پیر، 3 اگست 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

When faith stands in defense of rivers!

جب ایمان دریاؤں کے دفاع میں کھڑا ہو!

When faith stands in defense of rivers!

بعض اوقات کوئی مذہبی فتویٰ یا حکم محض دینی اور فقہی دائرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اجتماعی اخلاقیات کی ایک مضبوط آواز بن جاتا ہے۔ عراق کے دریاؤں میں غیر صاف شدہ سیوریج، طبی فضلہ، صنعتی کچرا اور زہریلے کیمیائی مادے پھینکنے کو حرام قرار دینے کا آیت اللہ العظمیٰ علی الحسینی سیستانی کا حالیہ فتویٰ بھی ایسا ہی ایک تاریخی اقدام ہے۔ بظاہر یہ کسی مخصوص ماحو

New information has come to light as بعض اوقات کوئی مذہبی فتویٰ یا حکم محض دینی اور فقہی دائرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اجتماعی اخلاقیات کی ایک مضبوط آواز بن جاتا ہے۔ عراق کے دریاؤں میں غیر صاف شدہ سیوریج، طبی فضلہ، صنعتی کچرا اور زہریلے کیمیائی مادے پھینکنے کو حرام قرار دینے کا آیت اللہ العظمیٰ علی الحسینی سیستانی کا حالیہ فتویٰ بھی ایسا ہی ایک تاریخی اقدام ہے۔ بظاہر یہ کسی مخصوص ماحولیاتی مسئلے سے متعلق ایک مذہبی حکم دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی اہمیت کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان جدید معاشروں کو درپیش سنگین ترین مسائل کے حل کی ایک مؤثر قوت بن سکتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ماحولیاتی تباہی عوامی صحت، معاشی استحکام اور پوری قوموں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے، آیت اللہ سیستانی نے واضح کیا ہے کہ اکیسویں صدی میں روشن خیال مذہبی قیادت کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ کئی دہائیوں سے مسلم دنیا میں مذہبی گفتگو کا بڑا حصہ ایسے موضوعات کے گرد گھومتا رہا ہے جو تنازعات تو پیدا کرتے ہیں، مگر عام انسان کی روزمرہ زندگی اور معمولات میں بہتری لانے میں ان کا کردار محدود رہتا ہے۔ فرقہ وارانہ اختلافات، مسلکی کشمکش اور سیاسی بحثوں پر توانائی صرف کی جاتی رہی ہے، مگر آلودہ پانی، زہریلی فضا، جنگلات کی کٹائی، کچرے کی تلفی کے ناقص انتظامات، جہالت، بدعنوانی اور غربت جیسے مسائل جو براہِ راست لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، شاذ و نادر ہی اس شدت کے ساتھ مذہبی اور اخلاقی توجہ حاصل کر سکے ہیں۔ آیت اللہ سیستانی کی مداخلت نے اس گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ماحولیاتی تباہی کو مذہبی اور اخلاقی خلاف ورزی قرار دے کر انہوں نے اہلِ ایمان کو یاد دلایا ہے کہ اسلام محض عبادات، رسومات اور فقہی جزئیات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک جامع اخلاقی نظام ہے، جس کی بنیاد انصاف، ذمہ داری اور انسانوں سمیت پوری کائنات کی فلاح پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو زمین پر خلیفہ اور نگہبان قرار دیتا ہے۔ نگہبانی اور ملکیت میں بنیادی فرق ہے۔ نگہبانی کا تصور ذمہ داری، جواب دہی اور امانت کا تقاضا کرتا ہے۔ انسان کو فطرت کے بے لگام استحصال کا اختیار نہیں دیا گیا بلکہ اسے زمین اور اس کے وسائل کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس تناظر میں آبادیوں کی زندگی برقرار رکھنے والے دریاؤں کو زہر آلود کرنا، منافع کی خاطر قدرتی نظام تباہ کرنا اور آنے والی نسلوں کی زندگی خطرے میں ڈالنا محض ماحولیاتی جرائم نہیں رہتے بلکہ ایک مقدس امانت میں خیانت بن جاتے ہیں۔ یہ تصور اسلامی تعلیمات میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید بار بار زمین میں فساد اور تباہی پھیلانے کی مذمت کرتا ہے۔ آلودگی، ماحولیاتی تنزلی اور قدرتی وسائل کا بے رحمانہ استحصال صرف تکنیکی اور انتظامی ناکامیاں نہیں بلکہ اس گہرے اخلاقی عدم توازن کی علامتیں ہیں جو آج انسانی معاشروں میں پیدا ہو چکا ہے۔ اس لیے ماحول کی نگہبانی کوئی درآمد شدہ جدید تصور نہیں، جسے زبردستی مذہب سے جوڑ دیا گیا ہو؛ یہ خود اسلامی اخلاقیات کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ آیت اللہ سیستانی کے حکم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے مذہبی ذمہ داری کے اس پہلو کو دوبارہ زندہ کیا ہے جو طویل عرصے سے نظرانداز ہوتا آیا ہے۔ تاریخی طور پر منبر صرف مذہبی تعلیم دینے کی جگہ نہیں تھا بلکہ اجتماعی اخلاق، سماجی ذمہ داری اور عوامی شعور کی تربیت کا ایک اہم ادارہ بھی تھا۔ مذہبی قیادت اپنی بہترین صورت میں معاشرے کو انصاف، رحم، صفائی، عوامی بہبود اور اجتماعی بھلائی کی طرف رہنمائی کرتی تھی۔ سب سے زیادہ احترام ان علما کو حاصل ہوتا تھا جو محض نظری اور تجریدی اختلافات میں الجھنے کے بجائے معاشرے کو درپیش عملی مسائل پر توجہ دیتے تھے۔ آیت اللہ سیستانی کا یہ فتویٰ اسی روشن روایت کی توسیع ہے۔ انہوں نے کسی نئے مسلکی اختلاف پر فیصلہ صادر کرنے کے بجائے اپنے عظیم اخلاقی اور مذہبی اثر و رسوخ کو ایک ایسے مسئلے کے لیے استعمال کیا ہے جو ہر عراقی شہری کو متاثر کرتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی فرقے، نسل یا سیاسی جماعت سے ہو۔ آلودہ پانی کسی فرقہ میں تمیز نہیں کرتا۔ زہریلا فضلہ کسی مذہبی یا مسلکی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔ ماحولیاتی تباہی ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس کا مقابلہ بھی اجتماعی طور پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس حکم کا شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ محض اخلاقی نصیحت تک محدود نہیں بلکہ جواب دہی کے اصول کو بھی سامنے لاتا ہے۔ آیت اللہ سیستانی نے واضح کیا ہے کہ دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کرنے والے افراد عوامی صحت اور ماحول کو شدید نقصان پہنچانے کے باعث گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ انہیں اپنے پیدا کردہ نقصان کی قانونی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑ سکتی ہے۔ یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے۔ ماحولیاتی تباہی کو اکثر ترقی کا ناگزیر نتیجہ یا انتظامی غفلت کا معمولی ضمنی اثر سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ آیت اللہ سیستانی کا یہ بیان اس بے حسی کو مسترد کرتا ہے۔ ماحولیاتی نقصان کو اخلاقی جرم اور قانونی ذمہ داری دونوں سے جوڑ کر انہوں نے اس اصول کی توثیق کی ہے جس کی پوری مسلم دنیا کو فوری ضرورت ہے: آلودگی کے ذریعے انسانی آبادیوں کی صحت اور فلاح کو خطرے میں ڈالنے والوں کو نہ صرف اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے بلکہ قانون کے کٹہرے میں بھی لایا جانا چاہیے۔ اسی وجہ سے اس حکم کی اہمیت عراق کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ پوری مسلم دنیا میں ماحول کی تباہی تشویش ناک حدوں تک پہنچ چکی ہے۔ جن دریاؤں نے کبھی عظیم تہذیبوں کو جنم دیا تھا، آج ان میں سیوریج اور صنعتی فضلہ بہایا جا رہا ہے۔ شہر خطرناک فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ جنگلات سکڑ رہے ہیں، حیاتیاتی تنوع ختم ہو رہا ہے اور پلاسٹک کا فضلہ دنیا کے دور دراز قدرتی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی خطے میں سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور پانی کی قلت کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ بحران کی اس شدت کے باوجود ماحولیاتی اخلاقیات کو آج بھی مرکزی مذہبی گفتگو میں خاطر خواہ جگ The story is expected to develop further.

The Road Ahead

The developments detailed here represent only the latest chapter in an ongoing story. As more information becomes available, the full picture is expected to come into sharper focus for those following the situation.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.