پیر، 15 جون 2026
صفحہ اول 🔍 تلاش ہمارے بارے میں رابطہ
General

The next sixty days

اگلے ساٹھ دن

The next sixty days

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالہ سے ایک مفاہتی یادداشت پر اتفاق ہو گیا ہے۔ جس کے تحت دونوں ساٹھ روز کی جنگ بندی پر مان گئے ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت پر 19جون کو جنیوا میں دستخط ہوں گے۔ امریکا اور ایران دونوں نے اس مفاہمتی یادداشت کی توثیق کر دی ہے۔ اس کے مکمل اور صحیح مندرجات دستخط کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ ابھی دونوں طرف سے اپنی اپنی مرض

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالہ سے ایک مفاہتی یادداشت پر اتفاق ہو گیا ہے۔ جس کے تحت دونوں ساٹھ روز کی جنگ بندی پر مان گئے ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت پر 19جون کو جنیوا میں دستخط ہوں گے۔ امریکا اور ایران دونوں نے اس مفاہمتی یادداشت کی توثیق کر دی ہے۔ اس کے مکمل اور صحیح مندرجات دستخط کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ ابھی دونوں طرف سے اپنی اپنی مرضی کے نکات لیک کیے جا رہے ہیں۔ جیسے ٹرمپ کے لیے آبنائے ہر مز کو کھولنا اہم ہے تو وہ اس کی بات کر رہے ہیں کہ آبنائے ہر مز فوری کھل جائے گی۔ ایران کے لیے امریکا کی ناکہ بندی کھلنی اہم ہے تو ایران ناکہ بندی کھلنے کی بات کر رہا ہے۔ دونوں طرف سے اپنے اپنے نکات بتائے جا رہے ہیں۔ حقیقی متن تادم تحریر میرے سامنے نہیں ہے۔ ایران کو پیسے ملنے والی بات میں بہت ابہام ہے۔ امریکا اس کو مان نہیں رہا۔ ایران اس سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں فریقین نے کوئی درمیان کا راستہ ڈھونڈ لیا ہوا ہے۔ جس میں دونوں کی عزت رہ جائے۔ ایران کہے مل گئے، امریکا کہے ہم نے نہیں دیے اور دونوں کا مقصد حل ہو جائے۔ جہاں تک نیوکلیئر کی بات ہے، وہ بھی طے ہی نظر آرہی ہے۔ جب امریکا افزودہ یورینیم ساتھ لے جانے کی ضد سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور ایران میں ہی اس کو حل کیا جائے گا اس پر بات طے ہوگئی ہے۔ ایران کی یہی شرط تھی اور وہ امریکا نے مان لی ہے۔ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا۔ یہ بات ایران پہلے بھی کہنے کو تیار تھا، اب بھی تیار ہے۔ اس میں کوئی تنازعہ والی بات نہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس سفارتکاری نے عالمی سیاست میں پاکستان کا وقار اور کردار بہت بلند کیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو معرکہ حق کے بعد دنیا میں ایک جنگی جرنیل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جو جنگ جیت سکتا ہے۔ اب انھیں ایک امن کے نمایندہ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو جنگ رکوا بھی سکتا ہے۔ پہلے جنگ جیتنے والے جنرل تھے اب امن کے بھی جنرل بن گئے ہیں۔ ان کی بین الاقوامی ساکھ اور عالمی ریٹنگ میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ان کے دشمنوں کو چاہے یہ بات اچھی نہ لگے لیکن انھوں نے عالمی سیاست میں کم عرصہ میں بہت اہم مقام بنا لیا ہے۔ جس سے اب کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف کی عالمی ساکھ میں بھی بہت اضافٖہ ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ ان کے ٹوئٹس کو ری ٹوئٹ کر رہے ہیں۔ شہباز شریف کی بات کی ٹرمپ اور ایران دونوں توثیق کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے اس سفارتکاری کے دوران کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ طویل بات چیت کی ہے اور اپنی بہترین سفارتکاری کا لوہا منوایا ہے۔ انھوں نے ٹرمپ کو اپنا بھی گرویدہ کیا ہے۔ ٹرمپ ان کے ذکر کے بغیر اب بات مکمل نہیں کرتے۔ انھوں نے عالمی سطح پر ثابت کیا ہے کہ وہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ٹیم ہیں اور پاکستان ایک ٹیم کے طور پر بہترین سفارتکاری جانتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں شہباز شریف کی بہترین سفارتکاری اور ٹیم ورک کو جہاں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، وہاں پاکستان میں بھی تمام مکاتب فکر انھیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ امریکا اور ایران کے ساتھ کافی حد تک فیلڈ مارشل بات کر رہے تھے۔ لیکن اس دوران بھی جہاں ڈیڈ لاک آیا شہباز شریف نے ایرانی صدر سے انتہائی نازک مواقع پر طویل بات کی جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس مفاہمتی یادداشت کے بعد بھی ابھی ثالثوں کا کردار ختم نہیں ہوا ہے۔ اگلے ساٹھ دن بہت اہم ہوں گے۔ پاکستان کا اس میں اہم کردار ہوگا۔ ان ساٹھ دنوں میں بات چیت کو قائم رکھنا اور ایک حقیقی امن معاہدہ تک پہنچانا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ جو جنگ میدان جنگ میں کوئی نہیں جیت سکا وہ مذاکرات کی میز پر جیتنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایران جو کچھ جنگ سے نہیں حاصل کر سکا مذاکرات میں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ ایک نازک صورتحال ہوگی۔ اس سارے عمل کو پہلے بھی اسرائیل نے خراب کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کافی تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ اب بھی ان ساٹھ دنوں میں اس کو خراب کرنے کی بہت کوششیں ہوں گی۔ جن کو ناکام بنانے کے لیے ایک متحدہ کوشش کی ضرورت ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ عربوں کے مثبت کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی عرب نے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب اپنی عرب سیاست کی وجہ سے سامنے نہیں آیا۔ کیونکہ جی سی سی ممالک پر ایرانی حملہ ہو رہے تھے۔ اس لیے سعودی عرب کے لیے کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔ لیکن سعودی عرب نے جنگ کو پھیلنے سے روکنے میں پاکستان کا ناقابل یقین ساتھ دیا ہے۔ سعودی عرب جب پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگیا تب ہی جنگ پھیلنے سے رک گئی۔ ورنہ متحدہ عرب امارات اس جنگ کو پھیلنے کے حامی نظر آرہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ عرب ممالک بھی جواب میں ایران پر حملے کر دیں۔ لیکن پاکستان اور سعودی عرب نے اس کو روکا۔ جس کی وجہ سے جنگ محدود رہی اور اسرائیل کے بہت سے مقاصد ناکام ہو گئے۔ آج وہی متحدہ عرب امارات بھی تہران پہنچ چکا ہے۔ آج قطر بھی ثالثی کا حصہ ہے۔ اس لیے عربوں کے اندر بھی اس جنگ کے بعد سوچ میں ایک بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ جس میں بھی پاکستان کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ سب سے پہلے صرف پاکستان کہہ رہا تھا کہ عربوں کو ایران سے نہیں لڑنا چاہیے۔ جب ایران عربوں پر حملے کر رہا تھا اور عرب جوابی حملوں کی سوچ رہے تھے۔ آج عربوں اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کا ایک الگ عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف کویت اور بحرین کا معاملہ باقی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ایران کی بات کافی حد تک مانی گئی ہے۔ لبنان میں بھی امن اس معاہدہ کا حصہ ہے۔ غزہ میں امن بھی اس کا حصہ ہے جو کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔ ان کامیابیوں کو اب عملی شکل دینے کے لیے ایران کو سیاسی اور سفارتکاری کی سمجھداری دکھانی ہوگی۔ یہ کھیل جو بظاہر ایران نے جیت لیا ہے، اس جیت کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا۔ عرب ممالک جن کو پہلی دفعہ ایران کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے، ان کو ساتھ ملانا ہوگا۔ جتنا عرب اور ایرا The latest findings add a new dimension to an already closely watched situation.

What Happens Next

Key actors in this story have not yet issued final statements, and the situation remains fluid. Updates will be reported as they become available, with the expectation that more information will emerge soon.

🔒
Stay Safe Online — NordVPN Protect your privacy & browse securely. Trusted by millions worldwide. Special deal available.
Get NordVPN →

💬 Comments (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Leave a Comment

ℹ️ Comments are moderated and will appear after approval.