفیٰ پاشا) کی قیادت میں ویانا ( آسٹریا کے دارالحکومت) پر حملہ کرنے کا حکم نہ دیتا تو شائد عثمانی سلطنت کبھی زوال کا شکار نہ ہوتی ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور مشیتیں کون جان سکتا ہے ؟ قرہ مصطفٰے پاشا نے ویانا پر ایک لشکرِ جرار سے ہلاکت خیز حملہ کیا ۔ ویانا کا کئی ہفتوں تک مہلک محاصرہ بھی کیے رکھا ۔ مگر عثمانی افواج اپنے اہداف حاصل نہ کر سکیں ۔ ویانا کے مسیحی بادشاہ ( لیو پولڈ اوّل) نے مغربی یورپ کے کئی مسیحی علاقائی حکمرانوں کو اتحادی بنا کر عثمانی حملہ آور جرنیل کا حملہ ناکام بنا دیا ۔ عثمانی لشکر تہس نہس ہو گیا ۔ نتیجے میں شکست خوردہ عثمانی جرنیل قرہ مصطفٰے کو ، عثمانی سلطان کے حکم پر ، پھانسی دے دی گئی ۔ اور یوں ویانا کی اِس عبرتناک شکست نے عثمانی سلطنت ( جس نے کبھی شکست کا منہ دیکھا ہی نہ تھا) کے زوال کی پہلی اینٹ رکھی ۔اِس تاریخی واقعہ بلکہ سانحہ کے پسِ منظر میں کہا جارہا ہے کہ 16مہینے قبل امریکہ نے ، صہیونی اسرائیل کی ایما پر، ایران پر جن ہلاکت خیز حملوں کا آغاز کیا تھا، اِن حملوں نے امریکی عروج ، دبدبے اور عالمی دہشت کے زوال کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے ۔ ساری معلوم دُنیا کے معلوم دانشور اور واقفانِ احوال متفقہ طور پر اعتراف و اعلان کررہے ہیں کہ امریکہ نے ایران سے شکست کھائی ہے ۔ اِسی لیے امریکہ نے شتابی سے ایران کے ساتھ ( محرّم کی تین تاریخ کو) امن ڈِیل پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں ۔ 47سال قبل ایک ہی سال میں ، آگے پیچھے ، عالمی سطح پر دو بڑے واقعات نے جنم لیا۔ جنوری 1979ء میں ایرانی ترقی پسند و مذہبی قوتوں نے مل کر اور سیکڑوں جانوں کی قربانیاں دے کر ایرانی بادشاہ، رضا شاہ پہلوی ، کا تختہ اُلٹ دیا ۔ دسمبر1979ء میں سوویت رُوس نے افغانستان میں فوجی مداخلت و جارحیت کا ظالمانہ ارتکاب کیا ۔ ایران سے شاہ ایران کا بوریا بستر لپٹا تو ایران میں امریکی سامراج کے گہرے اثرو رسوخ کا بستر بھی گول ہو گیا۔ ایرانی انقلابی نوجوان طلبا نے انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا اور امریکی سفارت کاروں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا۔ اِس اقدام نے اُس وقت کے امریکی صدر ( جمی کارٹر) کو امریکہ بھر میں سخت ندامت اور ذلّت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ امریکی سفارتخانے پر قبضہ اور امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنایا جانا ہی وہ لمحہ تھا جس سے امریکہ نے ایران کو اپنا اوّلین دشمن ڈیکلیئر کر دیا ۔ یہ دشمنی 47سال چلی ہے ۔ اور اِس کا ( بظاہر) اَنت اور اختتام اب جون2026ء کے وسط میں ہُوا ہے ، جب سوئٹزر لینڈ کے شہر ( برگن اسٹوک) میں ایران و امریکہ نے ایک امن ڈِیل یا مفاہمت کی یادداشت پرالیکٹرانک دستخط کیے ہیں ۔ اِس پر جناب شہباز شریف کے دستخط بھی بطورِ ثالث،موجود ہیں۔اِس معاہدے کے باوصف سینئر ایرانی قیادت کا یہ بیان قابلِ غور ہے: ( امن) معاہدے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ دشمن نے پچھلے 47برسوں کے دوران مملکتِ ایران اور ایرانی قوم پر جو مظالم ڈھائے ہیں، انہیں معاف کر دیا جائے ۔ سولہ ہفتے قبل ( 28فروری2026ء کو) مسیحی امریکہ اور صہیونی اسرائیل نے متحد ہو کر ، بیک وقت، ایران پر مہلک ترین حملہ کیا تھا۔ اِن حملوں میں سینئر ایرانی قیادت سمیت ہزاروں بے گناہ ایرانی شہری شہید کر دیے گئے ۔ مگر جارح اسرائیل و امریکہ کو ملا کیا؟ بوقتِ حملہ دونوں جارح ممالک نے اعلان کیا تھا کہ ( ۱) ہم ایرانی رجیم چینج کردیں گے ( ۲) ایران کا میزائل پروگرام مکمل تباہ کر دیں گے ( ۳) ایرانی جوہری مقاصد کا مکو ٹھپ دیں گے ( ۴) سیکڑوں کلو گرام ایرانی60فیصد افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لے لیں گے ۔ اور اب ، پاکستانی ثالثی میں،ایران و امریکہ کے درمیان سوئٹزر لینڈ میں جو 14نکاتی امن ڈِیل ہُوئی ہے، اِسے بغور پڑھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ اسرائیل کو کچھ ملا ہے نہ امریکہ کو ۔ سولہ ہفتے قبل آبنائے ہر مز عالمی تجارت کے لیے ہر ایک کے لیے فری کھلی تھی ۔ بعد از حملہ امریکہ نے یہ آبنائے بھی ایران کے قبضے میں دے دی ہے ۔بِلا شبہ ایران نے امریکہ سے حالیہ سفارتی مکالمہ کاری کے دوران آبنائے ہرمز کا ہتھیار خوب استعمال کیا ہے ۔بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت نے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی دہشت بھی مٹا ڈالی ہے اور دُنیا بھر میں امریکی رعب و دبدبہ بھی ختم کردیا ہے ۔ دولتمند عرب ریاستوں کا امریکہ پر اعتبار بھی اُٹھ گیا ہے ۔ سیدنا حضرت علی ؓ سے منسوب ایک معروف قول ہے: مَیں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رَبّ کو پہچانا۔ ضروری نہیں ہے کہ انسان ، مملکتیں اور طاقتور گروہ جو ارادہ کریں اور چاہیں، وہ پورے بھی ہو جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت اور مشیّت ہوتی ہے۔ 47سال قبل سوویت رُوس نے افغانستان پر حملہ کیا تو جنرل ضیاء الحق نے اپنی آمریت کو بچانے اور اپنے اقتدار کو طُول دینے کے لیے امریکی ایما پر پورے پاکستان کو ( سوویت رُوسی یلغار کو کاؤنٹر کرنے کے لیے) افغانستان میں جھونک دیا۔ پاکستانی عوام کو لولی پوپ دیا گیا کہ ( ۱) یہ اسلام دشمن ، ملحد ، خونخوار رُوسی ریچھ کے خلاف جہاد ہے ( ۲) افغانستان میں پاکستان کی کامیابی سے پاکستان کو تزویراتی گہرائی ( Strategic Depth) ملے گی ( ۳) جہادِ افغانستان کی کامیابی سے پاکستان کے لیے وسط ایشیا تک تجارتی راستے ہمیشہ کے لیے کھل جائیں گے! نام نہاد جہادِ افغانستان کو ختم ہُوئے برسوں گزر چکے ہیں، مگر شومئی قسمت سے پاکستان کے طے کردہ اہداف و مقاصد میں ایک بھی پاکستان کے حصے میں نہیں آیا ۔ اُلٹا افغانستان کے احسان فراموش مقتدر طالبان ( پاکستان کے دشمن بھارت کی گود میں بیٹھ کر) پاکستان کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ابھی19جون2026ء کو افغان طالبان نے اپنی پریس ریلیز کے ذریعے دُنیا کو Stakeholders across the nation are closely monitoring the situation.
آگے کیا آتا ہے۔
یہاں تفصیلی پیش رفت ایک جاری کہانی کے صرف تازہ ترین باب کی نمائندگی کرتی ہے۔ جیسے جیسے مزید معلومات دستیاب ہوں گی، توقع کی جاتی ہے کہ صورتحال کی پیروی کرنے والوں کے لیے پوری تصویر زیادہ توجہ میں آئے گی۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment