بدھ، 10 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

Nero: The Roman emperor who was compelled to embrace death

نیرو: روم کا وہ شہنشاہ جو موت کو گلے لگانے پر مجبور ہوگیا

Nero: The Roman emperor who was compelled to embrace death

ضرب المثل مشہور ہے کہ ’ ’ روم جل رہا تھا اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا۔ ‘ ‘ اکثر ہم اپنے ملک کے سیاست دانوں پر الزامات عائد کرتے ہوئے یا ان کے طرزِ حکم رانی پر تنقید کے دوران اس ضرب المثل کا سہارا لیتے ہیں۔ نیرو، روم کا سفاک، شقی القلب اور نرگسیت کا شکار وہ شہنشاہ ہے جسے صدیوں بعد بھی اس ضرب المثل کی صورت میں یاد ضرور کیا جاتا ہے۔ محققین کی اک

A major development emerged this week as ضرب المثل مشہور ہے کہ ’ ’ روم جل رہا تھا اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا۔ ‘ ‘ اکثر ہم اپنے ملک کے سیاست دانوں پر الزامات عائد کرتے ہوئے یا ان کے طرزِ حکم رانی پر تنقید کے دوران اس ضرب المثل کا سہارا لیتے ہیں۔ نیرو، روم کا سفاک، شقی القلب اور نرگسیت کا شکار وہ شہنشاہ ہے جسے صدیوں بعد بھی اس ضرب المثل کی صورت میں یاد ضرور کیا جاتا ہے۔ محققین کی اکثریت کے مطابق سلطنتِ روم کا یہ آخری شہنشاہ 9 جون 68ء کو دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا تھا۔ زمانۂ قدیم کے اس شہنشاہ کے بارے میں اگرچہ متضاد روایات ملتی ہیں، اور کئی واقعات اس سے منسوب ہیں جن کی تصدیق ممکن نہیں مگر اس ضرب المثل کا پس منظر اکثریت نے یہی بیان کیا ہے کہ نرگسیت نے شہنشاہ کو سفاک اور بے حس بنا دیا تھا۔ اس کی بے حسی کا عالم یہ تھا کہ جب 64ء میں روم کا مرکز ناگہانی آفت کی لپیٹ میں آیا اور وہاں پانچ روز تک آگ لگی رہی تو شہنشاہ ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجاتا رہا اور خوف ناگ آگ کا نظارہ کرتا رہا۔ اس کے شقی القلب ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی دونوں بیویوں کو اذیت دے کر مار دیا تھا۔ تاریخ دانوں کے مطابق نیرو حادثاتی طور پر تخت نشیں ہوا تھا۔ اس ظالم اور سفاک شہنشاہ نے اپنے سب سے بڑے محسن کلاڈیس کے بیٹے کو بھی قتل کروایا اور بعض محققین نے لکھا ہے کہ نیرو اپنی ماں کے قتل کا بھی ذمہ دار تھا۔ جب کہ اس کی ماں نے اسے رومی تخت پر بٹھانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انہی مظالم اور سفاکیت کی وجہ سے غالباً‌ روم کو آگ لگانے کا الزام بھی بعض محققین نے نیرو ہی کو دیا ہے۔ دوسری طرف بعض تاریخ داں‌ ایسے بھی ہیں‌ جنھوں نے نیرو کو ایک عظیم حکم راں اور نہایت بلند مقام شہنشاہ کے طور پر متعارف کروایا ہے اور اس کا نام بہت عزت اور احترام سے لیا ہے۔ نیرو سنہ 54ء میں ایک ایسی سلطنت کا شہنشاہ بنا تھا جس کی سرحدیں ہسپانیہ سے لے کر شمال میں برطانیہ اور مشرق میں شام تک پھیلی ہوئی تھیں۔ تخت نشینی کے موقع پر وہ صرف سولہ برس کا تھا۔ اس کی ماں نے محلاتی سازشوں اور جوڑ توڑ سے اسے اقتدار دلوایا تھا۔ اس کا نام محققین نے اگرپینا لکھا ہے جس نے اپنے ایک رشتے دار اور شہنشاہ کلاڈیئس سے شادی کی اور پھر نیرو کی شادی بادشاہ کی بیٹی سے کراوئی تاکہ وہ شاہی خاندان کا فرد بننے کے ساتھ بادشاہ کا وارث بھی کہلا سکے جب کہ بادشاہ بھی ایک بیٹے کا باپ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اگرپینا نے بادشاہ کلاڈیئس کو کھانے میں زہر دے کر مار ڈالا اور پھر نیرو نے اقتدار سنبھالا تھا۔ اقتدار اور اختیارات کی بھوکی یہ عورت پانچ سال بعد اپنے بیٹے کے ہاتھوں ماری گئی۔ بعد میں‌ نیرو اپنی پہلی بیویوں سے بھی تنگ آگیا اور انھیں بھی قتل کر دیا۔ تاریخ دانوں نے نیرو کے اقتدار کے پہلے پانچ برسوں کو روم کے لوگوں کے لیے سنہری دور قرار دیا ہے۔ قدیم روم میں سینیٹ انتظامی اور مشاورتی ادارہ تھا۔ نیرو نے روم کی سینیٹ کو مزید اختیارات دیے، روم کی افواج کا بہت خیال رکھا جب کہ عوام کے لیے کھیلوں کے باقاعدہ مقابلے منعقد کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے وہ عوام میں مقبول ہوا۔ لیکن بعد میں اس کی طبیعت اور مزاج میں ایسا فساد پیدا ہوگیا کہ وہ ایک بدکردار اور وحشی حکم راں کے طور پر مشہور ہوا۔ نیرو جولیس کلاڈیئس خاندان کا پانچواں اور آخری بادشاہ تھا جس کے دور میں سلطنت کو وسعت تو نہیں دی جاسکی، لیکن ابتدا میں بغاوتوں کو کچلنے، مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے بعد اپنی عوامی مقبولیت کی وجہ سے سلطنت کو مستحکم رکھنے میں‌ کام یاب نظر آیا۔ لیکن اس بارے میں بھی تاریخ دانوں کی رائے مختلف ہے۔ تاریح دانوں کا کہنا ہے کہ روم میں آگ نیرو نے خود لگوائی تھی تاکہ وہ اس کی تعمیرِ نو کرسکے۔ دراصل نیرو سونے کا ایک محل اپنے لیے تعمیر کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے یہ منصوبہ بندی کی تھی۔ لیکن اس بارے میں بھی متضاد رائے پڑھنے کو ملتی ہے۔ آگ کے اثرات سے نمٹنے اور شہر کی تعمیر کے ساتھ نیرو نے ایک عالیشان محل کی بنیاد رکھی اور کہتے ہیں‌ کہ اس پرتعیش سامان اور ایسا کمرہ تھا جو سونے سے تیار کیا گیا تھا جس پر بے دریغ مال خرچ ہوا لیکن یہ کبھی مکمل نہیں ہو سکا۔ اسی آگ اور تباہی کے بعد محل کی تعمیر نے شاید لوگوں کو نیرو سے بددل کردیا تھا کہتے ہیں کہ نیرو کو موسیقی اور گانے کا شوق تھا۔ وہ اداکاری بھی کرنا چاہتا تھا اور اس غرض سے وہ یونان چلا گیا تھا جہاں اس نے تھیٹر پر اداکاری بھی کی۔ وہ نوجوان تھا اور اپنے مزاج میں ڈرامائی تبدیلیوں اور خواہشات کو سنبھالنے میں شاید ناکام ہوگیا تھا۔ نیرو 30 برس کا ہوا تو روم میں اس کی مخالفت اور بدنامی بڑھ گئی تھی۔ یہی وقت تھا جب فوج کی حمایت سے روم کے سینیٹ نے نیرو کو ’ عوام دشمن شہنشاہ ‘ قرار دے دیا۔ اور اس فیصلے نے نیرو کے ہوش اڑا دیے کیوں کہ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ تھا کہ اس کی جان لے لی جائے گی۔ خیال ہے کہ وہ شہر کے مضافات میں واقع اپنے ایک محل میں چھپ گیا تھا اور وہیں اس نے خود کشی کر لی تھی۔

Looking Ahead

The events outlined in this report highlight the complexity and significance of the broader issue at hand. Stakeholders, policymakers, and the public are expected to closely monitor what comes next.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.