جمعرات، 11 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

Mention of Maulana Rifat who was endorsed by Mirza Ghalib

مولانا رفعت کا تذکرہ جن کی تعریف مرزا غالب کیا کرتے تھے

Mention of Maulana Rifat who was endorsed by Mirza Ghalib

مولانا عباس رفعت کے دادا مولانا مولانا مرزا محمد تقی خاں جو بعد میں شیخ محمد شروانی کے نام سے مشہور ہوئے بڑے عالم بزرگ تھے۔ مولانا احمد یمنی شروانی انھیں کے بیٹے تھے جو مدت تک کلکتہ کے مدرسۂ عالیہ میں عربی کے مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ عربی زبان و ادب میں بڑی صلاحیت رکھتے تھے۔ بقول سید ممتاز علی مؤلف آثار الشعراء مولانا احمد علّامۂ عصر، اپنے

مولانا عباس رفعت کے دادا مولانا مولانا مرزا محمد تقی خاں جو بعد میں شیخ محمد شروانی کے نام سے مشہور ہوئے بڑے عالم بزرگ تھے۔ مولانا احمد یمنی شروانی انھیں کے بیٹے تھے جو مدت تک کلکتہ کے مدرسۂ عالیہ میں عربی کے مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ عربی زبان و ادب میں بڑی صلاحیت رکھتے تھے۔ بقول سید ممتاز علی مؤلف آثار الشعراء مولانا احمد علّامۂ عصر، اپنے وقت کے حریری اور متبنی تھے۔ جب مولانا احمد بہت زیادہ مشہور ہوئے تو غازی الدین حیدر شاہ نے انگریز گورنمنٹ سے انھیں مانگا۔ حکام نے انھیں لکھنؤ بھیج دیا، جہاں وہ مدت تک بحیثیت مصاحب کام کرتے رہے۔ مولانا عباس رفعت انھیں احمد شروانی کے فرزند تھے۔ ان کی پیدائش 30 مئی 1826ء کو بنارس میں ہوئی۔ عربی کی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی اور فارسی میر خیرات علی خاں مشتاق خیر آبادی شاگرد علی حزیں گیلانی سے پڑھی۔ ذہنِ سلیم اور اچھے حافظہ کی وجہ سے جو کتابیں زیرِ مطالعہ رہیں وہ یاد بھی ہو گئیں۔ طبیعت کی مناسبت کی وجہ سے سیف زنی کے فن سے بھی آگاہ ہوئے۔ گویا اس طرح صاحب سیف و قلم بن گئے۔ ہندوستان کے مختلف شہروں کی سیر کی۔ دہلی پہنچے۔ اس وقت بہادر شاہ ظفر حکمراں تھے۔ ان تک پہنچنے کی کوشش کی، وہیں سے مرزائی، خانی اور ابوالفضل دوراں کے خطاب ملے۔ اسی قیامِ دہلی کے زمانے میں مرزا غالب سے ملاقات ہوئی۔ ان کے شاگرد بنے اور ان سے فارسی کلام پر اصلاح لی۔ دہلی میں کچھ دن ٹھہرے۔ لیکن جب وہاں مالی فائدے کی کوئی امید نہ رہی تو بھوپال تشریف لائے، جہاں سکندر جہاں بیگم نے کچھ عرصہ کے لئے انھیں ملازم رکھا۔ اس کے بعد بیگم صاحبہ کی طرف سے محکمہ اجنٹی بھوپال میں چند ماہ وکیل رہے۔ پھر بیگم سکندر جہاں اور نواب فوجدار محمد خاں اور نواب جہانگیر محمد خان بہادر کے درمیان متوسطے کا کام انجام دیا۔ بعد میں قدسیہ بیگم والدہ سکندر جہاں بیگم نے اپنے یہاں بلا لیا اور انھیں جامع مسجد کی تعمیر کے لئے مہتمم بنایا۔ یہ مسجد بیچ بازار چوک میں ہے جو اکثر انھیں کے اہتمام میں تعمیر ہوئی ہے۔ محرابِ بابِ شمال پر جو کتبہ ہے اس میں علی عباس رفعت کا نام ہے۔ اس کے بعد چند ماہ تجارت کی اور پھر وکالت کی طرف متوجہ ہوئے۔ پھر جمال الدین مدارالمہام کے روبکار ہوئے۔ نواب شاہ جہاں بیگم نے مولانا عباس رفعت کو بغیر کسی درخواست کے ان کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے تاریخ نگاری کی ذمہ داری دی۔ اور قانون نویسی جس کا نام محکمہ تنظیماتِ شاہجہانی تھا، مہتمم مقرر کیا۔ مولانا سولہ برس تک اس عہدے پر مامور رہے۔ اس کے علاوہ بھی جو مختلف کام ریاست نے سپرد کیے، اسے بحسن و خوبی انجام دیا۔ سرکارِ عالیہ کے حکم سے تاریخ بھوپال، تاریخ افاغنہ، تاریخِ سکّہ جاتِ کہنہ، تاریخِ دکن وغیرہ مرتب کیے۔ سالانہ رپورٹ جو ایجنٹ کے ذریعہ حکومتِ ہند کو بھیجی جاتی تھی وہ بھی مولانا عباس رفعت تیار کرتے تھے۔ مجلسِ مشورہ کے ممبر بھی رہے۔ مرزا غالب ان کی بڑی عزت کرتے تھے اور ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ چنانچہ جب نواب یار محمد خاں شوکت ان سے دہلی میں ملے اور مرزا غالب انہیں اپنا شاگرد بنانے پر راضی ہو گئے تو اصلاح کے لیے انہوں نے شوکت سے کہا، آپ میرے شاگرد ہوئے، اگر چندے یہاں رہنے کا اتفاق ہوتا تو فنِ شاعری میں آپ کو مہارتِ کلی حاصل ہو جاتی، گھر قیام ممکن نہیں، بھوپال میں مولانا عباس رفعت شروانی میرے دوست، مردِ فاضل، ادیب کامل موجود ہیں، فارسی زبان ان کی نہایت فصیح اہل زبان سے ملتی ہے۔ بارہا اپنا کام میرے پاس بھیج کے مولانا نے مجھ سے اصلاح بھی لی۔ ان سے بہتر دوسرا شخص مجھے وہاں نظر نہیں آتا۔ آپ کو میں اجازت دیتا ہوں کہ آپ ان سے اصلاح اپنے کلام میں لے کر میرے پاس بھیجا کریں۔ شوکت نے مرزا کے ارشاد کی تعمیل کی اور ان کے انتقال کے بعد بھی نظم و نثر مولانا عباس رفعت کو دکھاتے رہے اور اصلاح لیتے رہے۔ چونکہ مولانا عباس رفعت کی فارسی بڑی اچھی تھی اور لکھنے پڑھنے کا کام زیادہ تر اسی میں کرتے تھے۔ اس لیے انھوں نے مرزا غالب کو خط لکھتے ہوئے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ انھیں فارسی میں خط لکھیں۔ اگر چہ اس زمانہ میں مرزا نے اردو میں خط لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن مولانا عباس رفعت کے خط کا جواب فارسی میں دیا۔ مولانا عباس رفعت غالب کے نمایاں اور باصلاحیت شاگردوں میں تھے۔ عربی، فارسی اور اردو میں بڑی اچھی صلاحیت رکھتے تھے۔ تقریبا 62 کتابیں تصنیف کیں۔ فارسی اور اردو زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔ کسی بات پر ناراض ہو کر اپنی شاعری کا تمام سرمایہ تالاب میں ڈال دیا۔ اور شعر و شاعری چھوڑ دی۔ اب ان کا کلام مختلف کتابوں میں بکھرا ہوا ملتا ہے۔ مصنّف کے مطابق مولانا کا انتقال 1897ء میں ہوا اور بھوپال میں احمد آباد کے قریب آسودۂ خاک ہوئے۔ ( عبدالقوی دسنوی کی ادبی تحقیق پر مبنی کتاب سے اقتباس) The announcement is expected to have broad implications in the days ahead.

The Road Ahead

The implications of what has transpired will take time to fully understand. In the interim, this development stands as a significant moment in a story that is still being written.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.