اتوار، 21 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

Why NADRA removed multiple login facility on Pak ID app?

نادرا نے پاک آئی ڈی ایپ پر ملٹیپل لاگ ان کی سہولت کیوں ختم کر دی؟

Why NADRA removed multiple login facility on Pak ID app?

اسلام آباد ( 21 جون 2026): نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) نے پاک آئی ڈی ایپ پر ملٹیپل لاگ ان کی سہولت ختم کرنے کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پیش کر دیا۔ ترجمان نادرا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاک آئی ڈی ایپ پر ایک موبائل ڈیوائس سے غیر متعلقہ متعدد شہریوں کے اکاؤنٹس چلانے پر پابندی شہریوں کی ڈیجیٹل شناخت، ذاتی معلومات، بائیوم

اسلام آباد ( 21 جون 2026): نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) نے پاک آئی ڈی ایپ پر ملٹیپل لاگ ان کی سہولت ختم کرنے کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پیش کر دیا۔ ترجمان نادرا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاک آئی ڈی ایپ پر ایک موبائل ڈیوائس سے غیر متعلقہ متعدد شہریوں کے اکاؤنٹس چلانے پر پابندی شہریوں کی ڈیجیٹل شناخت، ذاتی معلومات، بائیومیٹرکس، خاندانی ریکارڈ، او ٹی پی، تصاویر، ادائیگیوں، ڈیجیٹل آئی ڈی اور قابلِ تصدیق ڈیجیٹل اسناد کے تحفظ کیلیے ایک لازمی قانونی اور تکنیکی اقدام ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ پچھلے چند دنوں سے کچھ افراد، جو خود ساختہ ایجنٹ بن کر عوام سے بھاری فیسیں وصول کر رہے تھے، یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاک آئی ڈی ایپ پر ایک موبائل ڈیوائس سے غیر متعلقہ متعدد شہریوں کے اکاؤنٹس چلانے پر پابندی کی وجہ سے پاک آئی ڈی سروس رک گئی ہے یا شہریوں کی سہولت ختم ہوگئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاک آئی ڈی کے ذریعے روزانہ 20,000 سے زائد درخواستیں کامیابی سے پراسیس ہو رہی ہیں، اس لیے ’ سسٹم ناکام ‘ یا ’ عوام کا کام رک گیا ‘ جیسے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، اگر کسی شہری کو کوئی انفرادی تکنیکی مسئلہ درپیش ہے تو وہ نادرا کے مجاز شکایتی نظام یا قریبی نادرا مرکز سے رجوع کر سکتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: شہری اپنی نادرا بائیو میٹرک ہسٹری پر خود نظر رکھیں، لیکن کیسے؟ ترجمان نے بتایا کہ نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت نادرا کی قانونی ذمہ داری ہے، قانون ادارے کو پابند کرتا ہے کہ رجسٹریشن نظام، ڈیٹا بیس، ڈیٹا ویئر ہاؤس، نیٹ ورکنگ اور ان میں موجود معلومات کی سلامتی، رازداری اور تحفظ کو یقینی بنائے، اس لیے نادرا کسی بھی ایسے طریقۂ کار کی اجازت نہیں دے سکتا جس کے نتیجے میں شہریوں کا حساس شناختی ریکارڈ غیر مجاز افراد کے ذاتی موبائل فونز پر تجارتی استعمال کیلیے دستیاب ہو جائے۔ نادرا قوانین کیا کہتے ہیں؟ ’ یہ بات بھی واضح رہے کہ نادرا آرڈیننس کی دفعہ 28 کے تحت غیر مجاز طور پر کسی شہری کی شناختی معلومات حاصل کرنا یا کسی دوسرے غیر مجاز شخص تک پہنچانا قابلِ سزا جرم ہے، جس کی سزا پانچ سال تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دفعہ 29 کے تحت نادرا کے ڈیٹا بیس، ڈیٹا ویئر ہاؤس، نیٹ ورکنگ نظام یا ان میں موجود ڈیٹا اور معلومات کے ساتھ غیر مجاز استعمال، رسائی یا چھیڑ چھاڑ سنگین جرم ہے، جس کی سزا چودہ سال تک قیدِ بامشقت، کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ، یا دونوں ہو سکتے ہیں۔ ‘ مزید برآں، نادرا آرڈیننس کی دفعہ 30 کے تحت جھوٹی معلومات فراہم کرنا، غلط بیانی کرنا، غلط تصدیق کرنا، شناختی معلومات یا دستاویزات کا ناجائز استعمال کرنا، یا کسی ایسے عمل میں ملوث ہونا جو شہری کی شناخت کے بارے میں دھوکہ دہی یا گمراہ کن تاثر پیدا کرے، بھی قابلِ سزا جرم ہے، قانون کے مطابق ایسے جرائم پر قید اور جرمانے کی سزائیں دی جا سکتی ہیں، دفعہ 31 کے تحت ان جرائم پر قانونی کارروائی نادرا یا اس کے مجاز افسر کی تحریری شکایت پر شروع کی جا سکتی ہے، جبکہ دفعہ 32 کے تحت ان مقدمات کا باقاعدہ ٹرائل عدالت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ’ لہٰذا ایک نجی موبائل فون کو غیر متعلقہ شہریوں کی درخواستوں، او ٹی پی، بائیومیٹرکس، تصاویر، خاندانی معلومات اور ڈیجیٹل اسناد کیلیے غیر رسمی ’ سروس کاؤنٹر ‘ بنانا نہ عوامی سہولت ہے، نہ قانوناً قابلِ قبول عمل، بلکہ یہ شہریوں کی شناخت، رازداری، مالی تحفظ اور مستقبل کے ڈیجیٹل اعتماد کیلیے واضح خطرہ ہے۔ ‘ ترجمان کے مطابق نادرا کو اس حقیقت کا پورا ادراک ہے کہ ہر شہری یا خاندان کے ہر فرد کے پاس اپنا اسمارٹ فون موجود نہیں ہوتا، لہٰذا نادرا نے کوئی جائز سہولت ختم نہیں کی، قریبی اہلِ خانہ کیلیے ایک ہی اسمارٹ فون سے خاندان کے کسی بھی فرد کی درخواست کی پراسیسنگ کی سہولت پوری طرح موجود ہے، لگائی گئی پابندی کا مقصد والدین، بچوں یا قریبی خاندان کو مشکل میں ڈالنا نہیں، بلکہ غیر متعلقہ افراد اور خود ساختہ ایجنٹوں کو غیر مجاز طور پر اضافی فیس وصول کرنے اور شہریوں کے حساس ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ نادرا ایسے تمام افراد، گروہوں یا خود ساختہ ایجنٹوں کے خلاف، جو شہریوں کے پاک آئی ڈی اکاؤنٹس، او ٹی پی، بائیومیٹرک تصدیق، تصاویر، خاندانی ریکارڈ، ڈیجیٹل شناختی معلومات یا قابلِ تصدیق ڈیجیٹل اسناد تک غیر مجاز رسائی، تجارتی استعمال، غلط استعمال یا شہریوں سے اضافی رقوم وصول کرنے میں ملوث پائے گئے، نادرا آرڈیننس، 2000، انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ، 2016، اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کیلیے باضابطہ شکایات اور ایف آئی آرز وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھجوانے کی قانونی طور پر پابند ہے اور اس کا بھرپور ارادہ رکھتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ادارہ شہریوں سے بھی درخواست کرتا ہے کہ اپنا پاک آئی ڈی اکاؤنٹ، پاس ورڈ، او ٹی پی، بائیومیٹرک تصدیق، تصاویر، خاندانی ریکارڈ، ڈیجیٹل آئی ڈی، قابلِ تصدیق ڈیجیٹل اسناد یا ادائیگی کی تفصیلات کسی غیر مجاز فرد کے ساتھ شیئر نہ کریں، کوئی بھی شخص یا گروہ اگر شہریوں کی درخواستیں اپنے ذاتی موبائل فونز سے تجارتی بنیادوں پر پراسیس کر رہا ہے، شہریوں سے غیر قانونی یا اضافی رقوم وصول کر رہا ہے، یا ان کے شناختی ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کر رہا ہے، تو ایسے افراد کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف نادرا آرڈیننس، 2000 اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت کارروائی شروع کی جا سکے۔ The announcement is expected to have broad implications in the days ahead.

The Road Ahead

The situation is far from resolved, and additional details are expected to emerge as the story develops. Officials have indicated that further statements may be forthcoming, and observers will be watching closely.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.