پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مذاکرات کی پیشکش خوش آئند ہے مگر مذاکرات کی پیشکش زبانی جمع خرچ نہیں ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو خود چل کر آنا چاہیے مگر ابھی تک انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ آگے نہیں بڑھایا۔ قائمہ کمیٹیوں سے ہم نکل چکے اور واپس نہیں جا رہے۔ بیرسٹر گوہر کو یاد نہیں کہ وزیر اعظم پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشک
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مذاکرات کی پیشکش خوش آئند ہے مگر مذاکرات کی پیشکش زبانی جمع خرچ نہیں ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو خود چل کر آنا چاہیے مگر ابھی تک انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ آگے نہیں بڑھایا۔ قائمہ کمیٹیوں سے ہم نکل چکے اور واپس نہیں جا رہے۔ بیرسٹر گوہر کو یاد نہیں کہ وزیر اعظم پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشک
As the situation continues to unfold, پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مذاکرات کی پیشکش خوش آئند ہے مگر مذاکرات کی پیشکش زبانی جمع خرچ نہیں ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو خود چل کر آنا چاہیے مگر ابھی تک انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ آگے نہیں بڑھایا۔ قائمہ کمیٹیوں سے ہم نکل چکے اور واپس نہیں جا رہے۔ بیرسٹر گوہر کو یاد نہیں کہ وزیر اعظم پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش اس سے پہلے متعدد بار کرچکے ہیں اور پی ٹی آئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں حکومت سے پہلے خود ہی مذاکرات کیے تھے اور خود ہی مذاکرات آگے بڑھانے سے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کے بانی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کر دیا تھا کہ مذاکرات اس بے اختیار حکومت سے نہیں، بلکہ اصل طاقتوروں یعنی اسٹیبلشمنٹ سے کیے جائیں گے۔ پی ٹی آئی خود مذاکرات چھوڑ کر چلی گئی تھی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے صاف کہہ دیا تھا کہ جس سیاسی پارٹی نے مذاکرات کرنے ہیں حکومت وقت کے ساتھ کرے۔ بانی اور پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کی بجائے احتجاج، دھرنوں اور جلسوں کے ذریعے اپنا دباؤ بڑھانے کے حربے اختیار کرتی رہی اور دو سال بعد اب چیئرمین پی ٹی آئی وزیر اعظم ہی کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے صرف جمع خرچ کر رہے ہیں ، ہماری طرف ہاتھ آگے نہیں بڑھا رہے۔ پہلے مذاکرات سے فرار پھر اسی حکومت سے مذاکرات کی خواہش سے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے پرانے موقف کو مایوس ہو کر تبدیل کر چکی ہے اور اب اسپیکر قومی اسمبلی کی بجائے وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے مگر چاہتی ہے کہ وزیر اعظم اپوزیشن کے پاس خود چل کر آئیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اتحادی حکومت کے سربراہ ہیں اور پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے اپوزیشن لیڈر اور اپنے پرانے اتحادی محمود خان اچکزئی کو ملاقات کی دعوت دے چکے ہیں جو انھوں نے پی ٹی آئی کی ناراضگی کے خوف سے قبول نہیں کی تھی اور وزیر اعظم کو خود آ کر ملنے کے لیے کہا تھا۔ مگر عالمی جنگی صورت حال کے باعث ایسا نہ کر سکے اور ویسے بھی وزیر اعظم کا اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں آ کر ملنا کوئی معیوب بات نہیں ماضی میں پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کے سوا ملک کا ہر وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر سے ملتا اور اپوزیشن کے ساتھ ملتا رہا ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعظم جو خود بھی موجودہ حکومت کے سربراہ کی طرح اتحادی وزیر اعظم تھے وہ پہلے تو شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر تیار نہیں تھے مگر انھیں مجبوراً شہباز شریف کو بنوانا پڑا تھا مگر انھوں نے کبھی اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن سے اہم ملکی معاملات پر ملنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور جھوٹا الزام لگایا تھا کہ اپوزیشن این آر او کے لیے مجھ سے ملنا چاہتی ہے، مگر میں نہیں ملوں گا۔ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کو میثاق معیشت کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی تھی مگر پی ٹی آئی کے وزیر اعظم میں اتنا تکبر تھا کہ انھوں نے ایک اہم موقع پر اپوزیشن کو بلایا مگر ملے بغیر اندر چلے گئے تھے اور اپوزیشن ان کا منہ بھی نہ دیکھ سکی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نیک نیت نہ ہوتے تو کبھی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت نہ دیتے کیونکہ اپوزیشن پارٹی پی ٹی آئی خود حکومت سے جاری مذاکرات چھوڑ کر چلی گئی تھی مگر بعد میں بھی وزیر اعظم اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے رہے مگر پھر بھی وزیر اعظم پر نیک نیتی سے ہاتھ آگے نہ بڑھانے کا الزام مضحکہ خیز ہے۔ کیا وزیر اعظم اس غیر ذمے دارانہ اور ملکی مفادات کی پالیسی پر عمل پیرا اپوزیشن کی منت سماجت کریں، تو یہ ممکن ہی نہیں۔ بیرسٹر گوہر کو اپنے بانی کا غیر سیاسی و متکبرانا رویہ یاد رکھنا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے سنگل نشست کے حامل محمود خان کو پی ٹی آئی کی نامزدگی پر اپوزیشن لیڈر بنانا قبول کیا جن کا بعض امور پر سیاسی رویہ قابل اعتراض رہا ہے۔ پی ٹی آئی دور کی اپوزیشن جب سے حکومت بنی ہے تب سے بانی کا رویہ حکومت کی مخالفت میں ملک کے خلاف رہا ہے جو اپنی آئینی برطرفی کو تسلیم کرنے پر اب تک تیار نہیں اور سازش قرار دیتے آ رہے ہیں اور انھیں صرف اپنی رہائی کی فکر ہے ملکی مفادات کا انھیں خیال نہیں اور انھوں نے پی ڈی ایم حکومت کے بعد موجودہ حکومت کو بدنام کرنے اور ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا اور حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا مگر آج پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر وزیر اعظم کو خود آ کر اپوزیشن سے ملنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنی مخالف حکومت کے خلاف ہر غیر جمہوری اقدام کیا اور اب بھی قائمہ کمیٹیوں میں آنے کو تیار نہیں مگر اس کا حکومت پر تو کوئی اثر نہیں پڑا جب کہ وہ پی ٹی آئی کو متعدد بار واپسی کا کہہ بھی چکی ہے مگر پی ٹی آئی حکومت سے تعاون اور واپسی پر اب بھی تیار نہیں۔ حکومت اگر لچک دکھا رہی ہے تو پی ٹی آئی کو بھی اپنا جارحانہ اور احتجاجی رویہ تبدیل کرکے سیاسی رویہ اختیار کرنا ہوگا کیونکہ بانی کی رہائی کی ان کی تمام کوششیں ناکام ہو چکیں۔ اس کے اپنے کارکن احتجاج اور دھرنوں میں نہیں آ رہے، اس لیے وزیر اعظم کو بھی فرصت ملتے ہی اپوزیشن سے ملنے کے لیے وقت نکالنا ہوگا وہ خود بانی کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ پی ٹی آئی مخالفین نے بھی اپنے مقدمات عدالتوں میں بھگتے ہیں ،اس لیے پی ٹی آئی کو چاہیے کہ بانی سے ملاقات و رہائی کا معاملہ عدالتوں پر چھوڑے اور غیر مشروط مذاکرات کی راہ اپنائے۔ Officials are expected to release further statements.
The Road Ahead
What this development ultimately means remains to be seen. But its significance — both in the immediate term and over the longer horizon — is already being felt by those involved and those watching from the outside.
As the situation continues to unfold, پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مذاکرات کی پیشکش خوش آئند ہے مگر مذاکرات کی پیشکش زبانی جمع خرچ نہیں ہونی چاہیے اور وزیر اعظم کو خود چل کر آنا چاہیے مگر ابھی تک انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ آگے نہیں بڑھایا۔ قائمہ کمیٹیوں سے ہم نکل چکے اور واپس نہیں جا رہے۔ بیرسٹر گوہر کو یاد نہیں کہ وزیر اعظم پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش اس سے پہلے متعدد بار کرچکے ہیں اور پی ٹی آئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں حکومت سے پہلے خود ہی مذاکرات کیے تھے اور خود ہی مذاکرات آگے بڑھانے سے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کے بانی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کر دیا تھا کہ مذاکرات اس بے اختیار حکومت سے نہیں، بلکہ اصل طاقتوروں یعنی اسٹیبلشمنٹ سے کیے جائیں گے۔ پی ٹی آئی خود مذاکرات چھوڑ کر چلی گئی تھی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے صاف کہہ دیا تھا کہ جس سیاسی پارٹی نے مذاکرات کرنے ہیں حکومت وقت کے ساتھ کرے۔ بانی اور پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کی بجائے احتجاج، دھرنوں اور جلسوں کے ذریعے اپنا دباؤ بڑھانے کے حربے اختیار کرتی رہی اور دو سال بعد اب چیئرمین پی ٹی آئی وزیر اعظم ہی کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے صرف جمع خرچ کر رہے ہیں ، ہماری طرف ہاتھ آگے نہیں بڑھا رہے۔ پہلے مذاکرات سے فرار پھر اسی حکومت سے مذاکرات کی خواہش سے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے پرانے موقف کو مایوس ہو کر تبدیل کر چکی ہے اور اب اسپیکر قومی اسمبلی کی بجائے وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے مگر چاہتی ہے کہ وزیر اعظم اپوزیشن کے پاس خود چل کر آئیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اتحادی حکومت کے سربراہ ہیں اور پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے اپوزیشن لیڈر اور اپنے پرانے اتحادی محمود خان اچکزئی کو ملاقات کی دعوت دے چکے ہیں جو انھوں نے پی ٹی آئی کی ناراضگی کے خوف سے قبول نہیں کی تھی اور وزیر اعظم کو خود آ کر ملنے کے لیے کہا تھا۔ مگر عالمی جنگی صورت حال کے باعث ایسا نہ کر سکے اور ویسے بھی وزیر اعظم کا اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں آ کر ملنا کوئی معیوب بات نہیں ماضی میں پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کے سوا ملک کا ہر وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر سے ملتا اور اپوزیشن کے ساتھ ملتا رہا ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعظم جو خود بھی موجودہ حکومت کے سربراہ کی طرح اتحادی وزیر اعظم تھے وہ پہلے تو شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر تیار نہیں تھے مگر انھیں مجبوراً شہباز شریف کو بنوانا پڑا تھا مگر انھوں نے کبھی اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن سے اہم ملکی معاملات پر ملنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور جھوٹا الزام لگایا تھا کہ اپوزیشن این آر او کے لیے مجھ سے ملنا چاہتی ہے، مگر میں نہیں ملوں گا۔ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کو میثاق معیشت کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی تھی مگر پی ٹی آئی کے وزیر اعظم میں اتنا تکبر تھا کہ انھوں نے ایک اہم موقع پر اپوزیشن کو بلایا مگر ملے بغیر اندر چلے گئے تھے اور اپوزیشن ان کا منہ بھی نہ دیکھ سکی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نیک نیت نہ ہوتے تو کبھی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت نہ دیتے کیونکہ اپوزیشن پارٹی پی ٹی آئی خود حکومت سے جاری مذاکرات چھوڑ کر چلی گئی تھی مگر بعد میں بھی وزیر اعظم اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے رہے مگر پھر بھی وزیر اعظم پر نیک نیتی سے ہاتھ آگے نہ بڑھانے کا الزام مضحکہ خیز ہے۔ کیا وزیر اعظم اس غیر ذمے دارانہ اور ملکی مفادات کی پالیسی پر عمل پیرا اپوزیشن کی منت سماجت کریں، تو یہ ممکن ہی نہیں۔ بیرسٹر گوہر کو اپنے بانی کا غیر سیاسی و متکبرانا رویہ یاد رکھنا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے سنگل نشست کے حامل محمود خان کو پی ٹی آئی کی نامزدگی پر اپوزیشن لیڈر بنانا قبول کیا جن کا بعض امور پر سیاسی رویہ قابل اعتراض رہا ہے۔ پی ٹی آئی دور کی اپوزیشن جب سے حکومت بنی ہے تب سے بانی کا رویہ حکومت کی مخالفت میں ملک کے خلاف رہا ہے جو اپنی آئینی برطرفی کو تسلیم کرنے پر اب تک تیار نہیں اور سازش قرار دیتے آ رہے ہیں اور انھیں صرف اپنی رہائی کی فکر ہے ملکی مفادات کا انھیں خیال نہیں اور انھوں نے پی ڈی ایم حکومت کے بعد موجودہ حکومت کو بدنام کرنے اور ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا اور حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا مگر آج پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر وزیر اعظم کو خود آ کر اپوزیشن سے ملنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنی مخالف حکومت کے خلاف ہر غیر جمہوری اقدام کیا اور اب بھی قائمہ کمیٹیوں میں آنے کو تیار نہیں مگر اس کا حکومت پر تو کوئی اثر نہیں پڑا جب کہ وہ پی ٹی آئی کو متعدد بار واپسی کا کہہ بھی چکی ہے مگر پی ٹی آئی حکومت سے تعاون اور واپسی پر اب بھی تیار نہیں۔ حکومت اگر لچک دکھا رہی ہے تو پی ٹی آئی کو بھی اپنا جارحانہ اور احتجاجی رویہ تبدیل کرکے سیاسی رویہ اختیار کرنا ہوگا کیونکہ بانی کی رہائی کی ان کی تمام کوششیں ناکام ہو چکیں۔ اس کے اپنے کارکن احتجاج اور دھرنوں میں نہیں آ رہے، اس لیے وزیر اعظم کو بھی فرصت ملتے ہی اپوزیشن سے ملنے کے لیے وقت نکالنا ہوگا وہ خود بانی کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ پی ٹی آئی مخالفین نے بھی اپنے مقدمات عدالتوں میں بھگتے ہیں ،اس لیے پی ٹی آئی کو چاہیے کہ بانی سے ملاقات و رہائی کا معاملہ عدالتوں پر چھوڑے اور غیر مشروط مذاکرات کی راہ اپنائے۔ Officials are expected to release further statements.
آگے کی سڑک
اس ترقی کا آخر کار کیا مطلب ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔ لیکن اس کی اہمیت - فوری طور پر اور طویل افق دونوں میں - اس میں ملوث افراد اور باہر سے دیکھنے والوں کی طرف سے پہلے ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment