مقبوضہ فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی وقائع نگار فرانسسکا البانیز ان بین الاقوامی اہلکاروں میں شامل ہیں جنھیں اسرائیل اور امریکا اس لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں کہ وہ بنا لگی لپٹی وہ سب کہہ ڈالتی ہیں جس پر اسرائیل اور امریکا مکمل پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ نہ صرف اسرائیل اور امریکا میں ان کے داخلے پر پابندی ہے بلکہ ان کا معاشی مقاطع بھی جاری
مقبوضہ فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی وقائع نگار فرانسسکا البانیز ان بین الاقوامی اہلکاروں میں شامل ہیں جنھیں اسرائیل اور امریکا اس لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں کہ وہ بنا لگی لپٹی وہ سب کہہ ڈالتی ہیں جس پر اسرائیل اور امریکا مکمل پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ نہ صرف اسرائیل اور امریکا میں ان کے داخلے پر پابندی ہے بلکہ ان کا معاشی مقاطع بھی جاری
مقبوضہ فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی وقائع نگار فرانسسکا البانیز ان بین الاقوامی اہلکاروں میں شامل ہیں جنھیں اسرائیل اور امریکا اس لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں کہ وہ بنا لگی لپٹی وہ سب کہہ ڈالتی ہیں جس پر اسرائیل اور امریکا مکمل پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ نہ صرف اسرائیل اور امریکا میں ان کے داخلے پر پابندی ہے بلکہ ان کا معاشی مقاطع بھی جاری ہے۔ بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی منجمد ہیں مگر امریکا اور اسرائیل ان کی زبان منجمد نہیں کر پا رہے۔ بقول فرانسسکا البانیز ٹارچر اسرائیل کے ریاستی خمیر میں شامل ہے۔انیس سو اڑتالیس انتالیس کے عظیم نقبہ میں اسرائیلی ملیشیاؤں نے فلسطینیوں کی نسلی صفائی میں تیزی لانے کے لیے ریپ بطور ہتھیار استعمال کیا۔اسرائیلی مورخ بینی مورس کی نگاہ سے ابتدائی دور کی ایسی متعدد سرکاری دستاویزات گذری ہیں جن میں فوج کے ہاتھوں ریپ کے کم ازکم درجن بھر واقعات کا تذکرہ ہے۔ جن نوآبادیاتی طاقتوں نے اسرائیل کی پیدائش میں دائی کا کردار ادا کیا۔ان طاقتوں نے محکوموں پر جو جو مظالم ڈھائے۔ اسرائیل نے نہ صرف ایک اچھے شاگرد کی طرح انھیں ازبر کیا بلکہ مزید ترقی دی۔ مثلاً فلسطین کی برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے مقامی بغاوتیں دبانے کے لیے جو ایمرجنسی قوانین لاگو کیے اسرائیل نے ان قوانین کو جوں کا توں اپنی فوجداری لاگ بک میں شامل کر لیا۔ انیس سو بیس تا بائیس آئرلینڈ میں آزادی کی تحریک دبانے کے لیے برطانیہ نے بلیک اینڈ ٹینز کے نام سے پیرا ملٹری فورس تعینات کی۔اپریل انیس سو بائیس میں اس پیرا ملٹری فورس کے ساڑھے چھ سو ارکان کو ریٹائر کرنے کے بجائے فلسطین بھیجا گیا۔انھوں نے وہاں تشدد کے وہ تمام طریقے آزمائے جو وہ آئرش حریت پسندوں پر منطبق کر چکے تھے۔ انیس سو چھتیس تا انتالیس کی فلسطینی بغاوت دبانے کے لیے کرفیو لگائے گئے ، گھروں کو بارود سے اڑایا گیا۔شہریوں کو انسانی ڈھال بنایا گیا۔جافا کے پرانے شہر کو منہدم کر دیا گیا۔انتظامی قانون کے تحت کسی بھی مشکوک شہری کو غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا تھا ( اسرائیل آج تک اس قانون اور دیگر برطانوی نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کو مقبوضہ علاقوں میں مسلسل استعمال کر رہا ہے) ۔ انیس سو پچاس کی دہائی میں انھی طریقوں سے برطانیہ نے کینیا میں ماؤ ماؤ تحریکِ آزادی کچلنے کی کوشش کی۔پائپ لائن کے نام سے جانے گئے بدنام عقوبت خانے تعمیر کیے گئے۔بغاوت میں حصہ لینے والوں کے حوصلے توڑنے کے لیے اعضائے تناسل کاٹ دیے جاتے یا ٹوٹی بوتلوں سے ریپ کیا جاتا۔ تفتیش کے دوران قیدیوں کو کپڑے پہننے کی اجازت نہ ہوتی۔خواتین کو بھی مسلسل جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ فرانس بھی ان سامراجی ممالک میں شامل ہے جنھوں نے اسرائیل کو ابتدا میں نہ صرف اقتصادی آکسیجن فراہم کی ، اس کے جوہری پروگرام کی بھرپور معاونت کی ، بلکہ انیس سو چھپن میں نہر سویز کو جمال عبدالناصر حکومت کی قومی ملکیت سے چھڑوانے کے لیے ایک ناکام اجتماعی حملہ بھی کیا۔ فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر کو ٹارچر کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بنا کے رکھا۔فرانسیسی فوجیوں پر آج تک الزام ہے کہ انھوں نے انیس سو پچاس کی دہائی میں تحریکِ آزادی کچلنے کے لیے خواتین کے ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔مردوں کے نازک حصوں کو برقی جھٹکے دینا تو عام سی بات تھی۔ فرانسیسی ماہرِ نفسیات اور فلسفی فرانز فینن نے الجزائر کے بلیدہ اسپتال میں فرانسیسی فوجیوں کا بھی علاج کیا اور ان کے تشدد زدہ الجزائریوں کا بھی علاج کیا۔بقول فینن ٹارچر جنگی جرم نہیں بلکہ اس نوآبادیاتی سوچ کا نچوڑ ہے کہ کس طرح محکوموں کو مسلسل دبا کے لوٹا جا سکے۔ فرانسیسی قانون داں الجزائر میں تشدد کو قانونی پوشاک پہنانے کے لیے معتدل جسمانی دباؤ کی اصطلاح استعال کرتے تھے۔انیس سو ستاسی میں اسرائیل میں ٹارچر کی چھان بین کرنے والے لنڈاؤ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بعینہہ ٹارچر کو جواز دینے کے لیے یہی اصطلاح استعمال کی۔جب کہ انیس سو ننانوے میں اسرائیلی ہائی کورٹ نے ناگزیر حالات میں ضروری جسمانی دباؤ کے مشروط استعمال کو جائز قرار دیا۔ اب سے دو برس قبل اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک عرب رکن احمد طبی نے سوال اٹھایا کہ آیا کسی قیدی کو ڈنڈوں یا آہنی سریوں سے ریپ کرنا قانونی ہے۔نیتن یاہو کے حامی ایک رکنِ پارلیمان ہونک ملوسکی نے کہا کہ اگر قیدی کا تعلق حماس سے ہے تو ہر سلوک جائز ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جسمانی و جنسی ٹارچر کس طرح ایک نوآبادیاتی نظام سے دوسرے تک آئرلینڈ سے فلسطین ، فلسطین سے کینیا ، الجزائر سے پریٹوریا ( جنوبی افریقہ) اور وہاں سے الخلیل ( ہیبرون) تک ریلے ریس کی طرح سفر کرتا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ادامیر کے ڈائریکٹر عبدالطیف غائت کو ستاون برس پہلے انیس سو انہتر میں یروشلم کی جیل میں رکھا گیا۔انھوں نے تب کے جو تجربات بتائے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ساتھ والے سیل میں اسرائیلی تفتیش کار ایک خاتون فلسطینی قیدی رمسیا اودے کو ٹارچر کا نشانہ بنا رہے تھے۔ رمسیا کو اعترافِ جرم پر مجبور کرنے کے لیے اسے برہنہ کر کے والد کے سامنے باندھ دیا گیا۔والد نے جب بیٹی کو اس حال میں دیکھا تو انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ یہ جس بیان پر بھی دستخط کروانا چاہتے ہیں کر دے بھلے تو نہ جرم کیا ہے یا نہیں۔مگر رمسیا نے اصرار کیا کہ وہ بے گناہ ہے۔ عبدالطیف غائت کے بقول رمسیا کو مسلسل کئی روز ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔لگ بھگ دس برس بعد ( انیس سو انہتر) رمسیا کو قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں رہائی نصیب ہوئی۔ رمسیا نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیٹی کے روبرو تفصیلی شہادت میں بتایا کہ کس طرح اسے ڈنڈوں سے ریپ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔اس کے نازک اعضا اور چہرے پر برقی جھٹکے دیے جاتے رہے ، باپ کے ہاتھوں ریپ کی دھمکیاں دی گئیں۔ رمسیا کی گواہی اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کا باضابطہ حصہ ہے۔ انیس سو اناسی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ٹارچر کی ممانعت کے عالمی کنونشن کی منظوری دی۔تاہم کنونشن کی منظوری کے سینتالیس برس The news comes at a time of heightened scrutiny on the issue.
The Road Ahead
The developments detailed here represent only the latest chapter in an ongoing story. As more information becomes available, the full picture is expected to come into sharper focus for those following the situation.
مقبوضہ فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی وقائع نگار فرانسسکا البانیز ان بین الاقوامی اہلکاروں میں شامل ہیں جنھیں اسرائیل اور امریکا اس لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں کہ وہ بنا لگی لپٹی وہ سب کہہ ڈالتی ہیں جس پر اسرائیل اور امریکا مکمل پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ نہ صرف اسرائیل اور امریکا میں ان کے داخلے پر پابندی ہے بلکہ ان کا معاشی مقاطع بھی جاری ہے۔ بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی منجمد ہیں مگر امریکا اور اسرائیل ان کی زبان منجمد نہیں کر پا رہے۔ بقول فرانسسکا البانیز ٹارچر اسرائیل کے ریاستی خمیر میں شامل ہے۔انیس سو اڑتالیس انتالیس کے عظیم نقبہ میں اسرائیلی ملیشیاؤں نے فلسطینیوں کی نسلی صفائی میں تیزی لانے کے لیے ریپ بطور ہتھیار استعمال کیا۔اسرائیلی مورخ بینی مورس کی نگاہ سے ابتدائی دور کی ایسی متعدد سرکاری دستاویزات گذری ہیں جن میں فوج کے ہاتھوں ریپ کے کم ازکم درجن بھر واقعات کا تذکرہ ہے۔ جن نوآبادیاتی طاقتوں نے اسرائیل کی پیدائش میں دائی کا کردار ادا کیا۔ان طاقتوں نے محکوموں پر جو جو مظالم ڈھائے۔ اسرائیل نے نہ صرف ایک اچھے شاگرد کی طرح انھیں ازبر کیا بلکہ مزید ترقی دی۔ مثلاً فلسطین کی برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے مقامی بغاوتیں دبانے کے لیے جو ایمرجنسی قوانین لاگو کیے اسرائیل نے ان قوانین کو جوں کا توں اپنی فوجداری لاگ بک میں شامل کر لیا۔ انیس سو بیس تا بائیس آئرلینڈ میں آزادی کی تحریک دبانے کے لیے برطانیہ نے بلیک اینڈ ٹینز کے نام سے پیرا ملٹری فورس تعینات کی۔اپریل انیس سو بائیس میں اس پیرا ملٹری فورس کے ساڑھے چھ سو ارکان کو ریٹائر کرنے کے بجائے فلسطین بھیجا گیا۔انھوں نے وہاں تشدد کے وہ تمام طریقے آزمائے جو وہ آئرش حریت پسندوں پر منطبق کر چکے تھے۔ انیس سو چھتیس تا انتالیس کی فلسطینی بغاوت دبانے کے لیے کرفیو لگائے گئے ، گھروں کو بارود سے اڑایا گیا۔شہریوں کو انسانی ڈھال بنایا گیا۔جافا کے پرانے شہر کو منہدم کر دیا گیا۔انتظامی قانون کے تحت کسی بھی مشکوک شہری کو غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا تھا ( اسرائیل آج تک اس قانون اور دیگر برطانوی نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کو مقبوضہ علاقوں میں مسلسل استعمال کر رہا ہے) ۔ انیس سو پچاس کی دہائی میں انھی طریقوں سے برطانیہ نے کینیا میں ماؤ ماؤ تحریکِ آزادی کچلنے کی کوشش کی۔پائپ لائن کے نام سے جانے گئے بدنام عقوبت خانے تعمیر کیے گئے۔بغاوت میں حصہ لینے والوں کے حوصلے توڑنے کے لیے اعضائے تناسل کاٹ دیے جاتے یا ٹوٹی بوتلوں سے ریپ کیا جاتا۔ تفتیش کے دوران قیدیوں کو کپڑے پہننے کی اجازت نہ ہوتی۔خواتین کو بھی مسلسل جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ فرانس بھی ان سامراجی ممالک میں شامل ہے جنھوں نے اسرائیل کو ابتدا میں نہ صرف اقتصادی آکسیجن فراہم کی ، اس کے جوہری پروگرام کی بھرپور معاونت کی ، بلکہ انیس سو چھپن میں نہر سویز کو جمال عبدالناصر حکومت کی قومی ملکیت سے چھڑوانے کے لیے ایک ناکام اجتماعی حملہ بھی کیا۔ فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر کو ٹارچر کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بنا کے رکھا۔فرانسیسی فوجیوں پر آج تک الزام ہے کہ انھوں نے انیس سو پچاس کی دہائی میں تحریکِ آزادی کچلنے کے لیے خواتین کے ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔مردوں کے نازک حصوں کو برقی جھٹکے دینا تو عام سی بات تھی۔ فرانسیسی ماہرِ نفسیات اور فلسفی فرانز فینن نے الجزائر کے بلیدہ اسپتال میں فرانسیسی فوجیوں کا بھی علاج کیا اور ان کے تشدد زدہ الجزائریوں کا بھی علاج کیا۔بقول فینن ٹارچر جنگی جرم نہیں بلکہ اس نوآبادیاتی سوچ کا نچوڑ ہے کہ کس طرح محکوموں کو مسلسل دبا کے لوٹا جا سکے۔ فرانسیسی قانون داں الجزائر میں تشدد کو قانونی پوشاک پہنانے کے لیے معتدل جسمانی دباؤ کی اصطلاح استعال کرتے تھے۔انیس سو ستاسی میں اسرائیل میں ٹارچر کی چھان بین کرنے والے لنڈاؤ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بعینہہ ٹارچر کو جواز دینے کے لیے یہی اصطلاح استعمال کی۔جب کہ انیس سو ننانوے میں اسرائیلی ہائی کورٹ نے ناگزیر حالات میں ضروری جسمانی دباؤ کے مشروط استعمال کو جائز قرار دیا۔ اب سے دو برس قبل اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک عرب رکن احمد طبی نے سوال اٹھایا کہ آیا کسی قیدی کو ڈنڈوں یا آہنی سریوں سے ریپ کرنا قانونی ہے۔نیتن یاہو کے حامی ایک رکنِ پارلیمان ہونک ملوسکی نے کہا کہ اگر قیدی کا تعلق حماس سے ہے تو ہر سلوک جائز ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جسمانی و جنسی ٹارچر کس طرح ایک نوآبادیاتی نظام سے دوسرے تک آئرلینڈ سے فلسطین ، فلسطین سے کینیا ، الجزائر سے پریٹوریا ( جنوبی افریقہ) اور وہاں سے الخلیل ( ہیبرون) تک ریلے ریس کی طرح سفر کرتا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ادامیر کے ڈائریکٹر عبدالطیف غائت کو ستاون برس پہلے انیس سو انہتر میں یروشلم کی جیل میں رکھا گیا۔انھوں نے تب کے جو تجربات بتائے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ساتھ والے سیل میں اسرائیلی تفتیش کار ایک خاتون فلسطینی قیدی رمسیا اودے کو ٹارچر کا نشانہ بنا رہے تھے۔ رمسیا کو اعترافِ جرم پر مجبور کرنے کے لیے اسے برہنہ کر کے والد کے سامنے باندھ دیا گیا۔والد نے جب بیٹی کو اس حال میں دیکھا تو انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ یہ جس بیان پر بھی دستخط کروانا چاہتے ہیں کر دے بھلے تو نہ جرم کیا ہے یا نہیں۔مگر رمسیا نے اصرار کیا کہ وہ بے گناہ ہے۔ عبدالطیف غائت کے بقول رمسیا کو مسلسل کئی روز ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔لگ بھگ دس برس بعد ( انیس سو انہتر) رمسیا کو قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں رہائی نصیب ہوئی۔ رمسیا نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیٹی کے روبرو تفصیلی شہادت میں بتایا کہ کس طرح اسے ڈنڈوں سے ریپ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔اس کے نازک اعضا اور چہرے پر برقی جھٹکے دیے جاتے رہے ، باپ کے ہاتھوں ریپ کی دھمکیاں دی گئیں۔ رمسیا کی گواہی اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کا باضابطہ حصہ ہے۔ انیس سو اناسی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ٹارچر کی ممانعت کے عالمی کنونشن کی منظوری دی۔تاہم کنونشن کی منظوری کے سینتالیس برس The news comes at a time of heightened scrutiny on the issue.
آگے کی سڑک
یہاں تفصیلی پیش رفت ایک جاری کہانی کے صرف تازہ ترین باب کی نمائندگی کرتی ہے۔ جیسے جیسے مزید معلومات دستیاب ہوں گی، توقع کی جاتی ہے کہ صورتحال کی پیروی کرنے والوں کے لیے پوری تصویر زیادہ توجہ میں آئے گی۔
💬 Comments (0)
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Leave a Comment