جب میں اس دنیا میں تھا تو میں نے بے چین ہو کر ایک بار کہا تھا، موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آج موت کی نیند پھر اچٹ گئی۔ کیا نیند، کیا موت، دونوں میں کسی کا اعتبار نہیں، جب زندہ تھے تو زندگی کا رونا تھا اور موت کی تمنا تھی، میں نے کہا تھا، قیدِ ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک شمع اور سحر کا ک
جب میں اس دنیا میں تھا تو میں نے بے چین ہو کر ایک بار کہا تھا، موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آج موت کی نیند پھر اچٹ گئی۔ کیا نیند، کیا موت، دونوں میں کسی کا اعتبار نہیں، جب زندہ تھے تو زندگی کا رونا تھا اور موت کی تمنا تھی، میں نے کہا تھا، قیدِ ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک شمع اور سحر کا ک
جب میں اس دنیا میں تھا تو میں نے بے چین ہو کر ایک بار کہا تھا، موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آج موت کی نیند پھر اچٹ گئی۔ کیا نیند، کیا موت، دونوں میں کسی کا اعتبار نہیں، جب زندہ تھے تو زندگی کا رونا تھا اور موت کی تمنا تھی، میں نے کہا تھا، قیدِ ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک شمع اور سحر کا کیا ذکر ہے، میں نے تو کھلی کھلی بات کہہ دی تھی۔ ہاں ایک اور شعر یاد آگیا، کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجے ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا لیکن ذوقؔ نے اس سے بھی لگتی ہوئی بات کہی تھی۔ وہ نہ جانے یہ شعر کیسے کہہ گئے تھے، اب تو گھبراکے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ہاں تو میں کہاں ہوں، ابھی میرے حواس درست نہیں، لیکن یہ زمین اور یہ آسمان تو کچھ جانے بوجھے معلوم ہوتے ہیں۔ لوگوں کو ایک طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ میں بھی انہیں کے ساتھ ہو لوں۔۔۔ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں۔۔۔ اب ان راستوں پر پالکیاں جاتی ہوئی نظر نہیں آتیں، گھوڑا گاڑیاں چل رہی ہیں۔ لیکن ان کی شکل و صورت بالکل بدلی ہوئی ہے۔ آنکھوں کے سامنے سے بیسیوں ایسی گاڑیاں بھی گزر گئیں، جن میں کوئی جانور جتا ہوا نہیں تھا۔ سن رہا ہوں کہ لوگ انہیں موٹر کار کہتے ہیں۔ ان کل پرزوں سے چلنے والی گاڑیوں میں تیزی اور بھڑک تو بہت ہے لیکن پرانی سواریوں کی سی بات ان میں کہاں۔ خیر یہ تو ہونا تھا۔ آج سے نہ جانے کتنے برس پہلے جب میں اس دنیا میں تھا، تب ہی زمانہ کروٹ بدل چکا تھا۔ یہ کایا پلٹ آنکھوں کے لیے نئی چیز ہے اور دل و دماغ کو بھی حیرت میں ڈال دے لیکن میری آنکھوں نے تو اس وقت پچھلی زندگی پائی تھی۔ وہ انقلابات دیکھے تھے کہ اب کیا کہوں، حیرت کیا کروں اور کس بات پر کروں۔ بچپن اور جوانی میں قلعہ کے رنگ ڈھنگ کو دیکھا تھا۔ مغل دربار کی جھلملاتی ہوئی شمع ’ ’ داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی ‘ ‘ پھر بھی ایک نیا رنگ پیدا کر رہی تھی۔ شہر کے شریفوں اور رئیسوں کی زندگیاں دیکھی تھیں۔ دور دور تک کا سفر گھوڑوں پر، بہلیوں پر، پالکیوں پر اور ڈاک گاڑیوں پر طے کیا تھا۔ پھر ۱۸۵۷ کا غدر ہوا، غدر کیا ہوا قیامت آگئی۔ اس کے بعد پچھلی ہی زندگی میں ریل کی سواری پر دلّی سے کلکتہ کا لمبا سفر پورا کیا، معلوم نہیں کلکتہ کی شان اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہوگی۔ اس وقت یہ شہر دلہن بنا ہوا تھا جس کی یاد سے اب بھی تڑپ اٹھتا ہوں، کلکتہ کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے اور یوں تو نہ کچھ رونق میں رکھا ہے نہ اجڑی حالت میں رکھا ہے۔ نہ آبادی میں نہ ویرانے میں پھر بھی جو کچھ ہے اور جیسا کچھ ہے غنیمت ہے۔ نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے بے صدا ہوجائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن انسان جب زندگی کی مصیبتوں سے پریشان ہوجاتا ہے تو اسے دنیا چھوڑنے کی سوجھتی ہے۔ اپنے کو دھوکا دینے اور غلط راستہ پر چلنے کو اکثر لوگ خدا کی تلاش یا سچائی کا پا جانا سمجھتے ہیں۔ لیکن اس سچائی کی بھی سچائی مجھے معلوم ہے، ہاں اہلِ طلب کون سنے طعنۂ نایافت جب پانہ سکے اس کو تو آپ اپنے کو کھو آئے میں اپنے خیالات کی دھن میں کہاں نکل آیا۔ یہ تمام چیزیں، یہ مکانات اور یہ آبادی نئی بھی معلوم ہوتی ہے اور پرانی بھی، اجنبی بھی اور مانوس بھی۔ وہ سامنے دھندلکے میں لال قلعہ نظر آرہا ہے، کچھ دور پر جامع مسجد کے برج اور مینار نظر آرہے ہیں۔ میں دلّی ہی میں ہوں۔ ہائے دلّی! اس بازار کی شان تو دیکھنے کی چیز ہے۔ چاندنی چوک! The latest findings add a new dimension to an already closely watched situation.
The Broader Picture
This situation has been building for some time, shaped by a series of interconnected events.
اچھا یہ وہی پرانا چاندنی چوک ہے جو بار بار لٹا اور بار بار آباد ہوا۔ اجڑا اور بسا۔ اس کا نام تک نہیں بدلا۔ یہاں تو نئی زندگی کے شور و پکار میں بھی، یہاں کی نئی آوازوں میں بھی پرانے نام کان میں پڑ رہے ہیں، کوچۂ چیلاں، کوچۂ بلی ماراں، ان دو محلوں میں برسوں میرا قیام رہا ہے۔ بہار آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ لیکن باغ وہی رہتا ہے۔ اس بازار میں اس دوسری دنیا سے پلٹ کر کیا خریدیں۔ جب زندہ تھے تبھی یہ حال تھا کہ، درم و دام اپنے پاس کہاں چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں لیکن اس طرف کچھ کتابیں بیچنے والوں کی دکانیں ہیں۔ کتابوں کی دنیا مردوں اور زندوں دونوں کے بیچ کی دنیا ہے۔ یہاں ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ ’ ’ ہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں۔ ‘ ‘ چلیں ذرا کتابوں کی اس خیالی دنیا کی سیر کریں۔ وہ ایک طرف الماری میں کوئی نہایت اچھی اور قیمتی کتاب رکھی ہوئی ہے۔ جلد تو دیکھو کیسی خوبصورت ہے۔ سنہرے حرفوں سے کچھ لکھا ہوا بھی ہے۔ اس کے برابر چھوٹی چھوٹی کتابیں دیکھنے میں کیسی بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ارے بھئی!
Expert Analysis
With opinions divided in some quarters, the overall assessment remains significant.
ذرا یہ سامنے لگی ہوئی کتابیں تو اٹھا دینا، وہی جو سامنے کے تختے پر الماری میں لگی ہوئی ہیں۔ چھپائی اور لکھائی کے یہ کھیل پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے دیوانِ غالب، دیوان غالب، دیوان غالب مرقع چغتائی!
Impact on Americans
The impact of this situation is expected to be felt across multiple areas.
میری آنکھیں یہ کیا دیکھ رہی ہیں۔ برلن اور ہندوستان کے کئی شہروں سے یہ کتابیں نکلی ہیں۔ کیوں بھئی ذوق اور مومن، ناسخ اور آتش، میر اور سودا یہ سب کے سب غالب سے زیادہ مشہور تھے۔ ان کے کلام تو اور ٹھاٹ سے چھپے ہوں گے ذراانہیں بھی دیکھوں۔ کیا کہا؟ صرف غالب کے دیوان اس اہتمام سے نکلے ہیں۔ پھر کیا کہا؟ آج غالب کی کہی ہوئی باتوں کا سارے ہندوستان میں شور ہے، غالب پر کتابیں اور غالب پر مضامین کثرت سے نکل رہے ہیں۔ اچھا!
According to those with knowledge of the situation, یہ کہنا بھی کسی ڈاکٹر بجنوری کا ملک میں مشہور ہے کہ ہندوستان کی دو بڑی کتابیں ہیں ایک وید مقدس اور دوسری دیوان غالب۔ تو صرف رہنا سہنا ہی اس ملک کا نہیں بدلا بلکہ مذاق شاعری کی بھی کایا پلٹ گئی ہے۔ ہاں اب آپ دوسرے گاہکوں کی طرف متوجہ ہوں۔ شکریہ۔ اب میں اپنے اس شعر کو کیا کہوں، ہوں خفائی کے مقابل میں ظہوری غالب میرے دعوے پہ یہ حجّت ہے کہ مشہور نہیں پہلی زندگی میں دوسروں کی شہرت کے کھیل دیکھے تھے۔ مرنے کے بعد اپنی شہرت کے کھیل دیکھ رہا ہوں۔ وہ زندگی کی چھیڑ تھی یہ موت کی ہے۔ پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں
Looking Ahead
The full consequences of what has taken place will unfold over time. For now, the story stands as a reminder of the complexity and consequence of the issues involved — and the importance of continued attention.
جب میں اس دنیا میں تھا تو میں نے بے چین ہو کر ایک بار کہا تھا، موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آج موت کی نیند پھر اچٹ گئی۔ کیا نیند، کیا موت، دونوں میں کسی کا اعتبار نہیں، جب زندہ تھے تو زندگی کا رونا تھا اور موت کی تمنا تھی، میں نے کہا تھا، قیدِ ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک شمع اور سحر کا کیا ذکر ہے، میں نے تو کھلی کھلی بات کہہ دی تھی۔ ہاں ایک اور شعر یاد آگیا، کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجے ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا لیکن ذوقؔ نے اس سے بھی لگتی ہوئی بات کہی تھی۔ وہ نہ جانے یہ شعر کیسے کہہ گئے تھے، اب تو گھبراکے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ہاں تو میں کہاں ہوں، ابھی میرے حواس درست نہیں، لیکن یہ زمین اور یہ آسمان تو کچھ جانے بوجھے معلوم ہوتے ہیں۔ لوگوں کو ایک طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ میں بھی انہیں کے ساتھ ہو لوں۔۔۔ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں۔۔۔ اب ان راستوں پر پالکیاں جاتی ہوئی نظر نہیں آتیں، گھوڑا گاڑیاں چل رہی ہیں۔ لیکن ان کی شکل و صورت بالکل بدلی ہوئی ہے۔ آنکھوں کے سامنے سے بیسیوں ایسی گاڑیاں بھی گزر گئیں، جن میں کوئی جانور جتا ہوا نہیں تھا۔ سن رہا ہوں کہ لوگ انہیں موٹر کار کہتے ہیں۔ ان کل پرزوں سے چلنے والی گاڑیوں میں تیزی اور بھڑک تو بہت ہے لیکن پرانی سواریوں کی سی بات ان میں کہاں۔ خیر یہ تو ہونا تھا۔ آج سے نہ جانے کتنے برس پہلے جب میں اس دنیا میں تھا، تب ہی زمانہ کروٹ بدل چکا تھا۔ یہ کایا پلٹ آنکھوں کے لیے نئی چیز ہے اور دل و دماغ کو بھی حیرت میں ڈال دے لیکن میری آنکھوں نے تو اس وقت پچھلی زندگی پائی تھی۔ وہ انقلابات دیکھے تھے کہ اب کیا کہوں، حیرت کیا کروں اور کس بات پر کروں۔ بچپن اور جوانی میں قلعہ کے رنگ ڈھنگ کو دیکھا تھا۔ مغل دربار کی جھلملاتی ہوئی شمع ’ ’ داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی ‘ ‘ پھر بھی ایک نیا رنگ پیدا کر رہی تھی۔ شہر کے شریفوں اور رئیسوں کی زندگیاں دیکھی تھیں۔ دور دور تک کا سفر گھوڑوں پر، بہلیوں پر، پالکیوں پر اور ڈاک گاڑیوں پر طے کیا تھا۔ پھر ۱۸۵۷ کا غدر ہوا، غدر کیا ہوا قیامت آگئی۔ اس کے بعد پچھلی ہی زندگی میں ریل کی سواری پر دلّی سے کلکتہ کا لمبا سفر پورا کیا، معلوم نہیں کلکتہ کی شان اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہوگی۔ اس وقت یہ شہر دلہن بنا ہوا تھا جس کی یاد سے اب بھی تڑپ اٹھتا ہوں، کلکتہ کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے اور یوں تو نہ کچھ رونق میں رکھا ہے نہ اجڑی حالت میں رکھا ہے۔ نہ آبادی میں نہ ویرانے میں پھر بھی جو کچھ ہے اور جیسا کچھ ہے غنیمت ہے۔ نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے بے صدا ہوجائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن انسان جب زندگی کی مصیبتوں سے پریشان ہوجاتا ہے تو اسے دنیا چھوڑنے کی سوجھتی ہے۔ اپنے کو دھوکا دینے اور غلط راستہ پر چلنے کو اکثر لوگ خدا کی تلاش یا سچائی کا پا جانا سمجھتے ہیں۔ لیکن اس سچائی کی بھی سچائی مجھے معلوم ہے، ہاں اہلِ طلب کون سنے طعنۂ نایافت جب پانہ سکے اس کو تو آپ اپنے کو کھو آئے میں اپنے خیالات کی دھن میں کہاں نکل آیا۔ یہ تمام چیزیں، یہ مکانات اور یہ آبادی نئی بھی معلوم ہوتی ہے اور پرانی بھی، اجنبی بھی اور مانوس بھی۔ وہ سامنے دھندلکے میں لال قلعہ نظر آرہا ہے، کچھ دور پر جامع مسجد کے برج اور مینار نظر آرہے ہیں۔ میں دلّی ہی میں ہوں۔ ہائے دلّی! اس بازار کی شان تو دیکھنے کی چیز ہے۔ چاندنی چوک! The latest findings add a new dimension to an already closely watched situation.
وسیع تر تصویر
یہ صورت حال کچھ عرصے سے بن رہی ہے، جس کی شکل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے واقعات کی ایک سیریز ہے۔
اچھا یہ وہی پرانا چاندنی چوک ہے جو بار بار لٹا اور بار بار آباد ہوا۔ اجڑا اور بسا۔ اس کا نام تک نہیں بدلا۔ یہاں تو نئی زندگی کے شور و پکار میں بھی، یہاں کی نئی آوازوں میں بھی پرانے نام کان میں پڑ رہے ہیں، کوچۂ چیلاں، کوچۂ بلی ماراں، ان دو محلوں میں برسوں میرا قیام رہا ہے۔ بہار آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ لیکن باغ وہی رہتا ہے۔ اس بازار میں اس دوسری دنیا سے پلٹ کر کیا خریدیں۔ جب زندہ تھے تبھی یہ حال تھا کہ، درم و دام اپنے پاس کہاں چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں لیکن اس طرف کچھ کتابیں بیچنے والوں کی دکانیں ہیں۔ کتابوں کی دنیا مردوں اور زندوں دونوں کے بیچ کی دنیا ہے۔ یہاں ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ ’ ’ ہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں۔ ‘ ‘ چلیں ذرا کتابوں کی اس خیالی دنیا کی سیر کریں۔ وہ ایک طرف الماری میں کوئی نہایت اچھی اور قیمتی کتاب رکھی ہوئی ہے۔ جلد تو دیکھو کیسی خوبصورت ہے۔ سنہرے حرفوں سے کچھ لکھا ہوا بھی ہے۔ اس کے برابر چھوٹی چھوٹی کتابیں دیکھنے میں کیسی بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ارے بھئی!
ماہر تجزیہ
کچھ حلقوں میں منقسم رائے کے ساتھ، مجموعی تشخیص اہم رہتا ہے۔
ذرا یہ سامنے لگی ہوئی کتابیں تو اٹھا دینا، وہی جو سامنے کے تختے پر الماری میں لگی ہوئی ہیں۔ چھپائی اور لکھائی کے یہ کھیل پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے دیوانِ غالب، دیوان غالب، دیوان غالب مرقع چغتائی!
امریکیوں پر اثرات
اس صورتحال کے اثرات متعدد علاقوں میں محسوس ہونے کی توقع ہے۔
میری آنکھیں یہ کیا دیکھ رہی ہیں۔ برلن اور ہندوستان کے کئی شہروں سے یہ کتابیں نکلی ہیں۔ کیوں بھئی ذوق اور مومن، ناسخ اور آتش، میر اور سودا یہ سب کے سب غالب سے زیادہ مشہور تھے۔ ان کے کلام تو اور ٹھاٹ سے چھپے ہوں گے ذراانہیں بھی دیکھوں۔ کیا کہا؟ صرف غالب کے دیوان اس اہتمام سے نکلے ہیں۔ پھر کیا کہا؟ آج غالب کی کہی ہوئی باتوں کا سارے ہندوستان میں شور ہے، غالب پر کتابیں اور غالب پر مضامین کثرت سے نکل رہے ہیں۔ اچھا!
According to those with knowledge of the situation, یہ کہنا بھی کسی ڈاکٹر بجنوری کا ملک میں مشہور ہے کہ ہندوستان کی دو بڑی کتابیں ہیں ایک وید مقدس اور دوسری دیوان غالب۔ تو صرف رہنا سہنا ہی اس ملک کا نہیں بدلا بلکہ مذاق شاعری کی بھی کایا پلٹ گئی ہے۔ ہاں اب آپ دوسرے گاہکوں کی طرف متوجہ ہوں۔ شکریہ۔ اب میں اپنے اس شعر کو کیا کہوں، ہوں خفائی کے مقابل میں ظہوری غالب میرے دعوے پہ یہ حجّت ہے کہ مشہور نہیں پہلی زندگی میں دوسروں کی شہرت کے کھیل دیکھے تھے۔ مرنے کے بعد اپنی شہرت کے کھیل دیکھ رہا ہوں۔ وہ زندگی کی چھیڑ تھی یہ موت کی ہے۔ پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں
آگے دیکھ رہے ہیں۔
جو کچھ ہوا اس کے مکمل نتائج وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ابھی کے لیے، کہانی اس میں شامل مسائل کی پیچیدگی اور نتیجہ کی یاد دہانی کے طور پر کھڑی ہے - اور مسلسل توجہ کی اہمیت۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment