جمعرات، 11 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

Satnoosh Kumar: Popular hero of romantic films

ستنوش کمار: رومانوی فلموں کا مقبول ہیرو

Satnoosh Kumar: Popular hero of romantic films

پاکستانی فلمی صنعت کے وجیہ صورت، پرکشش شخصیت کے حامل اور چند شائستہ لب و لہجے کے حامل فن کاروں میں سنتوش کمار بھی شامل ہیں۔ وہ اپنے زمانہ میں رومانوی فلموں کے مقبول ہیرو تھے۔ آج ستنوش کمار کی برسی ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل ہی سنتوش کمار فلمی دنیا میں قدم رکھ چکے تھے۔ ان کا اصل نام موسیٰ رضا تھا۔ فلمی پردے پر انھوں نے سنتوش کے نام سے اپنی شناخت بنائی۔ م

پاکستانی فلمی صنعت کے وجیہ صورت، پرکشش شخصیت کے حامل اور چند شائستہ لب و لہجے کے حامل فن کاروں میں سنتوش کمار بھی شامل ہیں۔ وہ اپنے زمانہ میں رومانوی فلموں کے مقبول ہیرو تھے۔ آج ستنوش کمار کی برسی ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل ہی سنتوش کمار فلمی دنیا میں قدم رکھ چکے تھے۔ ان کا اصل نام موسیٰ رضا تھا۔ فلمی پردے پر انھوں نے سنتوش کے نام سے اپنی شناخت بنائی۔ معروف صحافی اور کالم نگار مسعود اشعر نے 1982ء میں روزنامہ امروز کے ایک مضمون میں ستنوش کمار سے متعلق لکھا: ’ اس زمانے میں مسلمان اداکار اپنا اصلی نام ظاہر کرنا معیوب خیال کرتے تھے۔ اشوک کمار اور دلیپ کمار اتنے مشہور ہو چکے تھے کہ ان کے نام پر اپنا فلمی نام رکھنا لوگ اپنی عزت اور نیک شگون سمجھتے تھے۔ موسیٰ رضا نے ممبئی کی فلمی زندگی میں اس روایت کے زیرِ اثر اپنا نام سنتوش کمار رکھ لیا۔ اداکار سنتوش کی قیام پاکستان کے بعد یہاں پہلی فلم بیلی تھی جو 1950ء میں‌ ریلیز ہوئی۔ آخری مرتبہ انھوں نے 1982ء فلم آنگن میں ایک کردار نبھایا تھا۔ سنتوش کمار کے ساتھ ایک اور نام بالخصوص گزشتہ نسل کے حافظے میں ضرور محفوظ ہے اور وہ نام ہے صبیحہ خانم۔ اپنے وقت کی مقبول فلمی ہیروئن جو سنتوش کمار کی شریکِ حیات بھی تھیں۔ صبیحہ خانم اور ستنوش کی اس جوڑی نے لوگوں نے بہت پیار اور اپنے لیے احترام سمیٹا۔ سنتوش کمار کا تعلق لاہور کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ وہ 25 دسمبر 1926ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کاروباری شخصیت تھے۔ تقسیم سے قبل وہ اپنے کنبے کو لے کر حیدرآباد دکن جیسی مرفہ الحال ریاست میں منتقل ہوگئے تھے۔ وہیں ان کے بیٹے موسیٰ رضا العمروف سنتوش کمار نے عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے تحصیل دار کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے مگر نوکری نہیں کی اور اپنے قدم فلمی دنیا کی جانب بڑھا دیے۔ اس زمانہ میں سنتوش کمار نے بمبئی کے نگار خانوں میں قدم رکھا تو انھیں دو فلموں ’ ’ اہنسا ‘ ‘ اور ’ ’ میری کہانی ‘ ‘ میں کردار نبھانے کا موقع دیا گیا۔ ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا تو وہ پاکستان ہجرت کر آئے۔ یہاں مسعود پرویز کی فلم ’ ’ بیلی ‘ ‘ سے اپنا کیریئر شروع کیا۔ یہ کہانی سعادت حسن منٹو کی تھی۔ اسی فلم میں صبیحہ نے سائیڈ ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ ’ ’ بیلی ’ ’ کام یاب فلم نہیں تھی، لیکن اس کے بعد ’ ’ دو آنسو ‘ ‘ اور ’ ’ چن وے ‘ ‘ نے سنتوش کمار کے کیریئر کو بڑا سہارا دیا۔ اس سفر میں آگے بڑھتے ہوئے سنتوش نے شہری بابو، غلام، قاتل، انتقام، سرفروش، عشق لیلیٰ، حمیدہ، سات لاکھ، وعدہ، سوال، مکھڑا اور موسیقار جیسی فلموں‌ میں‌ کام کر کے خود کو بڑا اداکار ثابت کیا۔ برصغیر کے نامور میوزک ڈائریکٹر خواجہ خورشید انور کے ساتھ ان کی فلموں ’ انتظار ‘ اور ’ گھو نگھٹ ‘ میں اداکاری پر بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی سنتوش کمار کے حصے میں آیا تھا۔ سنتوش کمار کی ایک خوبی ان کا شستہ لب و لہجہ تھا جس میں وہ جذبات میں ڈوب کر مکالموں کو اس طرح ادا کرتے تھے کہ ان کی شہرت سرحد پار بھی پہنچی۔ رومانوی ہیرو کی پہچان رکھنے والے سنتوش نے ’ سرفروش ‘ نامی ایکشن فلم میں بھی کام کیا اور فلمی شائقین سے خوب داد سمیٹی۔ شادی سے پہلے سنتوش اور صبیحہ خانم نے اکٹھے فلموں‌ میں‌ کام کیا تھا، اور پھر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا۔ اس سے قبل وہ پردۂ سیمیں پر شائقین کو اپنا مداح بنا چکے تھے۔ حقیقی زندگی میں بھی یہ جوڑی مثالی اور قابلِ رشک ثابت ہوئی۔ صبیحہ اور سنتوش نے دو دہائیوں تک پاکستانی فلموں پر راج کیا۔ سنتوش کمار نے ان کے علاوہ سورن لتا، شمیم آرا، شمی، مسرت نذیر، آشا بھوسلے، مینا شوری، اور راگنی جیسی مشہور اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا اور ان کی رومانوی فلمیں بہت پسند کی گئی۔ اداکار سنتوش کمار کی چند دیگر یادگار فلموں میں دامن، کنیز، دیور بھابی، تصویر، شام ڈھلے، انجمن، نائلہ، چنگاری، لوری، گھونگھٹ اور پاک دامن شامل ہیں۔ مجموعی طور پر انھوں نے 92 فلموں میں اداکاری کی۔ انھیں بہترین اداکاری پر تین مرتبہ نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اداکار سنتوش کمار 1982ء میں آج ہی کے دن وفات پاگئے تھے۔ وہ لاہور میں مسلم ٹاؤن کے قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ The matter has quickly moved to the forefront of national discussion.

What Comes Next

As the full scope of these developments becomes clear, questions about what comes next remain at the forefront. Officials and analysts agree that the situation warrants continued close attention.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.