پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مفاہمت پر اتفاق کے بعد دنیا پاکستان کا ایک ذمہ دار ثالث اور ’ پیس میکر ‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے داتا دربار کے 983ویں سالانہ عرس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم شہباز شریف،
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مفاہمت پر اتفاق کے بعد دنیا پاکستان کا ایک ذمہ دار ثالث اور ’ پیس میکر ‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے داتا دربار کے 983ویں سالانہ عرس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم شہباز شریف،
Marking a significant moment in an ongoing story, پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مفاہمت پر اتفاق کے بعد دنیا پاکستان کا ایک ذمہ دار ثالث اور ’ پیس میکر ‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے داتا دربار کے 983ویں سالانہ عرس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے قوم کو داتا گنج بخشؒ کے عرس کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ داتا دربار کی توسیع ایک تاریخی منصوبہ ہے جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ ایران-امریکہ تنازع میں اہم سفارتی اور ثالثی کا کردار ادا کیا، جس کے ٹیم کپتان وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے بارے میں تاثر دیا جاتا تھا کہ وہ سفارتی طور پر تنہا ہو چکا ہے، لیکن آج دنیا پر واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں ایک مؤثر اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا تھا، تاہم اب دنیا پاکستان کو ایک پرامن اور ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایٹمی قوت بنایا، جس کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ نواز شریف نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میزائل طاقت بھی بن چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے معاشی طاقت بھی بنایا جائے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور حکومت کو ایک خراب معاشی ورثہ ملا تھا، تاہم موجودہ حکومت نے مشکلات پر قابو پاتے ہوئے معیشت کو استحکام کی طرف گامزن کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی ترقی کے اعتبار سے دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن بعد میں 47ویں نمبر تک چلا گیا، جسے دوبارہ اوپر لانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے فوری طور پر اس کی مذمت کی۔ ان کے مطابق بہت کم ممالک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا، جبکہ پاکستان نے اصولی مؤقف اپنایا۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں شدید کشیدگی اور بمباری کے باوجود پاکستان نے سفارتی رابطوں کے ذریعے امن کے قیام کے لیے کام کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بیک ڈور ڈپلومیسی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کا وقار اور احترام بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج ایک پرامن ملک کے طور پر اپنی شناخت مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں عوام، تنخواہ دار طبقے اور تاجروں کو ریلیف دیا گیا ہے اور مجموعی طور پر 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا اہم ملک ہے اور امت مسلمہ میں قیادت کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور اس کی زمین میں تیل، سونا اور دیگر قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جائے تو پاکستان معاشی طور پر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، مفاہمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کا حامی ہے اور تمام چھوٹے بڑے ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے پاکستان کو بری نظر سے دیکھا تو ملک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے زیادہ تشہیر نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 47 سال بعد ایران اور امریکہ ایک میز پر بیٹھے اور مذاکرات کا آغاز ممکن ہوا۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں طے پانے والے معاہدے کو قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی، تاہم بعض فریقین نے کسی تیسرے ملک میں ملاقات کو ترجیح دی۔ بعد ازاں قطر، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک کے تعاون سے مذاکراتی عمل آگے بڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر نے بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد میمورنڈم پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور قوم کو اس پر خوش ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 18 جون کو جی-سیون اجلاس کے دوران بھی اہم سفارتی پیش رفت ہوئی اور مختلف فریقین کے درمیان رابطے جاری رہے۔ گفتگو کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی سلامتی، ترقی اور معاشی خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کریں تاکہ ملک ایٹمی اور دفاعی قوت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر بھی دنیا میں اپنا مقام بنا سکے۔ Experts and analysts have been quick to weigh in.
What Happens Next
The situation is far from resolved, and additional details are expected to emerge as the story develops. Officials have indicated that further statements may be forthcoming, and observers will be watching closely.
Marking a significant moment in an ongoing story, پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مفاہمت پر اتفاق کے بعد دنیا پاکستان کا ایک ذمہ دار ثالث اور ’ پیس میکر ‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے داتا دربار کے 983ویں سالانہ عرس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے قوم کو داتا گنج بخشؒ کے عرس کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ داتا دربار کی توسیع ایک تاریخی منصوبہ ہے جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ ایران-امریکہ تنازع میں اہم سفارتی اور ثالثی کا کردار ادا کیا، جس کے ٹیم کپتان وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے بارے میں تاثر دیا جاتا تھا کہ وہ سفارتی طور پر تنہا ہو چکا ہے، لیکن آج دنیا پر واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں ایک مؤثر اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا تھا، تاہم اب دنیا پاکستان کو ایک پرامن اور ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایٹمی قوت بنایا، جس کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ نواز شریف نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میزائل طاقت بھی بن چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے معاشی طاقت بھی بنایا جائے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور حکومت کو ایک خراب معاشی ورثہ ملا تھا، تاہم موجودہ حکومت نے مشکلات پر قابو پاتے ہوئے معیشت کو استحکام کی طرف گامزن کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی ترقی کے اعتبار سے دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن بعد میں 47ویں نمبر تک چلا گیا، جسے دوبارہ اوپر لانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے فوری طور پر اس کی مذمت کی۔ ان کے مطابق بہت کم ممالک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا، جبکہ پاکستان نے اصولی مؤقف اپنایا۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں شدید کشیدگی اور بمباری کے باوجود پاکستان نے سفارتی رابطوں کے ذریعے امن کے قیام کے لیے کام کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بیک ڈور ڈپلومیسی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کا وقار اور احترام بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج ایک پرامن ملک کے طور پر اپنی شناخت مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں عوام، تنخواہ دار طبقے اور تاجروں کو ریلیف دیا گیا ہے اور مجموعی طور پر 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا اہم ملک ہے اور امت مسلمہ میں قیادت کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور اس کی زمین میں تیل، سونا اور دیگر قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جائے تو پاکستان معاشی طور پر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، مفاہمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کا حامی ہے اور تمام چھوٹے بڑے ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے پاکستان کو بری نظر سے دیکھا تو ملک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے زیادہ تشہیر نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 47 سال بعد ایران اور امریکہ ایک میز پر بیٹھے اور مذاکرات کا آغاز ممکن ہوا۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں طے پانے والے معاہدے کو قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی، تاہم بعض فریقین نے کسی تیسرے ملک میں ملاقات کو ترجیح دی۔ بعد ازاں قطر، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک کے تعاون سے مذاکراتی عمل آگے بڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر نے بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد میمورنڈم پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور قوم کو اس پر خوش ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 18 جون کو جی-سیون اجلاس کے دوران بھی اہم سفارتی پیش رفت ہوئی اور مختلف فریقین کے درمیان رابطے جاری رہے۔ گفتگو کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی سلامتی، ترقی اور معاشی خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کریں تاکہ ملک ایٹمی اور دفاعی قوت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر بھی دنیا میں اپنا مقام بنا سکے۔ Experts and analysts have been quick to weigh in.
آگے کیا ہوتا ہے۔
صورتحال حل ہونے سے بہت دور ہے، اور کہانی کی ترقی کے ساتھ ساتھ مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ مزید بیانات آنے والے ہیں، اور مبصرین قریب سے دیکھ رہے ہوں گے۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment