رومیلا تھاپر ہندوستان کی معروف اسکالر ہیں جن کو دنیا بھر میں تاریخ داں اور سماجی کارکن کے طور پر شہرت ملی۔ ان کی کتاب ہندوستان کا وسطی دور کو نہایت اہم تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستان کے پرانے زمانے سے لے کر تقریباً آٹھویں صدی سے اٹھارویں صدی عیسوی کے ابتدائی زمانہ تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہاں ہم رومیلا تھاپر کی کتاب سے ایک پارہ نقل ک
رومیلا تھاپر ہندوستان کی معروف اسکالر ہیں جن کو دنیا بھر میں تاریخ داں اور سماجی کارکن کے طور پر شہرت ملی۔ ان کی کتاب ہندوستان کا وسطی دور کو نہایت اہم تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستان کے پرانے زمانے سے لے کر تقریباً آٹھویں صدی سے اٹھارویں صدی عیسوی کے ابتدائی زمانہ تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہاں ہم رومیلا تھاپر کی کتاب سے ایک پارہ نقل ک
رومیلا تھاپر ہندوستان کی معروف اسکالر ہیں جن کو دنیا بھر میں تاریخ داں اور سماجی کارکن کے طور پر شہرت ملی۔ ان کی کتاب ہندوستان کا وسطی دور کو نہایت اہم تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستان کے پرانے زمانے سے لے کر تقریباً آٹھویں صدی سے اٹھارویں صدی عیسوی کے ابتدائی زمانہ تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہاں ہم رومیلا تھاپر کی کتاب سے ایک پارہ نقل کررہے ہیں جو تاریخ میں دل چسپی رکھنے والے قارئین کی توجہ کا باعث بنے گا۔ اس کے مترجم کبیر کوثر ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: عہدِ وسطیٰ میں جو سب سے اہم تبدیلی ہوئی وہ یہ تھی کہ لگان کی وصولی کا وہ بندوبست نہیں رہا جو عہدِ اولی میں تھا۔ اب لگان کی وصولی پر بادشاہ کا براہِ راست اختیار نہ رہا۔ اس تبدیلی سے زندگی کے دوسرے شعبوں پر بھی اثر پڑا۔ ہم نے گپت عہد میں دیکھا کہ کچھ افسران کو نقد تنخواہ نہیں دی جاتی تھی بلکہ انہیں لگان وصول کرنے کا اختیار دے دیا جاتا تھا۔ یعنی تنخواہ کی بجائے کسی گاؤں یا قطعۂ اراضی کا لگان افسران کو سونپ دیا جاتا تھا۔ لگان کی رقم عموماً تنخواہ کی رقم کے برابر ہوتی تھی۔ پہلے افسر کو زمین پر حق ملکیت نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ صرف زمین کا لگان وصول کر سکتا تھا لیکن عہدِ وسطی تک آتے آتے افسران دعوے کرنے لگے کہ وہ زمین کے بھی مالک ہیں۔ زمین یا زمین کے لگان کی شکل میں تنخواہ ادا کر نے کا رواج عہدِ وسطی میں بڑھ گیا۔ جن لوگوں کو ایسا تحفہ یا معافی نامہ مل جاتا تھا وہ معافی دار یا جاگیر دار مختلف القاب سے مخاطب کیے جانے لگے ( ان میں سے کچھ رائے اور ٹھاکر حالیہ زمانے تک چلے) یہ کئی قسم کے ہوتے تھے۔ ان میں سے کچھ تو افسران تھے اور کچھ مقامی سردار تھے جن کو جنگ میں ہرا دیا گیا تھا مگر ان کی زمین عطیے کے طور پر پھر ان کو دے دی گئی تھی۔ معافی داروں کا دوسرا بڑا طبقہ برہمنوں اور عالموں کا تھا جن کو زمین بھی دی جاتی تھی اور وصولی لگان کا اختیار بھی۔ ایسی معافی اگر ہار یا برہم دیو کہلاتی تھی۔ جن برہمنوں کو ایسی معافی ملی ہوئی تھی ان پر راجہ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں تھی۔ وہ اور ان کے خاندان زمین کے لگان پر آرام سے گزر کرتے تھے۔ یہ زیادہ تر وہی شکل تھی جو برہم دیو معافی کی جنوبی ہند میں تھی لیکن دوسرے معافی داروں کے ذمے راجا کی کچھ خدمت بھی تھی۔ معافی دار کاشتکار سے زمین کا لگان وصول کرتے تھے اور زیادہ حصہ اپنے لیے رکھ لینے کے بعد کچھ تھوڑا حصہ راجہ کو بھی دیتے تھے۔ اُن کو راجا کے لیے سپاہی اور سوار بھی رکھنے پڑتے تھے جن کو راجہ حسبِ ضرورت طلب کر سکتا تھا۔ جوں جوں معافی داروں کی تعداد بڑھی زیادہ سے زیادہ زمین ان کے قبضے میں آتی چلی گئی۔ اس طرح مجموعی مال گزاری جو راجہ کو بھی جاتی تھی کم ہوگئی۔ بعض اوقات ایک ضلع جس میں بہت سے گاؤں ہوتے تھے کسی بڑے افسر مثلاً وزیر کو دے دیا جاتا تھا کیوں کہ تمام علاقے سے مالگزاری وصول کرنا اس کے امکان میں نہ تھا۔ اس لیے وہ اپنے ماتحتوں کو گاؤں دے دیتا تھا۔ جو کاشت کاروں سے لگان وصول کرتے تھے۔ اس طرح راجہ اور کاشت کار کے درمیان ایک بڑی تعداد درمیانی لوگوں کی وجود میں آگئی تھی۔ معافی داروں پر مال گزاری کی وصولی کے طریقے میں اس تبدیلی سے اور بھی کئی تبدیلیاں پیدا ہو گئیں۔ عہدے داروں کا بادشاہ پر دار و مدار کم ہو گیا۔ جن کے پاس بڑی بڑی معافیاں تھیں وہ رعایا سے خود مختار فرمانرواؤں کا سا برتاؤ کرتے تھے۔ کاشت کار جو زمین کو جوتتے اور بوتے تھے معافی داروں کی زیادہ فکر رکھتے تھے کیوں کہ ان کا براہ راست انہیں سے واسطہ تھا۔ ابتدائی دور میں افسران راجہ کے نام سے لگان طلب کرتے تھے، اب مال گزاری ان افسران کے نام سے طلب کی جانے لگی جو معافی دار تھے۔ اس لیے راجہ اور کاشت کار کا کوئی قریبی واسطہ نہ رہا۔ پہلے تمام مال گزاری راجہ کو ملتی تھی اس لیے وہ بڑی اور مضبوط فوج بنانا چاہتا تو مال گزاری میں سے فاضل رقم فوج پر خرچ کر سکتا تھا لیکن اب مال گزاری راجا اور افسران میں تقسیم ہو جاتی تھی اس لیے راجہ فوج پر فاضل رقم خرچ نہیں کر سکتا تھا۔ یہ بھی ایک سبب تھا کہ شمالی ہند کی سلطنتیں ترکوں کے حملوں کے خلاف مناسب طریقے سے اپنا دفاع نہ کر سکیں۔ راجہ اور جاگیرداروں کے تعلقات مشکل اور کشیدہ ہوگئے۔ سمجا جاتا تھا کہ راجہ کو جاگیرداروں پر اختیار و اقتدار حاصل ہے لیکن جاگیر دار جب چاہتا راجہ کے لیے مشکلات کھڑی کر دیتا تھا۔ کوئی جاگیر دار راجہ کی مال گزاری وقت پر نہ بھیج کر یا بر وقتِ ضرورت دھوکہ دے کر یا فوجی امداد بروقت نہ پہنچا کر را جہ کی حالت کمزور کرسکتا تھا۔ راجہ کا دار و مدار جس قدر جاگیر داروں پر ہوتا گیا وہ اسی قدر کمزور ہوتا گیا۔ کبھی کبھی راجہ جاگیر ضبط بھی کر سکتا تھا لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا کیوں کہ جاگیر دار بہت طاقت ور ہوتا تھا۔ اس لیے راجہ کو اس کے معاملات میں دخل اندازی کرتے وقت چاق و چوبند رہنا پڑتا تھا۔ جاگیر دار ایک دوسرے سے حسد بھی کرتے رہتے تھے۔ اگرچہ سب ایک ہی راجہ کے ماتحت ہوتے تھے لیکن اکثر ان میں ایک دوسرے سے رقابت پیدا ہو جاتی تھی۔ اس رقابت کی وجہ سے اکثر لڑائیاں ہوتی تھیں۔ اگر کوئی کام ان کی منشا کے خلاف کیا جاتا یا کوئی بات ان کو ناپسند ہوتی تو وہ فوراً مخالفانہ کارروائی شروع کر دیتے تھے۔ ہر تنازع جنگ سے طے ہوتا تھا۔ یا تو ایک جاگیر دار دوسرے کو للکارتا یا پھر جنگ شروع کر دیتا۔ لڑائی نام و نمود کا بھی ایک ذریعہ تھی۔ اس طرح اکثر مال گزاری کے بے جا صرف کرنے کا یہ طریقہ سا بن گیا تھا۔ جب کوئی جاگیر دار محسوس کرتا تھا کہ وہ کافی طاقت ور ہو گیا ہے تو وہ حکمراں راجہ کے خلاف اپنی آزادی کا اعلان کر کے اپنی حکومت قائم کر لیتا تھا۔ اکثر راجہ کمزور ہوتا تھا اس لیے وہ جاگیر دار کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا۔ اس نظام سے جن لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا وہ کاشت کار تھے۔ وہ آقا کو صرف لگان ہی نہیں دیتے تھے بلکہ ان کو اس کی ساری بیگاریں بھی کرنی پڑتی تھیں۔ جاگیر دار اکثر فاصل ٹیکس بھی وصول کرتے تھے۔ کسانوں کو، سٹرکوں، کارخانوں اور سنچائی کے پانی پر بھی ٹیکس The latest findings add a new dimension to an already closely watched situation.
The Road Ahead
What this development ultimately means remains to be seen. But its significance — both in the immediate term and over the longer horizon — is already being felt by those involved and those watching from the outside.
رومیلا تھاپر ہندوستان کی معروف اسکالر ہیں جن کو دنیا بھر میں تاریخ داں اور سماجی کارکن کے طور پر شہرت ملی۔ ان کی کتاب ہندوستان کا وسطی دور کو نہایت اہم تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستان کے پرانے زمانے سے لے کر تقریباً آٹھویں صدی سے اٹھارویں صدی عیسوی کے ابتدائی زمانہ تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہاں ہم رومیلا تھاپر کی کتاب سے ایک پارہ نقل کررہے ہیں جو تاریخ میں دل چسپی رکھنے والے قارئین کی توجہ کا باعث بنے گا۔ اس کے مترجم کبیر کوثر ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: عہدِ وسطیٰ میں جو سب سے اہم تبدیلی ہوئی وہ یہ تھی کہ لگان کی وصولی کا وہ بندوبست نہیں رہا جو عہدِ اولی میں تھا۔ اب لگان کی وصولی پر بادشاہ کا براہِ راست اختیار نہ رہا۔ اس تبدیلی سے زندگی کے دوسرے شعبوں پر بھی اثر پڑا۔ ہم نے گپت عہد میں دیکھا کہ کچھ افسران کو نقد تنخواہ نہیں دی جاتی تھی بلکہ انہیں لگان وصول کرنے کا اختیار دے دیا جاتا تھا۔ یعنی تنخواہ کی بجائے کسی گاؤں یا قطعۂ اراضی کا لگان افسران کو سونپ دیا جاتا تھا۔ لگان کی رقم عموماً تنخواہ کی رقم کے برابر ہوتی تھی۔ پہلے افسر کو زمین پر حق ملکیت نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ صرف زمین کا لگان وصول کر سکتا تھا لیکن عہدِ وسطی تک آتے آتے افسران دعوے کرنے لگے کہ وہ زمین کے بھی مالک ہیں۔ زمین یا زمین کے لگان کی شکل میں تنخواہ ادا کر نے کا رواج عہدِ وسطی میں بڑھ گیا۔ جن لوگوں کو ایسا تحفہ یا معافی نامہ مل جاتا تھا وہ معافی دار یا جاگیر دار مختلف القاب سے مخاطب کیے جانے لگے ( ان میں سے کچھ رائے اور ٹھاکر حالیہ زمانے تک چلے) یہ کئی قسم کے ہوتے تھے۔ ان میں سے کچھ تو افسران تھے اور کچھ مقامی سردار تھے جن کو جنگ میں ہرا دیا گیا تھا مگر ان کی زمین عطیے کے طور پر پھر ان کو دے دی گئی تھی۔ معافی داروں کا دوسرا بڑا طبقہ برہمنوں اور عالموں کا تھا جن کو زمین بھی دی جاتی تھی اور وصولی لگان کا اختیار بھی۔ ایسی معافی اگر ہار یا برہم دیو کہلاتی تھی۔ جن برہمنوں کو ایسی معافی ملی ہوئی تھی ان پر راجہ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں تھی۔ وہ اور ان کے خاندان زمین کے لگان پر آرام سے گزر کرتے تھے۔ یہ زیادہ تر وہی شکل تھی جو برہم دیو معافی کی جنوبی ہند میں تھی لیکن دوسرے معافی داروں کے ذمے راجا کی کچھ خدمت بھی تھی۔ معافی دار کاشتکار سے زمین کا لگان وصول کرتے تھے اور زیادہ حصہ اپنے لیے رکھ لینے کے بعد کچھ تھوڑا حصہ راجہ کو بھی دیتے تھے۔ اُن کو راجا کے لیے سپاہی اور سوار بھی رکھنے پڑتے تھے جن کو راجہ حسبِ ضرورت طلب کر سکتا تھا۔ جوں جوں معافی داروں کی تعداد بڑھی زیادہ سے زیادہ زمین ان کے قبضے میں آتی چلی گئی۔ اس طرح مجموعی مال گزاری جو راجہ کو بھی جاتی تھی کم ہوگئی۔ بعض اوقات ایک ضلع جس میں بہت سے گاؤں ہوتے تھے کسی بڑے افسر مثلاً وزیر کو دے دیا جاتا تھا کیوں کہ تمام علاقے سے مالگزاری وصول کرنا اس کے امکان میں نہ تھا۔ اس لیے وہ اپنے ماتحتوں کو گاؤں دے دیتا تھا۔ جو کاشت کاروں سے لگان وصول کرتے تھے۔ اس طرح راجہ اور کاشت کار کے درمیان ایک بڑی تعداد درمیانی لوگوں کی وجود میں آگئی تھی۔ معافی داروں پر مال گزاری کی وصولی کے طریقے میں اس تبدیلی سے اور بھی کئی تبدیلیاں پیدا ہو گئیں۔ عہدے داروں کا بادشاہ پر دار و مدار کم ہو گیا۔ جن کے پاس بڑی بڑی معافیاں تھیں وہ رعایا سے خود مختار فرمانرواؤں کا سا برتاؤ کرتے تھے۔ کاشت کار جو زمین کو جوتتے اور بوتے تھے معافی داروں کی زیادہ فکر رکھتے تھے کیوں کہ ان کا براہ راست انہیں سے واسطہ تھا۔ ابتدائی دور میں افسران راجہ کے نام سے لگان طلب کرتے تھے، اب مال گزاری ان افسران کے نام سے طلب کی جانے لگی جو معافی دار تھے۔ اس لیے راجہ اور کاشت کار کا کوئی قریبی واسطہ نہ رہا۔ پہلے تمام مال گزاری راجہ کو ملتی تھی اس لیے وہ بڑی اور مضبوط فوج بنانا چاہتا تو مال گزاری میں سے فاضل رقم فوج پر خرچ کر سکتا تھا لیکن اب مال گزاری راجا اور افسران میں تقسیم ہو جاتی تھی اس لیے راجہ فوج پر فاضل رقم خرچ نہیں کر سکتا تھا۔ یہ بھی ایک سبب تھا کہ شمالی ہند کی سلطنتیں ترکوں کے حملوں کے خلاف مناسب طریقے سے اپنا دفاع نہ کر سکیں۔ راجہ اور جاگیرداروں کے تعلقات مشکل اور کشیدہ ہوگئے۔ سمجا جاتا تھا کہ راجہ کو جاگیرداروں پر اختیار و اقتدار حاصل ہے لیکن جاگیر دار جب چاہتا راجہ کے لیے مشکلات کھڑی کر دیتا تھا۔ کوئی جاگیر دار راجہ کی مال گزاری وقت پر نہ بھیج کر یا بر وقتِ ضرورت دھوکہ دے کر یا فوجی امداد بروقت نہ پہنچا کر را جہ کی حالت کمزور کرسکتا تھا۔ راجہ کا دار و مدار جس قدر جاگیر داروں پر ہوتا گیا وہ اسی قدر کمزور ہوتا گیا۔ کبھی کبھی راجہ جاگیر ضبط بھی کر سکتا تھا لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا کیوں کہ جاگیر دار بہت طاقت ور ہوتا تھا۔ اس لیے راجہ کو اس کے معاملات میں دخل اندازی کرتے وقت چاق و چوبند رہنا پڑتا تھا۔ جاگیر دار ایک دوسرے سے حسد بھی کرتے رہتے تھے۔ اگرچہ سب ایک ہی راجہ کے ماتحت ہوتے تھے لیکن اکثر ان میں ایک دوسرے سے رقابت پیدا ہو جاتی تھی۔ اس رقابت کی وجہ سے اکثر لڑائیاں ہوتی تھیں۔ اگر کوئی کام ان کی منشا کے خلاف کیا جاتا یا کوئی بات ان کو ناپسند ہوتی تو وہ فوراً مخالفانہ کارروائی شروع کر دیتے تھے۔ ہر تنازع جنگ سے طے ہوتا تھا۔ یا تو ایک جاگیر دار دوسرے کو للکارتا یا پھر جنگ شروع کر دیتا۔ لڑائی نام و نمود کا بھی ایک ذریعہ تھی۔ اس طرح اکثر مال گزاری کے بے جا صرف کرنے کا یہ طریقہ سا بن گیا تھا۔ جب کوئی جاگیر دار محسوس کرتا تھا کہ وہ کافی طاقت ور ہو گیا ہے تو وہ حکمراں راجہ کے خلاف اپنی آزادی کا اعلان کر کے اپنی حکومت قائم کر لیتا تھا۔ اکثر راجہ کمزور ہوتا تھا اس لیے وہ جاگیر دار کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا۔ اس نظام سے جن لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا وہ کاشت کار تھے۔ وہ آقا کو صرف لگان ہی نہیں دیتے تھے بلکہ ان کو اس کی ساری بیگاریں بھی کرنی پڑتی تھیں۔ جاگیر دار اکثر فاصل ٹیکس بھی وصول کرتے تھے۔ کسانوں کو، سٹرکوں، کارخانوں اور سنچائی کے پانی پر بھی ٹیکس The latest findings add a new dimension to an already closely watched situation.
آگے کی سڑک
اس ترقی کا آخر کار کیا مطلب ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔ لیکن اس کی اہمیت - فوری طور پر اور طویل افق دونوں میں - اس میں ملوث افراد اور باہر سے دیکھنے والوں کی طرف سے پہلے ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment