اسلام آباد: پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ، جس میں 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر مشال پاکستان نے ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026 جاری کر دی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس رپورٹ میں پاکستان کے آئینی حقوق اور شہریوں کے روز
اسلام آباد: پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ، جس میں 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر مشال پاکستان نے ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026 جاری کر دی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس رپورٹ میں پاکستان کے آئینی حقوق اور شہریوں کے روز
Breaking from recent trends, اسلام آباد: پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ، جس میں 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر مشال پاکستان نے ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026 جاری کر دی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس رپورٹ میں پاکستان کے آئینی حقوق اور شہریوں کے روزمرہ عملی تجربات کا ایک جامع موازنہ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں آزادیوں، معیشت اور سماجی رجحانات کی حقیقی تصویر سامنے لانا ہے۔ رپورٹ کی تیاری کے لیے ملک بھر میں 2 ہزار رائے دہندگان پر مشتمل ایک وسیع سروے کیا گیا، جس میں شرحِ تعلیم کو خاص اہمیت دی گئی، سروے میں 67 فیصد گریجویٹس، 32 فیصد ماسٹرز ڈگری ہولڈرز اور 1 فیصد پی ایچ ڈی ڈاکٹرز شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، ملک کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ ہو چکی ہے، جبکہ 2024 کے عام انتخابات کے لیے 92 ہزار 353 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے اور 14 لاکھ کا انتخابی عملہ تعینات کیا گیا تھا۔ سروے رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل رسائی اور آزادی اب پاکستان کی معاشی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بن چکی ہے اور معلومات کا حصول تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہا ہے۔ ملک میں موبائل فون کنیکشنز کی تعداد 19 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے، تاہم خواتین کے پاس موبائل فون رکھنے کے امکانات مردوں سے 20 فیصد کم ہیں جبکہ براڈبینڈ انٹرنیٹ صارفین 14 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئے ہیں اور ملک میں 2 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر نیٹ ورک موجود ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی اور فری لانس برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ملک میں 120 سے زائد ٹی وی چینلز اور سینکڑوں ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں ، شہریوں میں 24 فیصد فیس بک، 20 فیصد واٹس ایپ اور 15 فیصد شہری ایکس ( ٹویٹر) سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ 55 فیصد افراد نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر جانبدار معلومات کی رسائی پر خدشات کا اظہار کیا ہے، ڈیجیٹل ذرائع مس انفارمیشن ( گمراہ کن معلومات) ، معاشرتی تقسیم اور ہراسانی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں برانچ لیس والٹس کے صارفین کی تعداد 12 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد نے کاروباری اور شخصی آزادیوں پر اطمینان کا اظہار کیا، 77 فیصد پاکستانی اپنے پیشے کے انتخاب میں اور 75 فیصد شہری کاروبار کرنے کی آزادی پر مثبت رائے رکھتے ہیں، ملک کی مجموعی لیبر فورس 7 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہے، جس میں خواتین کی شرکت 20 سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔ 75 فیصد افراد نے خواتین کے لیے ترقی کے مواقع پر اطمینان ظاہر کیا، تاہم وفاقی کابینہ میں خواتین کی شمولیت صرف 9 سے 10 فیصد ہے جبکہ 65 فیصد رائے دہندگان مذہبی آزادی اور حقوق کے تحفظ سے مطمئن ہیں۔ ملک میں 6 لاکھ مساجد، 36 ہزار مدارس، 2 ہزار چرچ سمیت ہندوؤں کے مندر اور سکھوں کے گردوارے بھی موجود ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کے نظامِ عدل اور جیلوں میں قیدیوں کی تعداد پر سنگین اعداد و شمار سامنے آئے ، سپریم کورٹ میں 59 ہزار، ہائی کورٹس میں ساڑھے 4 لاکھ اور ضلعی عدالتوں میں 17 لاکھ 40 ہزار سے زائد مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی جیلوں میں 1 لاکھ 2 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے 166 فیصد اور سندھ کی جیلوں میں 161 فیصد زیادہ قیدی بند ہیں۔ سال 2024 میں ملک بھر میں مذہبی گستاخی کے 344 الزامات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 62 فیصد پنجاب اور 30 فیصد سندھ میں لگائے گئے۔ ان الزامات میں سے 243 مسلمانوں جبکہ 101 غیر مسلموں پر لگائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی دباؤ اور ڈیجیٹل معلومات حکومتی کارکردگی پر شہریوں کے تاثرات پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں، ملک کے 58 فیصد پاکستانی اپنے مالی تحفظ سے متعلق شدید خدشات رکھتے ہیں جبکہ 62 فیصد شہری حکومتی فیصلوں پر اپنا اثر و رسوخ انتہائی محدود سمجھتے ہیں اور صرف 35 فیصد شہری پاکستان کی مثبت سمت کے بارے میں پرامید ہیں۔ تعلیم کے میدان میں پرائمری اسکولوں میں بچوں کا داخلہ 69 فیصد ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم ( ہائر ایجوکیشن) حاصل کرنے کی شرح صرف 13 فیصد ہے۔ The news has sparked debate among key stakeholders.
What Happens Next
Key actors in this story have not yet issued final statements, and the situation remains fluid. Updates will be reported as they become available, with the expectation that more information will emerge soon.
Breaking from recent trends, اسلام آباد: پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ، جس میں 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر مشال پاکستان نے ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026 جاری کر دی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس رپورٹ میں پاکستان کے آئینی حقوق اور شہریوں کے روزمرہ عملی تجربات کا ایک جامع موازنہ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں آزادیوں، معیشت اور سماجی رجحانات کی حقیقی تصویر سامنے لانا ہے۔ رپورٹ کی تیاری کے لیے ملک بھر میں 2 ہزار رائے دہندگان پر مشتمل ایک وسیع سروے کیا گیا، جس میں شرحِ تعلیم کو خاص اہمیت دی گئی، سروے میں 67 فیصد گریجویٹس، 32 فیصد ماسٹرز ڈگری ہولڈرز اور 1 فیصد پی ایچ ڈی ڈاکٹرز شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، ملک کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ ہو چکی ہے، جبکہ 2024 کے عام انتخابات کے لیے 92 ہزار 353 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے اور 14 لاکھ کا انتخابی عملہ تعینات کیا گیا تھا۔ سروے رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل رسائی اور آزادی اب پاکستان کی معاشی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بن چکی ہے اور معلومات کا حصول تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہا ہے۔ ملک میں موبائل فون کنیکشنز کی تعداد 19 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے، تاہم خواتین کے پاس موبائل فون رکھنے کے امکانات مردوں سے 20 فیصد کم ہیں جبکہ براڈبینڈ انٹرنیٹ صارفین 14 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئے ہیں اور ملک میں 2 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر نیٹ ورک موجود ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی اور فری لانس برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ملک میں 120 سے زائد ٹی وی چینلز اور سینکڑوں ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں ، شہریوں میں 24 فیصد فیس بک، 20 فیصد واٹس ایپ اور 15 فیصد شہری ایکس ( ٹویٹر) سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ 55 فیصد افراد نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر جانبدار معلومات کی رسائی پر خدشات کا اظہار کیا ہے، ڈیجیٹل ذرائع مس انفارمیشن ( گمراہ کن معلومات) ، معاشرتی تقسیم اور ہراسانی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں برانچ لیس والٹس کے صارفین کی تعداد 12 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد نے کاروباری اور شخصی آزادیوں پر اطمینان کا اظہار کیا، 77 فیصد پاکستانی اپنے پیشے کے انتخاب میں اور 75 فیصد شہری کاروبار کرنے کی آزادی پر مثبت رائے رکھتے ہیں، ملک کی مجموعی لیبر فورس 7 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہے، جس میں خواتین کی شرکت 20 سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔ 75 فیصد افراد نے خواتین کے لیے ترقی کے مواقع پر اطمینان ظاہر کیا، تاہم وفاقی کابینہ میں خواتین کی شمولیت صرف 9 سے 10 فیصد ہے جبکہ 65 فیصد رائے دہندگان مذہبی آزادی اور حقوق کے تحفظ سے مطمئن ہیں۔ ملک میں 6 لاکھ مساجد، 36 ہزار مدارس، 2 ہزار چرچ سمیت ہندوؤں کے مندر اور سکھوں کے گردوارے بھی موجود ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کے نظامِ عدل اور جیلوں میں قیدیوں کی تعداد پر سنگین اعداد و شمار سامنے آئے ، سپریم کورٹ میں 59 ہزار، ہائی کورٹس میں ساڑھے 4 لاکھ اور ضلعی عدالتوں میں 17 لاکھ 40 ہزار سے زائد مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی جیلوں میں 1 لاکھ 2 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے 166 فیصد اور سندھ کی جیلوں میں 161 فیصد زیادہ قیدی بند ہیں۔ سال 2024 میں ملک بھر میں مذہبی گستاخی کے 344 الزامات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 62 فیصد پنجاب اور 30 فیصد سندھ میں لگائے گئے۔ ان الزامات میں سے 243 مسلمانوں جبکہ 101 غیر مسلموں پر لگائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی دباؤ اور ڈیجیٹل معلومات حکومتی کارکردگی پر شہریوں کے تاثرات پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں، ملک کے 58 فیصد پاکستانی اپنے مالی تحفظ سے متعلق شدید خدشات رکھتے ہیں جبکہ 62 فیصد شہری حکومتی فیصلوں پر اپنا اثر و رسوخ انتہائی محدود سمجھتے ہیں اور صرف 35 فیصد شہری پاکستان کی مثبت سمت کے بارے میں پرامید ہیں۔ تعلیم کے میدان میں پرائمری اسکولوں میں بچوں کا داخلہ 69 فیصد ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم ( ہائر ایجوکیشن) حاصل کرنے کی شرح صرف 13 فیصد ہے۔ The news has sparked debate among key stakeholders.
آگے کیا ہوتا ہے۔
اس کہانی کے اہم اداکاروں نے ابھی تک حتمی بیانات جاری نہیں کیے ہیں، اور صورت حال بدستور جاری ہے۔ اپ ڈیٹس کے دستیاب ہوتے ہی ان کی اطلاع دی جائے گی، اس امید کے ساتھ کہ جلد ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment