جمعرات، 11 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
World

Trump attacked Iran out of frustration, Axios claims

ٹرمپ نے مایوس ہو کر ایران پر حملے کیے، ایکسیوس کا دعویٰ

Trump attacked Iran out of frustration, Axios claims

واشنگٹن ( 11 جون 2026): امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات میں تاخیر پر شدید مایوس ہو کر ایران پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق حملے کا سبب اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی بتایا گیا ہے لیکن پس منظر میں صدر ٹرمپ کی مایوسی اور غصہ بڑھ رہا تھا کہ ایران نے دو ہفتے گزرنے پر بھی امریکی تجاویز کا جواب نہیں دیا تھا۔ حملے امر

واشنگٹن ( 11 جون 2026): امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات میں تاخیر پر شدید مایوس ہو کر ایران پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق حملے کا سبب اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی بتایا گیا ہے لیکن پس منظر میں صدر ٹرمپ کی مایوسی اور غصہ بڑھ رہا تھا کہ ایران نے دو ہفتے گزرنے پر بھی امریکی تجاویز کا جواب نہیں دیا تھا۔ حملے امریکا کا اثر بڑھانے اور سفارتی برتری بحال کرنے کے لیے کیے گئے تاہم اس بات کا خیال رکھا گیا کہ جانی نقصان نہ ہو تاکہ ڈیل کا امکان ختم نہ ہو جائے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے سیچوایشن روم میں مختصرمدت میں بڑے حملے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران مذاکرات پر اپنی پوزیشن بدلے۔ وائٹ ہاؤس کے دو سینئر حکام کے مطابق، امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر اور ایرانی ڈرون کے درمیان تصادم اگرچہ حادثاتی تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیوں کو قبول نہ کرنے کا پیغام دینے کے لیے امریکا کا جواب دینا ضروری تھا۔ رپورٹ کے مطابق اسی دوران قطری ثالث تہران میں مذاکرات کر رہے تھے تاکہ بات چیت کو دوبارہ درست سمت میں لایا جا سکے اور باقی اختلافات کم کیے جا سکیں۔ بدھ کے روز جب قطری اور ایرانی حکام ملاقات کر رہے تھے، اس وقت ٹرمپ نے نئی دھمکیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا ’ ’ ہم آج پھر ان پر سخت حملہ کریں گے، اگر آپ نے نہیں دیکھا تو دیکھ لیں، کیوں کہ آپ نے ٹی وی نہیں دیکھا، اور پھر دیکھیں گے کہ معاہدے کا کیا ہوتا ہے۔ ‘ ‘ ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ ’ ’ ہمیں بے وقوف بنا رہا ہے ‘ ‘ اور مذاکرات میں وقت ضائع کر رہا ہے، جب کہ ایران کے صدر نے جواب میں کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیاں طاقت نہیں بلکہ بے بسی کی علامت ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ٹرمپ کے نمائندے اور علاقائی ثالث اب بھی معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم صدر کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا صبر ختم ہو رہا ہے۔ امریکی سینیٹر کرس ہولن کی پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف، ایران جنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا امریکی حملوں سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے ایک بار پھر ایران سے ٹرمپ کی تازہ تجویز پر واضح جواب لینے کی کوشش کی، لیکن کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق تہران کو واضح کر دیا گیا تھا کہ ’ ’ وقت ختم ہو رہا ہے۔ ‘ ‘ لیکن ایران نے جواب دیا کہ اس کے پاس ابھی حتمی جواب نہیں اور خبردار کیا کہ کسی امریکی حملے کی صورت میں وہ ردعمل دے گا، اور بعد میں اس نے محدود ردعمل دیا بھی۔ منگل کے روز شام تقریباً 5 بجے جب امریکی جنگی طیارے روانہ ہو رہے تھے، وائٹ ہاؤس نے ایران کو پیغام دیا کہ حملے صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا ’ ’ ہم نے ایران کو بتایا تھا کہ اگر پائلٹ مارے گئے ہوتے تو آج صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔ ‘ ‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر گزشتہ ماہ کے آخر میں ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدہ کر سکتے تھے اگر وہ اپنے نمائندوں کی طے کردہ شرائط مان لیتے۔ لیکن اس کی بجائے 29 مئی کی سچویشن روم میٹنگ کے بعد انھوں نے ایران کو ایک نئی تجویز بھیجی جس میں جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 2 ترامیم شامل تھیں۔ ان کی شرائط میں ایران کا 60 دن کے اندر افزودہ یورینیم کو کم سطح پر لانا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز پر ٹول یا رکاوٹ نہ ڈالنے کا وعدہ شامل تھا۔ بدلے میں ٹرمپ اس بات پر آمادہ تھے کہ یورینیم کی کمی ایران کے اندر ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( IAEA) کی نگرانی میں ہو سکتی ہے، جو ایک اہم لچک تھی کیوں کہ اس سے پہلے وہ اسے ملک سے باہر منتقل کرنے پر اصرار کرتے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثوں کو بتایا کہ انھیں جواب دینے کے لیے 4 سے 5 دن درکار ہوں گے، تاہم یہ عمل تقریباً 2 ہفتوں تک کھنچ گیا۔ اس دوران ٹرمپ میڈیا میں تنقید اور قدامت پسند حلقوں کی جانب سے نرم رویے کے الزامات پر مزید برہم ہوتے گئے۔ صورت حال اس وقت مزید پیچیدہ ہوئی جب ایران نے عوامی اور نجی طور پر مطالبہ کیا کہ منجمد اثاثے پہلے جاری کیے جائیں، جب کہ امریکا کا مؤقف تھا کہ یہ اقدامات پہلے ایرانی وعدوں کے بعد ہوں گے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق ٹرمپ ان بیانات سے ناراض تھے، تاہم امریکا کا مؤقف برقرار رہا کہ ایران اپنے ایٹمی مطالبات پر عمل شروع کرے تو اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز حاصل کر سکتا ہے۔ The development has drawn significant attention from observers and officials across the country.

The Outlook

The full consequences of what has taken place will unfold over time. For now, the story stands as a reminder of the complexity and consequence of the issues involved — and the importance of continued attention.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.